Thursday, 15 January 2026

کھلاڑیو کوچ کے ووٹ کی طاقت: پاکستانی کھیلوں میں اصل اصلاح کا آئینی اور عالمی ماڈل.

 


【The English version is available in the latter part of the article.】

 کھلاڑیو کوچ کے ووٹ کی طاقت: پاکستانی کھیلوں میں اصل اصلاح کا آئینی اور عالمی ماڈل

پاکستان میں کھیلوں کے بحران پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو عموماً بات بدانتظامی، کرپشن، گروپ بندی اور ناکامیوں تک محدود رہتی ہے، مگر اصل سوال شاذ و نادر ہی اٹھایا جاتا ہے:

فیڈریشنز آخر جواب دہ کس کے سامنے ہیں؟

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں بیشتر اسپورٹس فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز ایک ایسے بند دائرے میں کام کر رہی ہیں جہاں اقتدار چند افراد، خاندانوں یا گروہوں کے گرد گھومتا ہے، جبکہ جن کے لیے یہ ادارے قائم کیے گئے — یعنی کھلاڑی، کوچز اور آفیشلز — وہ فیصلہ سازی کے عمل سے عملاً باہر ہیں۔ یہی بنیادی خرابی پورے نظام کو کھوکھلا کر چکی ہے۔

آئینی اور قانونی بنیاد

پاکستان کا آئین شہریوں کو آزادیٔ انجمن سازی، منصفانہ نمائندگی اور شفاف عمل کا حق دیتا ہے۔ اگرچہ اسپورٹس فیڈریشنز خود مختار ادارے سمجھے جاتے ہیں، مگر جب یہ ادارے عوامی فنڈز، ریاستی سہولیات اور قومی شناخت استعمال کرتے ہیں تو ان پر شفافیت، جوابدہی اور گڈ گورننس لازم ہو جاتی ہے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ ایکٹ اور اس سے منسلک رولز پاکستان اسپورٹس بورڈ کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ:

فیڈریشنز کے آئین کا جائزہ لے

گورننس اسٹرکچر میں اصلاحات تجویز کرے

شفاف انتخابات اور نمائندہ نظام کو یقینی بنائے

یہی وہ آئینی اور قانونی فریم ورک ہے جس کے تحت پاکستان اسپورٹس بورڈ آج ایک تاریخی کردار ادا کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی اسپورٹس گورننس ماڈلز

دنیا کے ترقی یافتہ اسپورٹس سسٹمز میں ایک اصول مشترک ہے:

Athlete-Centered Governance

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) اولمپک موومنٹ میں ایتھلیٹس کمیشن کو فیصلہ سازی کا لازمی حصہ قرار دیتی ہے۔

فیفا اور یوفا میں کھلاڑیوں کی نمائندگی اور کلب بیسڈ ووٹنگ ماڈلز نافذ ہیں۔

ورلڈ ہاکی میں قومی فیڈریشنز کے لیے شفاف، قابلِ تصدیق اور نمائندہ الیکٹورل کالج کو بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔

کامن ویلتھ اور یورپی اسپورٹس چارٹرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کھیلوں کے ادارے براہِ راست اسٹیک ہولڈرز کے سامنے جواب دہ ہوں۔

ان تمام ماڈلز میں ایک چیز مشترک ہے:

طاقت اوپر سے نیچے نہیں، نیچے سے اوپر جاتی ہے۔

پاکستان کے لیے قابلِ عمل ماڈل 

پاکستان میں بھی اصلاح کا راستہ واضح ہے، اگر نیت ہو:

ہر سطح کے رجسٹرڈ کھلاڑی، کوچز اور ٹیکنیکل آفیشلز کو ووٹ کا حق دیا جائے

فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کا الیکٹورل کالج افراد نہیں بلکہ فعال اسپورٹس کمیونٹی پر مشتمل ہو

ووٹر لسٹ، کلب ڈیٹا اور رجسٹریشن کا عمل  ایک یونیورسل ایپ کے ذریعے قابلِ احتساب اور ڈیجیٹل ھو جو  ریاستی  نگرانی میں ایماندار اور مخلص لوگ کریں۔

کلب اور سکول لیول تک کے کھلاڑیوں ، کوچز اور آفیشلز کو رجسٹرڈ کیا جاۓ اور جو جس جسطح کا کھلاڑی، کوچ یا آفیشل ھے اسے  ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔

نمائندوں کی مدت، کارکردگی اور احتساب کو ووٹ سے مشروط کیا جائے

جب ووٹ کھلاڑی اور کوچ کے ہاتھ میں ہو گا تو کوئی عہدیدار: کھلاڑیوں کے حقوق پامال نہیں کر سکے گا

من پسند فیصلے مسلط نہیں کر سکے گا

اور نہ ہی عہدے کو ذاتی جاگیر بنا سکے گا

کیونکہ ووٹ سے آنے والا نمائندہ ووٹ سے ہی جائے گا — یہی اصل احتساب ہے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کا فیصلہ کن کردار

آج پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ماضی کے نیم حل، وقتی سمجھوتوں اور شخصیات کے گرد گھومتے فیصلوں سے نکل کر ایک مستقل اور پائیدار گورننس ماڈل متعارف کروائے۔ پاکستان ھاکی  کے بحران کو بنیادی ماڈل کے طور پر لیا جا سکتا ھے جو بعد میں تمام کھیلوں  کے لئے ممکن بنایا جا سکتا ھے۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو کھیلوں کا بحران وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہو گا۔

یہ اصلاح صرف ہاکی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ:

کرکٹ کے علاوہ تمام کھیلوں

صوبائی اور قومی فیڈریشنز

اور مستقبل کے اسپورٹس کلچر

کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔

یہ وقت من پسند افراد کو بچانے کا نہیں بلکہ نظام کو بچانے کے بجائے اصلاحات کا ہے۔

یہ وقت عہدوں کی سیاست کا نہیں، کھلاڑی،کوچ اور آفیشل  کی آواز سننے کا ہے جو میدان میں ہمہ تن گوش رہتے ھیں۔

اور یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، ووٹ کی طاقت کو تسلیم کرنے کا ہے۔

اگر پاکستان نے واقعی کھیلوں کو زندہ کرنا ہے تو فیصلہ سادہ ہے:

فیصلہ کھلاڑی کے ہاتھ میں دیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

شاہد الحق ایک سینئر اسپورٹس جرنلسٹ، اسپورٹس اینالسٹ اور اسپورٹس ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ ہیں۔ وہ سابق نیشنل لیول باسکٹ بال پلیئر، مختلف قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ، اور پاکستان میں متعدد بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کے آرگنائزر رہ چکے ہیں۔ بطور CEO اور ہوسٹ SPOFIT پلیٹ فارم کے ذریعے وہ کھیلوں میں شفافیت، گڈ گورننس اور کھلاڑی مرکز اصلاحات کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment