Monday, 25 August 2025

باڈی بلڈنگ فیڈریشن: طاقت یا سیاست؟ فکر انگیز لمحات For Sports Link


 باڈی بلڈنگ فیڈریشن: طاقت یا سیاست؟ فکر انگیز لمحات!


تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق


پاکستان میں باڈی بلڈنگ اس وقت آئینے کے سامنے کھڑی ہے، مگر اسے اپنی پہچان نظر نہیں آتی۔ ایک طرف کئی دہائیوں کی شاندار تاریخ ہے، قومی و بین الاقوامی کامیابیاں ہیں اور اسٹیج پر تالیوں کی گونج ہے، تو دوسری طرف فیڈریشنز کے جھگڑے، قانونی جنگیں، PSB اور POA کے درمیان کھینچا تانی اور سب سے بڑھ کر ڈوپنگ کا بدنما داغ ہے۔ یہ کھیل جس نے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچا، آج سمت کے بحران کا شکار ہے۔


پاکستان میں کھیلوں کی دو بڑی قوتیں ہیں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) جو حکومتی ادارہ ہے، اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) جو بین الاقوامی طور پر اولمپک کونسل آف ایشیا (OCA) اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کی نمائندہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ PSB نے ایک ایسے گروپ کو تسلیم کر رکھا ہے جس کی POA یا OCA سے کوئی وابستگی نہیں، جبکہ وہ فیڈریشن جو تاریخی طور پر 1957 سے عالمی ادارے IFBB سے جڑی ہوئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کھلاڑیوں کو نمائندگی دلا رہی ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ یہ نہ صرف کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پاکستان کی کھیلوں کی سفارتکاری کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ باڈی بلڈنگ اب سو فیصد ڈرگ بیس کھیل سمجھا جانے لگا ہے۔ کوئی بڑا مقابلہ ایسا نہیں جہاں کھلاڑیوں پر ڈوپنگ کے سائے نہ ہوں۔ پاکستان میں متعدد باڈی بلڈرز کم عمری میں سٹیرائیڈز کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ PSB اور نیشنل اینٹی ڈوپنگ اتھارٹی کئی بار ایسے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا چکے ہیں مگر یہ سلسلہ تھم نہیں رہا۔ کھلاڑی خود کو ’’نیچرل‘‘ کہتے ہیں لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور فیڈریشنز کو سخت فیصلے لینے ہوں گے۔


اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کی نمائندگی کا حق کس کو دیا جائے۔ اگر کوئی فیڈریشن POA اور OCA سے منسلک ہے اور IFBB کی سرپرستی میں عالمی مقابلوں میں تسلیم شدہ ہے تو اسی کو پاکستان کی نمائندہ فیڈریشن ہونا چاہیے۔ PSB کی جانب سے محض اپنے انتخابات کرا کے کسی گروپ کو مسلط کرنا، کھلاڑیوں کو مزید تقسیم اور کنفیوژن میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ POA، PSB اور ایک آزاد ثالثی فورم مل کر شفاف طریقہ کار طے کریں اور ایک ہی فیڈریشن کو بااختیار قرار دیں۔


دوسرا اہم قدم اینٹی ڈوپنگ کا ہے۔ جس فیڈریشن کو بھی تسلیم کیا جائے اسے ایک باقاعدہ اینٹی ڈوپنگ پلان دینا ہوگا، جس میں ٹریننگ کیمپس، صوبائی اور قومی سطح پر لازمی ٹیسٹنگ، کھلاڑیوں کی آگاہی ورکشاپس اور غیر مشروط سزائیں شامل ہوں۔ جب تک ہم یہ قدم نہیں اٹھاتے، دنیا ہمیں سنجیدہ کھیلوں کے ملک کے طور پر قبول نہیں کرے گی۔


تیسرا قدم شفافیت ہے۔ فیڈریشن کو اپنے اکاؤنٹس، آئین اور ممبرشپ لسٹ ویب سائٹ پر ڈالنی ہوگی۔ انتخابات آزاد مبصرین کی موجودگی میں ہوں اور میڈیا کو دیکھنے دیا جائے۔ جب تک سورج کی روشنی کاغذوں پر نہیں پڑے گی، الزامات اور بداعتمادی ختم نہیں ہوگی۔


آخری اور سب سے ضروری قدم کھلاڑیوں کی صحت کا تحفظ ہے۔ ہر مقابلے میں میڈیکل آفیسر، ایمرجنسی سہولت اور باقاعدہ رجسٹرڈ کوچز موجود ہوں۔ کھلاڑیوں کو اسٹیج پر لانے سے پہلے ان کی فٹنس اور صحت کی جانچ لازمی ہو۔ ہم نے بہت سے نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھوتے دیکھے ہیں، اب مزید جانیں ضائع نہیں ہونی چاہیئیں۔


پاکستان میں باڈی بلڈنگ کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایک تاریخی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فیڈریشن کو تسلیم کیا جائے، ڈوپنگ کو جڑ سے ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور کھلاڑیوں کو فیڈریشنز کی جنگوں سے الگ کر کے ان کے خواب پورے کرنے دیے جائیں۔ ورنہ یہ کھیل ہمیشہ کے لیے تقسیم اور بدنظمی کا شکار رہے گا۔


 شاہد الحق

اسپورٹس فلانتھراپسٹ، سابق نیشنل باسکٹ بال پلیئر،قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ اور سینئر  سپورٹس جرنلسٹ و رائٹر،

چیف ایگزیکٹو/ہوسٹ: SPOFIT یوٹیوب چینل

رابطہ کریں


 فون نمبر: 03335161425

 ای میل: spofit@gmail.com

یوٹیوب چینل: www.youtube.com/SPOFIT

باسکٹ بال لیگ معطل، فیڈریشن قوانین کی پاسداری کی شرط For Sports Link

 


باسکٹ بال لیگ معطل، فیڈریشن قوانین کی پاسداری کی شرط


تحریر: کھیل دوست، شاہدالحق


راولپنڈی میں کئی برسوں بعد ایک بار پھر باسکٹ بال کی رونقیں لوٹ آئیں۔ "نیکسٹ جنریشن باسکٹ بال لیگ" کے نام سے ایک خوبصورت ایونٹ شروع ہوا جس میں شہر کے بارہ سے زائد کلبس شریک تھے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی خوشی دیدنی تھی اور شائقین کو بھی اُمید تھی کہ یہ لیگ نئے ٹیلنٹ کو اُجاگر کرے گی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ پاکستان باسکٹ بال فیڈریشن نے قوانین کی خلاف ورزی کے باعث اس ایونٹ کو رکوا دیا۔


آرگنائزرز کا مؤقف تھا کہ یہ لیگ باقاعدہ اجازت اور راولپنڈی باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی رضامندی سے شروع کی گئی تھی۔ حتیٰ کہ جن کھلاڑیوں پر پابندی کا اعتراض اٹھایا گیا، ان کے بارے میں کھلاڑیوں  نے خود بھی انہیں یقین دہانی کروائی  کہ ان کی پابندی ختم ہوچکی ہے۔ لیکن جب اس معاملے پر فیڈریشن کے ذمہ داران سے وضاحت مانگی گئی تو ان کا رویہ نہ صرف سخت بلکہ ہتک آمیز بھی قرار دیا گیا۔ دوسری طرف آرگنائزرز نے یہ تسلیم کیا کہ لیگ کے اس معاملے کے حوالے سے انہوں نے صدرِ راولپنڈی ایسوسی ایشن کو براہِ راست آگاہ نہیں کیا۔


ابتداء میں لیگ کے نام پر بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ "نیشنل باسکٹ بال لیگ" کی جگہ اسے "نیکسٹ جنریشن باسکٹ بال لیگ" کہا جائے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مخفف پھر بھی این بی ایل ہی بنتا ہے۔


فیڈریشن کا کہنا ہے کہ وہ کھیل کی ترقی کے لئے ہمیشہ نوجوانوں کو موقع دینا چاہتی ہے، لیکن قوانین کی پاسداری ہر کھلاڑی اور ہر آرگنائزر پر لازم ہے۔ اگر کسی کھلاڑی پر عارضی پابندی ہے تو اسے فیڈریشن کے قوانین کو ماننا ہوگا۔ فیڈریشن کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ایسوسی ایشنز فنڈز اور دیگر مسائل کی وجہ سے ایونٹس منعقد نہیں کر پاتیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے قوانین توڑ کر ٹورنامنٹ کروا لے۔


دوسری طرف کلبز کے نمائندے اس بات پر شکوہ کر رہے ہیں کہ نہ فیڈریشن اور نہ ایسوسی ایشن باقاعدہ ایونٹس کرواتی ہیں۔ اور جب کوئی نیا قدم اٹھایا جائے تو بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے، ایسے حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سالوں سے کھیل کے میدان سنسان پڑے ہیں اور کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع نہیں مل پاتے۔


یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ فیڈریشن اور آرگنائزرز دونوں اس معاملے کو بہتر انداز میں سلجھائیں۔ فیڈریشن کو چاہئے کہ وہ ایسوسی ایشن کے ذریعے ذمہ دار افراد کو ڈیوٹی پر لگائے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کو بروقت روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرگنائزرز پر بھی لازم ہے کہ وہ ہر قدم پر فیڈریشن کے قوانین کو مدنظر رکھیں۔


سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہیں متنازع فیصلوں اور اداروں کے اختلافات کا شکار نہ بنایا جائے۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی وہ بنیاد ہیں جن پر پاکستان میں باسکٹ بال کے نئے افق روشن ھو سکتے ہیں۔ فیڈریشن، ایسوسی ایشن، کلبز اور آرگنائزرز سب کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کھیل کی اصل روح کھلاڑی ہیں۔ اگر انہیں مایوسی ملی تو آنے والی نسلیں کھیل سے مزید دور ہوتی چلی جائیں گی۔


پاکستان میں باسکٹ بال کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سب مل کر ایک دوسرے کو سپورٹ کریں، نہ کہ مخالفت میں توانائیاں ضائع کریں۔ اگر ہم نے باہمی تعاون اور قوانین کی پاسداری کو یکجا کر لیا تو یہ لیگ ہی نہیں بلکہ مستقبل میں اور بھی بڑے ایونٹس پاکستان میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔


 شاھدالحق کھیلوں سے ترقی و امن کے علمبردار ھیں جبکہ کئی قومی کھیلوں کے فٹنس کوچ  اور خود قومی سطح پر باسکٹ بال کے کھلاڑی رہ چکے ھیں۔ SPOFIT یو ٹیوب کے اینکر اور کھیلوں  کے سینئر صحافی ھیں۔ مزید رابط  کے لئے


Asia Cricket Cup and the Case for a Neutral Venue for Sports Link

 


Asia Cricket Cup and the Case for a Neutral Venue: 


Dream Peace Olympic Arena is the Solution forever!


By Shahid Ulhaq- Sports Philanthropist


The Asia Cup cricket tournament is once again caught in the political crossfire between India and Pakistan. While India is officially the host, Pakistan’s matches are to be played in the UAE under a hybrid model. This arrangement may appear as a compromise, but in reality, it carries immense financial and logistical burdens. Host countries are compelled to shoulder extra expenditures—millions of dollars more than originally planned—while fans, especially from Pakistan, face daunting barriers of visa denials, costly travel, and inflated broadcasting prices.


For millions of cricket lovers, the game is not just entertainment but a part of their DNA, an emotional bond passed across generations. Yet, political divides continue to keep fans apart, depriving them of the chance to witness the game live with their families across borders. This repeating cycle of conflict demands a visionary solution that goes beyond temporary fixes.


That solution lies in the Dream Peace Olympic Arena—a neutral, permanent sporting complex at the zero line of the Pakistan-India border at Wahga-Atarri. This concept, first introduced by the writer in 2009 at Peace CAMP-09 in Abu Dhabi, envisions a stadium built not for one country but for both nations—a shared space where teams compete without diplomatic obstacles and where fans can gather without visas, celebrating their love for cricket and all sports.


Such a venue would not only cut the cost of hybrid hosting models but also remove the recurring disputes over neutral grounds. More importantly, it would transform sport into what it should always be: a bridge of peace and understanding. Imagine families on both sides of the border sitting together in the same stands, united by cheers for sixes, wickets, and the timeless spirit of cricket.


This idea now calls for action. The PCB and BCCI must take the lead by forming a joint working group to present the Dream Peace Olympic Arena as a viable, sustainable solution. The ACC and ICC should extend their support, commissioning feasibility studies and securing initial funding. Global organizations such as the IOC and United Nations must recognize the initiative as a model project for peace and development through sports, providing legitimacy and resources to turn this dream into reality.


Cricket has always had the power to unite hearts where politics divides. The Dream Peace Olympic Arena is not just a vision—it is the need of the hour, a bold step towards harmony that can outlive generations and show the world that sports can indeed be the greatest catalyst for peace.


About the Writer

Shahid Ulhaq is a Sports Philanthropist, former National Basketball Player, Fitness Coach of several National Teams, Sports Writer, and CEO/Host of SPOFIT YouTube Channel. He is also Development Director of the Pakistan Powerlifting Federation and has organized numerous international sports events. He can be reached at spofit@gmail.com.

Tuesday, 12 August 2025

Crisis of Conduct Among National Athletes — Pakistan’s Honor and Character at Stake | قومی کھلاڑیوں کے رویئے کا سنگین بحران۔ پاکستان کا وقار ، کردار کامقابلہ۔

 By: Sports Enthusiast Shahid Ulhaq


Cricketer Haider Ali, squash player Mehwish Ali, and tennis player Hamid Israr are in urgent need of ethical and behavioral training.


Over the past few months, incidents in Pakistan’s sports arena have tarnished the nation’s reputation on the global stage.


During the Junior Davis Cup in Kazakhstan, tennis player Hamid Israr displayed unsportsmanlike behavior by refusing a proper handshake with his Indian opponent. In the UK, cricketer Haider Ali was arrested on allegations of rape — although later released on bail — but the incident brought embarrassment to Pakistan cricket internationally. Additionally, in South Korea, squash player Mehwish Ali made an obscene gesture towards her Hong Kong opponent after losing a match and walked off the court without shaking hands.


These incidents are not isolated to one sport or one individual — they point to a larger gap: our athletes are trained to compete on the field, but often lack knowledge of life skills, global etiquette, and responsible conduct off the field.


The Pakistan Cricket Board acted swiftly in Haider Ali’s case, but other federations did not display the same seriousness. This inconsistency sends a damaging message to the world that Pakistan does not take athlete behavior seriously.


It is now time to make an "Athletes’ Ethics and Responsibility Program" mandatory for all national players — a program that should include:


IOC Safeguarding Courses to protect athletes and others from abuse and harassment.


Training in International Etiquette and Cultural Sensitivity so players uphold Pakistan’s foundational motto of Faith, Unity, Discipline in every country they visit.


Awareness of Host Country Laws to avoid unintentionally committing offenses.


Media Training, Fan Interaction, and Personal Safety Guidelines — including how to avoid “honey traps,” media wars, and risky situations during international tours.


Practical Drills for Mental Focus to ensure athletes maintain concentration on their sport.


Athletes wearing the national jersey don’t just represent Pakistan on the field — they are living, breathing reflections of the nation worldwide. A careless handshake, an inappropriate word, or an obscene gesture can undo decades of hard work and national pride.


It’s time to make ethics an essential part of a national athlete’s uniform. Skills may win matches, but values win respect — and that is the victory Pakistan needs most today.


About the Author:

Shahid Ulhaq has been associated with sports and journalism for over four decades. A former national-level basketball player and fitness coach for several national teams, he is an advocate for athletes’ rights, peace, and sports development. He is the Founder & Chairman of the Sports & Fitness Association of Pakistan and the Founder & Host of the SPOFIT YouTube channel, where he produces in-depth and constructive content on sports and athlete issues.


+92 333 5161425

spofit@gmail.com

www.youtube.com/spofit

قومی کھلاڑیوں کے رویئے کا سنگین بحران۔ پاکستان کا وقار اور کردار کامقابلہ۔


تحریر: کھیل دوست شاھدالحق 


کرکٹر یاسر علی،سکواش کی مہوش علی، اور ٹینس کے حامد اسرار کو خاص طور پر اخلاقی تربیت کی ضرورت ھے۔


گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کی کھیلوں کی دنیا میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔


قزاکستان میں جونیئر ڈیوِس کپ کے دوران ٹینس کھلاڑی حامد اسرار نے بھارتی حریف کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے مناسب مصافحہ کرنے سے انکار کیا۔ برطانیہ میں کرکٹر حیدر علی کو مبینہ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا — اگرچہ بعد میں ضمانت پر رہا ہو گئے، لیکن پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں اسکواش کھلاڑی مہوش علی نے ہانگ کانگ کی کھلاڑی کے خلاف میچ ہارنے کے بعد نازیبا اشارہ کیا اور مصافحہ کیے بغیر کورٹ سے باہر چلی گئیں۔


یہ واقعات کسی ایک کھیل یا ایک فرد کا مسئلہ نہیں — یہ اس بڑے خلا کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے کھلاڑی کھیل کے میدان میں تو تربیت پاتے ہیں، مگر میدان سے باہر زندگی کے اصولوں اور عالمی دنیا کے آداب سے ناواقف ہیں۔


پاکستان کرکٹ بورڈ نے حیدر علی کے معاملے پر فوری کارروائی کی، مگر دیگر فیڈریشنز نے اسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس غیر متوازن رویے سے دنیا کو یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان اپنے کھلاڑیوں کے رویے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔


اب وقت ہے کہ ایک "ایتھلیٹس ایتھکس اینڈ رسپانسبلٹی پروگرام" تمام قومی کھلاڑیوں کے لیے لازمی کیا جائے، جس میں:


آئی او سی (IOC) کے سیف گارڈنگ کورسز  بھی شامل ہوں تاکہ کھلاڑی اور دیگر افراد بدسلوکی اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔


بین الاقوامی آداب اور ثقافتی حساسیت کی تربیت دی جائے تاکہ کھلاڑی ہر ملک میں پاکستان کے "ایمان، اتحاد، تنظیم" کے بنیادی اصول کی عکاسی کریں۔


میزبان ملک کے قوانین سے آگاہی دی جائے تاکہ لاعلمی میں کسی جرم کا ارتکاب نہ ہو۔


میڈیا ٹریننگ، فینز سے تعلقات، اور ذاتی تحفظ کے اصول سکھائے جائیں — بشمول اس بات کے کہ بین الاقوامی دوروں میں ممکنہ "ہنی ٹریپس" میڈیا وار یا خطرناک حالات سے کیسے بچا جائے۔


ذہنی توجہ اور کھیل پر ارتکاز برقرار رکھنے کی عملی مشق کرائی جائے۔



یاد رکھیں، قومی جَرسی پہننے والا کھلاڑی صرف میدان میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ دنیا میں ملک کا چلتا پھرتا عکس ہوتا ہے۔ ایک غلط مصافحہ، ایک غیر محتاط لفظ، ایک نازیبا  حرکت یا اشارہ برسوں کی محنت اور فخر کو مٹی میں ملا سکتا ہے۔


وقت آ گیا ہے کہ اخلاقیات کو قومی کھلاڑیوں  کی یونیفارم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ کھیل مہارت سے جیتے جاتے ہیں، لیکن عزت اقدار سے — اور یہی اصل جیت ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔


شاہد الحق کھیلوں اور صحافت سے گزشتہ چالیس برس سے وابستہ ہیں۔ آپ قومی سطح کے باسکٹ بال کھلاڑی اور کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ رہ چکے ہیں۔ کھیلوں میں حقوق، امن اور ترقی کے فروغ کے علمبردار ہیں، جبکہ اسپورٹس اینڈ فٹنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی چیئرمین ہیں۔ آپ SPOFIT یوٹیوب چینل کے بانی و اینکر بھی ہیں، جہاں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے مسائل پر مثبت اور تحقیقی مواد پیش کرتے ہیں۔


رابطے کے لیے:


0333-5161425

spofit@gmail.com

 www.youtube.com/spofit




Politics as Performance: The Wrestling Ring of World Powers vs. The True Spirit of Sport

 By Shahid Ulhaq  

In the world of professional wrestling, the audience watches in awe as heroes clash with villains, muscles bulge, tempers flare, and chaos unfolds. But behind every dramatic moment lies a pre-written script. The winners are decided, the rivalries are manufactured, and the pain is often exaggerated for effect. This theatrical deception is called kayfabe—a code that keeps the show looking real, even when it’s fake.

Now, replace the wrestling ring with the world stage. Replace wrestlers with presidents, prime ministers, and generals. Replace the crowd with global citizens. What you’ll see is the terrifying truth: much of global politics is just kayfabe for the masses—carefully scripted drama, real consequences, and a deeply manipulated audience.


Trump: The Wrestler Turned President

Donald Trump didn’t just observe kayfabe—he came from it. As a long-time character in the WWE, Trump absorbed the art of selling a storyline, controlling the crowd, and projecting conflict even when it was fiction. When he entered the White House, he didn’t leave the ring—he turned world politics into one.

From chanting slogans like “Lock Her Up” to threatening North Korea with “fire and fury,” Trump used staged polarization and rivalry like a wrestling promoter. But what few realized was that behind his bravado was a reflection of a much bigger, global script—one that has existed long before and long after him.


India-Pakistan “Pre-Announced” War: A Script Exposed

In recent months, a disturbing truth emerged: a planned India-Pakistan conflict was leaked before it even unfolded. The supposed war, ignited at the border and hyped by media, appeared to be timed for political gains. Like a wrestling feud crafted before the cameras rolled, both governments used nationalism, anger, and fear to rally voters and silence criticism.

And just like in wrestling, the damage on the ground was real—but the conflict’s motivations were scripted.


Iran, Israel, and the U.S.: The Axis of Kayfabe

The Middle East is now the biggest wrestling ring of all. Iran fires drones, Israel retaliates with airstrikes, and America steps in with "warnings." But beneath the fire and fury, the true horror lies in Gaza, where one of the ugliest genocides in human history is underway.

Thousands of Palestinians, including children, have been killed—yet the media’s spotlight is diverted to other characters and staged threats. It’s like watching a wrestling brawl unfold, while a real murder happens backstage.

Israel’s narrative of self-defense is like the storyline of a villain pretending to be the victim—while the bodies of innocents are buried beneath the rubble. The U.S. sponsors the destruction, the UN plays the referee, and media distracts the audience.


Real Pain, Scripted Chaos

Just like wrestling, world politics today is full of choreographed moves, fake outrage, and real injuries.

  • Iraq was invaded over fake intelligence.
  • Gaza bleeds while the West debates words.
  • Sanctions are imposed selectively based on geopolitical convenience.
  • Peace summits are held while arms deals are signed in private.

It’s kayfabe for the elite—with citizens caught in the crossfire.


Media: The Ring Announcer of Global Deception

In wrestling, commentators shout and sell the illusion. In geopolitics, the corporate media plays that role—shaping public perception, twisting truth, and choosing which victims to mourn.

Ukraine’s resistance is called “heroic,” while Gaza’s struggle is labelled “terrorism.”
Western allies are “democracies,” while rivals are “regimes.”
Human rights are used as weapons, not principles.

This isn’t information—it’s scripted manipulation.


Sports: The True Arena for Peace and Humanity

But not all of sport is kayfabe.

Beyond the fake punches and political showdowns, real sport stands as one of humanity’s most honest, healing, and hopeful institutions.

True sport teaches values like:

  • Discipline, teamwork, and respect.
  • Fair competition, without bloodshed.
  • Unity across races, religions, and nations.

Where politics divides, sport unites.
Where war destroys, sport builds.
Where wrestling fakes drama, true athletes inspire peace.

In the Olympics, we see enemies shaking hands.
In the Special Olympics, we see the disabled rise above their limits.
On a football field, children from broken lands play with joy, without asking who dropped bombs on whom.

Real sport is the last sanctuary of truth, hope, and healing.

That’s why corrupt regimes try to hijack it.
That’s why genuine athletes like Muhammad Ali, Arshad Nadeem, or Noor Zaman become symbols of resistance and peace.
That’s why we must protect sport from becoming another act in the global circus.


Time to Break the Script

We can no longer sit like fans at ringside while the world burns for ratings.

  • The Gaza genocide is not a storyline.
  • The pain of Kashmir, Palestine, and Syria is not a spectacle.
  • Trumpism, Modi-ism, Zionism, and militarism are not rival characters—they are real threats to humanity.

And the only way to fight this fake world order is to:

 Expose the scriptwriters.
 Demand unscripted truth.
 Promote real sport as a tool for peace, not propaganda.


Conclusion: Step Out of the Ring, Step Into Reality

Donald Trump didn’t invent the game. He only played it louder. The real danger lies in a global system that rewards fakery, thrives on conflict, and disguises bloodshed as diplomacy.

It’s time we break the kayfabe—not only of politics but of all systems that blind us to truth.

Let the real spirit of sports—not the wrestling kind—guide us.

Let humanity, honesty, and hope return to the center of the ring.

Let us stop watching the show.
Let us start changing the world.


Shahid Ulhaq is a sports philanthropist, journalist, and peace advocate. He believes in the power of real sports—not for spectacle, but for saving souls and nations.

 

 

عنوان: عالمی سیاست کا رِنگ: جہاں فریب ہے، مگر کھیل حقیقت ہ
تحریر: شاہد الحق

پروفیشنل ریسلنگ کی دنیا میں تماشائی جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ درحقیقت ایک طے شدہ ڈرامہ ہوتا ہے۔ لڑائیاں، دشمنیاں، فتح و شکست سب کچھ اسکرپٹ کا حصہ ہوتی ہیں۔ ریسلنگ کا یہ فریب "کَے فَیب" (Kayfabe) کہلاتا ہے—ایسا جھوٹ جو سچ کی طرح پیش کیا جائے تاکہ تماشائی اسے حقیقت سمجھیں۔

اب اسی فریب کو عالمی سیاست پر منطبق کریں۔ عالمی رہنما، وزرائے اعظم، صدور اور جنرلز رِنگ کے پہلوان بن چکے ہیں۔ دنیا ایک اسٹیج ہے، عوام تماشائی ہیں، اور ہم سب ایک بڑی سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔


ڈونلڈ ٹرمپ: پہلوان سے صدر تک کا سفر

ڈونلڈ ٹرمپ صرف سیاستدان نہیں تھے، وہ ریسلنگ کے اسٹیج پر کئی سالوں تک باقاعدہ کردار ادا کرتے رہے۔ WWE کے رنگ میں وہ اپنی پرفارمنس سے خوب داد وصول کرتے رہے—داخلیے، بڑھکیں، دشمنیاں اور مصنوعی جھگڑے۔

جب وہ امریکہ کے صدر بنے، تو وہ اس رِنگ سے باہر نہیں آئے—بلکہ پوری عالمی سیاست کو ایک اسکرپٹڈ ریسلنگ شو میں بدل دیا۔ "میک امریکہ گریٹ اگین" سے لے کر "چائنا وائرس" تک، ان کا ہر بیانیہ ایک اسٹیج پرفارمنس جیسا تھا۔


ہندوستان اور پاکستان کی اسکرپٹڈ جنگ

حال ہی میں ایک سنگین حقیقت سامنے آئی: بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک "پہلے سے طے شدہ" جھڑپ کا منصوبہ منظر عام پر آگیا۔ سرحدی کشیدگی، میڈیا ہائپ، سیاسی تقاریر—سب کچھ ایک ایسے اسکرپٹ کا حصہ نکلا جو انتخابات جیتنے، عوام کو گمراہ کرنے، اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا ریسلنگ میں ہوتا ہے: دو پہلوان دشمن بن کر لڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایک ہی پرفارمنس کے کردار ہوتے ہیں۔


ایران، اسرائیل اور امریکہ: بین الاقوامی رِنگ کے مککار کردار

مشرق وسطیٰ اب عالمی ریسلنگ کا سب سے بڑا رِنگ بن چکا ہے۔ ایران کے ڈرون، اسرائیل کے حملے، امریکہ کی دھمکیاں—یہ سب ایک اسکرپٹڈ شو کی طرح دہرائے جا رہے ہیں۔ لیکن اصل المیہ غزہ میں ہے۔

جہاں تاریخ کی بدترین نسل کشی جاری ہے، جہاں معصوم بچوں، ماؤں اور بزرگوں کو بمباری میں مارا جا رہا ہے۔ مگر عالمی میڈیا اور سپر پاورز کی توجہ "دھمکیوں" اور "جوابی کارروائیوں" پر مرکوز ہے۔ قاتل کو مظلوم اور مظلوم کو دہشتگرد ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ سب کسی ریسلنگ ڈرامے سے کم نہیں—مگر یہاں خون، درد اور آنسو اصلی ہیں۔


اسکرپٹڈ سیاست، اصل نقصان

جیسے ریسلنگ میں کچھ چوٹیں اصلی ہوتی ہیں، ویسے ہی سیاست میں بھی عام عوام کو اصل نقصان ہوتا ہے:

  • عراق پر حملہ جعلی معلومات کی بنیاد پر ہوا۔
  • افغانستان کو جمہوریت کے نام پر برباد کیا گیا۔
  • کشمیر، یمن، فلسطین—کہیں امن نام کی کوئی شے نہیں۔
  • اقوام متحدہ خاموش تماشائی، میڈیا اسکرپٹ کا ترجمان۔

یہ کَے فَیب اب عالمی طاقتوں کا مستقل ہتھیار بن چکا ہے۔


میڈیا: اس رِنگ کا رنگ ایناؤنسَر

ریسلنگ شو میں ایک تبصرہ نگار ہوتا ہے جو لڑائی کو بڑا، جذباتی اور سنسنی خیز بناتا ہے۔ عالمی سیاست میں یہ کردار میڈیا ادا کر رہا ہے۔

  • فلسطینیوں کی نسل کشی کو "دفاعی اقدام" بتایا جاتا ہے۔
  • یوکرین کے لیے آنسو، لیکن غزہ کے لیے خاموشی۔
  • حقائق کو فیکٹ چیکنگ کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔

یہ صحافت نہیں، بلکہ پرفارمنس ہے۔


حقیقی کھیل: امن، ترقی اور انسانیت کا واحد حل

لیکن سب کھیل فریب نہیں ہیں۔

حقیقی کھیل وہ ہیں جو ریسلنگ کی اس اسکرپٹڈ دنیا سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں:

  • دیانتدار مقابلہ ہوتا ہے۔
  • مختلف مذاہب، قوموں، اور رنگوں کے لوگ ایک ساتھ جیتنا سیکھتے ہیں۔
  • امن، صحت، دوستی، اور باہمی احترام کو فروغ دیا جاتا ہے۔

چاہے وہ اولمپکس ہو یا سپیشل اولمپکس، چاہے نور زمان ہو یا ارشد ندیم—یہ سب امن کے سفیر ہیں۔

کھیل وہ واحد زبان ہے جو جنگ کے بغیر دلوں کو جوڑتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم کھیل کو سیاست سے آلودہ نہ ہونے دیں۔
ریسلنگ کا فریب کھیل نہیں ہے—وہ صرف ایک تماشا ہے۔
اصل کھیل وہ ہے جو انسانیت بچاتا ہے۔


نتیجہ: اسٹیج سے باہر نکلو، حقیقت میں قدم رکھو

ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف پرفارمنس کی نہیں، بلکہ دنیا کو دکھایا کہ یہ پوری سیاست ایک شو ہے۔

لیکن اب وقت ہے کہ ہم:

 اس اسکرپٹ کو پہچانیں۔
 میڈیا اور سیاست کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کریں۔
 امن، کھیل، اور انسانیت کو اصل بیانیہ بنائیں۔

ہمیں غزہ کے بچوں کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
ہمیں کھیل کو فریب سے بچانا ہے۔
ہمیں تماشائی نہیں، تبدیلی کے کردار بننا ہے۔


شاہد الحق ایک کھیل دوست، وی لاگر، اور انسانیت کے داعی ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ اگر دنیا کو بچانا ہے تو فریب زدہ سیاست نہیں بلکہ حقیقی کھیل اور سچائی کو فروغ دینا ہوگا۔
تماشا بند کرو، حقیقت سے جڑو، اور امن کے لیے کھیلو۔

Saturday, 9 August 2025

No Flags for Genocide: Why Israel Must Be Banned from Global Sport | From the killing of the ‘Palestinian Pele’ to the death of a young peace ambassador, sport can no longer stay silent.


 By Shahid Ul Haq | Sports Philanthropistt  For Sports Link


In the heart of Gaza, where dreams are buried under rubble and playgrounds have turned into graveyards, two tragic losses have shaken the conscience of the global sporting community.


First, Ammar Hamayel — a young Muaythai athlete, a peace ambassador, and a beacon of hope for youth — killed in the violence that has become daily life in Palestine. Then, Suleiman Al-Obeid, known as the Palestinian Pele, a football legend whose skill and spirit inspired generations, gunned down while simply trying to collect aid for his family.


When athletes — symbols of unity, discipline, and peace — become the targets of bombs and bullets, sport cannot stand on the sidelines.


IFMA Takes a Stand


In response to Ammar Hamayel’s death, the International Federation of Muaythai Associations (IFMA) has taken a courageous and morally principled decision:


No Israeli flags, anthems, or national symbols will be permitted at any IFMA event.


Israeli athletes may compete only as Neutral Individual Athletes (AIN), just like competitors from Russia and Belarus.


No IFMA events will be hosted in Israel until further notice.


This is not an attack on athletes — IFMA has been clear that Israeli sportspeople remain valued members of the Muaythai family. It is a peaceful but firm protest against a state whose actions have claimed the lives of children, sports ambassadors, and entire families.


FIFA, IOC — Where Is Your Courage?


IFMA’s stance should be a wake-up call for the entire sporting world. When Russia invaded Ukraine, the International Olympic Committee and FIFA acted swiftly, imposing bans and suspensions in defense of the principles of peace and human dignity.


So why the double standard?


Is the blood of Palestinian children less valuable than that of Ukrainians?

Is the Olympic Truce — meant to halt hostilities during the Games — only valid for select conflicts?


If a young Muaythai peace ambassador can be killed, and a national football icon like the Palestinian Pele can be assassinated while seeking food for his family, what more evidence do we need that Israel has crossed every red line of human morality?


FIFA must immediately suspend Israel from all football activities worldwide, just as apartheid South Africa was banned for decades until it dismantled its racist system. The IOC and all international sports bodies must follow suit — not as a political move, but as a moral obligation.


Sport’s Moral Duty


Sport is not just about competition. It is a language of unity, an arena where differences fade and humanity comes first. Allowing a state to participate freely while it kills athletes, bombs stadiums, and targets children is a betrayal of that language.


I salute Dr. Sakchye Tapsuwan, President of IFMA, for honoring Ammar Hamayel’s memory with decisive action, not empty words:


> “We honour his memory not with silence, but with a stand for justice.”


The world of sport must echo that stand — from FIFA to the IOC, from tennis courts to athletics tracks.


Ban genocide. Ban occupation. Ban Israel from global sport.


Just as the world united against apartheid in South Africa, it must now unite for Palestine.


By Shahid Ul Haq

Senior Sports Journalist | Sports Philanthropist

Founder Chairman – Sports & Fitness Association of Pakistan

Host – SPOFIT YouTube Channel


Senior Sports Journalist | Sports Philanthropist | Founder Chairman – Sports & Fitness Association of Pakistan | Host – SPOFIT YouTube Channel

 YouTube.com/@SPOFIT

spofit@gmail.com

اسرائیل کھیلوں سے بین۔ فلسطینی کھیلوں کے امن سفیر عمار کے بعد فلسطینی پیلے سلیمان العبید غزا میں شہید۔

روس کی طرح اسرائیل پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔


تحریر: کھیل دوست |شاہد الحق 


IFMA کا جرات مندانہ فیصلہ — کھیل کے میدان سے امن و انصاف کا پیغام


اس دنیا میں جہاں ظلم اور جارحیت کا شکار سب سے زیادہ بچے اور معصوم شہری ہو رہے ہیں، خاموشی مجرمانہ بن چکی ہے۔ بین الاقوامی موئے تھائی فیڈریشن (IFMA) نے فلسطینی امن کے سفیر اور نوجوان کھلاڑی عمار حمیّل کی شہادت کے بعد اسرائیلی قومی علامات پر فوری پابندی عائد کر کے دنیا کو ایک اخلاقی پیغام دیا ہے۔


یہ صرف ایک پالیسی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ضمیر کی پکار ہے۔ جب ایک ایسا بچہ جو کھیل کے ذریعے امن کا پیغام دے رہا ہو، قتل کر دیا جائے، تو عالمی اسپورٹس برادری کی خاموشی جرم بن جاتی ہے۔


IFMA نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سے کسی بھی IFMA ایونٹ میں اسرائیلی پرچم، قومی ترانہ یا کوئی بھی قومی علامت قابل قبول نہیں ہوگی۔ اسرائیلی کھلاڑی صرف نیوٹرل انفرادی کھلاڑی (AIN) کی حیثیت سے شرکت کر سکیں گے، جیسے کہ روس اور بیلا روس کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، کوئی بھی IFMA ایونٹ اسرائیل میں منعقد نہیں ہوگا۔


یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے خلاف نہیں بلکہ اس ظالمانہ ریاستی نظام کے خلاف ہے جو بچوں، خواتین اور معصوم شہریوں کی جان لے رہا ہے۔ یہ ایک پرامن مگر باعزت احتجاج ہے، اس بات کے خلاف کہ کھیل کی عالمی اقدار کو روند کر نسل کشی کی جائے۔


فلسطینی پیلے کی شہادت — کھیل کا ایک اور زخم


یہ سانحہ صرف موئے تھائی تک محدود نہیں۔ دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال میں بھی غزہ کے لوگوں کا درد گونج رہا ہے۔ فلسطینی فٹبال لیجنڈ، سلیمان العبید، جنہیں محبت سے "فلسطینی پیلے" کہا جاتا تھا، حال ہی میں اسرائیلی حملے میں اس وقت شہید کر دیے گئے جب وہ امداد لینے جا رہے تھے۔

یہ شخص صرف ایک کھلاڑی نہیں تھا، بلکہ فلسطینی عوام کے حوصلے اور فٹبال کے جذبے کا استعارہ تھا۔ اس کی موت FIFA کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے:

کیا کھیل کے عالمی ادارے ظالم ریاست کے ساتھ تعلقات جاری رکھیں گے جبکہ وہ کھیل کے ہیروز کو بھی مار رہی ہے؟


دوہرا معیار ختم کرو — اسرائیل پر مکمل پابندی لگاؤ


غزہ میں جاری قتل عام، جہاں معصوم بچوں کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ہسپتال ملبہ بن چکے ہیں، بستیاں مٹا دی گئی ہیں اور کھیلوں کے لیجنڈز بھی محفوظ نہیں، دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔


اگر عالمی اولمپک کمیٹی (IOC) روس پر یوکرین جنگ کے باعث پابندیاں لگا سکتی ہے، تو اسرائیل کے خلاف بھی وہی معیار اپنایا جائے۔

اسی طرح، FIFA کو چاہیے کہ اسرائیل کو تمام فٹبال سرگرمیوں سے مکمل طور پر معطل کرے، جیسا کہ اس نے ماضی میں جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز کے دور میں کیا تھا۔


کیا فلسطینی بچوں اور کھلاڑیوں کا خون یوکرینی یا یورپی کھلاڑیوں سے کم قیمتی ہے؟

کیا اولمپک ٹرُوس اور اسپورٹس کی اخلاقیات صرف مخصوص خطوں کے لیے ہیں؟

یہ دوہرا معیار اب ناقابلِ قبول ہے۔


سلام IFMA — وقت ہے دنیا آپ کا ساتھ دے


IFMA کے صدر ڈاکٹر سکچئے تپسووان کی قیادت اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے کہا:

“ہم عمار کی یاد کو خاموشی سے نہیں، بلکہ انصاف کے ساتھ زندہ رکھیں گے۔”


آج یہ کھیلوں کی دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تالیوں سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے مظلوموں کا ساتھ دے۔

نسل کشی کو روکو۔ قبضے کو روکو۔ کھیلوں کو اسرائیلی ظلم سے پاک کرو۔


دنیا نے ایک بار نسل پرست جنوبی افریقہ کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخ رقم کی۔ اب وقت ہے کہ ہم سب فلسطین کے لیے کھڑے ہوں۔



تحریر: شاہد الحق

سینئر اسپورٹس صحافی | اسپورٹس فلاحی کارکن

فاؤنڈر چیئرمین – اسپورٹس اینڈ فٹنس ایسوسی ایشن آف پاکستان

میزبان – SPOFIT یوٹیوب چینل YouTube.com/@SPOFIT

رابطہ: spofit@gmail.com

Saturday, 2 August 2025

Forgotten Heroes | The Fate of Pakistan’s Sports Legends | From Glory to Neglect (for sports Link web )

 

 National Appeal for Olympian Boxer Babar Ali and Official Ali Akbar Shah Qadri

Written by: Shahid Ulhaq | Sports Philanthropist

A


In the rich history of Pakistan’s sports, certain names shine brighter than medals and trophies. Among them are Olympian boxer Babar Ali and Olympian boxing official Ali Akbar Shah Qadri — two men whose lives have been devoted to bringing honour and recognition to Pakistan. Today, however, they stand not in celebration but in need — and our silence could be the greatest betrayal of their lifelong service.

Babar Ali Olympian, a boxing legend who represented Pakistan and WAPDA on many global stages, is currently facing a severe health crisis. Despite applying to all relevant authorities — including WAPDA, the Punjab Sports Department, and the Pakistan Sports Board — he remains unaided. Similarly, Ali Akbar Shah Qadri, a dedicated official who tirelessly served Pakistan’s athletes and international commitments, has been forgotten in his time of need.

The question is not whether these men deserve help. The question is: why haven’t they received it already? In developed nations, former Olympians and senior athletes receive life-long support in the form of healthcare, stipends, ambassadorial roles, and inclusion in state-level functions. They are celebrated and protected as national treasures. In Pakistan, unfortunately, our heroes fade into oblivion the moment they are no longer in the spotlight.

Beyond these two individuals, there are countless other sports legends — athletes, coaches, officials, and support staff — who served this country with distinction but never made it to the mainstream media or policy radar. They, too, deserve recognition, respect, and support. Many of them suffer in silence, having sacrificed their youth and careers to raise the green flag high. A comprehensive national policy is urgently needed to address their post-retirement health, income, and dignity.

Such a policy should include monthly pensions, free medical treatment, and career transition programs that help retired sports professionals move into business, education, administration, or community service. These heroes should not live their later years in poverty or neglect. They should live with pride, with their families, and with the knowledge that their country values their sacrifices.

This is an urgent call to action for the Prime Minister of Pakistan, Chief Minister of Punjab, Federal and Provincial Ministers for Sports, GM WAPDA Sports, and the Director General of the Pakistan Sports Board. Supporting these men is not a matter of charity — it is a matter of justice, of honouring national responsibility.

The funds to assist such athletes already exist in both federal and provincial budgets. What’s missing is an efficient, transparent, and humane process. I strongly recommend the creation of an Emergency Sports Response Unit — a mechanism that can swiftly provide financial and medical aid to retired or ailing athletes without red tape. Furthermore, a national policy must be developed to ensure all Olympians and internationally recognized sports contributors receive free lifelong healthcare, hospital admission, medicines, and rehabilitation services.

Taking care of Babar Ali and Ali Akbar Shah Qadri today is not just about helping two individuals. It’s about setting a precedent for how Pakistan treats those who gave their lives for its honour. It’s about showing young athletes that their sacrifices will never be forgotten.

To ignore them now is not merely negligence — it is national failure. To act, however, is to reclaim our respect as a nation that honours its legends.

Written by: Shahid Ul Haq
Sports Philanthropist | Fitness Expert | Founder & Chairman, Sports and Fitness Association of Pakistan
Host, SPOFIT YouTube Channel www.youtube.com/@Spofit
Email: spofit@gmail.com

بھولے ہوئے ہیرو | پاکستان کے اسپورٹس لیجنڈز کی قسمت | عروج و جلال سے حکومتی غفلت تک 


تحریر: شاہد الحق | سینئر سپورٹس جرنلسٹ | کھیلوں کے انسان دوست


اولمپیئن باکسر بابر علی اور آفیشل علی اکبر شاہ قادری کی قومی اپیل


پاکستان کی کھیلوں کی بھرپور تاریخ میں کچھ نام تمغوں اور ٹرافیوں سے زیادہ روشن ہیں۔ ان میں اولمپیئن باکسر بابر علی اور اولمپیئن باکسنگ آفیشل علی اکبر شاہ قادری بھی شامل ہیں - وہ دو افراد جن کی زندگیاں پاکستان کو عزت اور پہچان دلانے کے لیے وقف ہیں۔ تاہم، آج وہ جشن میں نہیں بلکہ ضرورت میں کھڑے ہیں — اور ہماری خاموشی ان کی زندگی بھر کی خدمت کا سب سے بڑا دھوکہ ہو سکتا ہے۔


بابر علی، اولمپیئن اور باکسنگ لیجنڈ جنہوں نے کئی عالمی سطحوں پر پاکستان اور واپڈا کی نمائندگی کی، اس وقت صحت کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ تمام متعلقہ حکام کو درخواست دینے کے باوجود - بشمول واپڈا، پنجاب سپورٹس ڈیپارٹمنٹ، اور پاکستان سپورٹس بورڈ - وہ بغیر کسی امداد کے رہتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے کھلاڑیوں اور بین الاقوامی عہدوں کی انتھک خدمت کرنے والے ایک سرشار عہدیدار علی اکبر شاہ قادری کو بھی اپنی ضرورت کے وقت فراموش کر دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ: انہیں پہلے ہی کیوں نہیں ملا؟ ترقی یافتہ ممالک میں، سابق اولمپینز اور سینئر کھلاڑیوں کو صحت کی دیکھ بھال، وظیفہ، سفیر کے کردار، اور ریاستی سطح کے کاموں میں شمولیت کی شکل میں تاحیات مدد ملتی ہے۔ وہ قومی خزانے کے طور پر منائے جاتے ہیں اور ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں، بدقسمتی سے، ہمارے ہیروز اس لمحے بھول جاتے ہیں جب وہ روشنی میں نہیں رہتے۔


ان دو افراد کے علاوہ، کھیل کے دیگر لاتعداد لیجنڈز ہیں — کھلاڑی، کوچز، آفیشلز، اور سپورٹ اسٹاف — جنہوں نے امتیازی سلوک کے ساتھ اس ملک کی خدمت کی لیکن وہ کبھی بھی مرکزی دھارے کے میڈیا یا پالیسی ریڈار میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ بھی، پہچان، احترام اور حمایت کے مستحق ہیں۔ ان میں سے بہت سے خاموشی کا شکار ہیں، جنہوں نے سبز جھنڈا بلند کرنے کے لیے اپنی جوانی اور کیریئر قربان کر دیا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی صحت، آمدنی اور وقار کو حل کرنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی کی فوری ضرورت ہے۔


اس طرح کی پالیسی میں ماہانہ پنشن، مفت طبی علاج، اور کیریئر کی منتقلی کے پروگرام شامل ہونے چاہئیں جو ریٹائرڈ کھیلوں کے پیشہ ور افراد کو کاروبار، تعلیم، انتظامیہ یا کمیونٹی سروس میں جانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان ہیروز کو اپنے بعد کے سال غربت یا غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔ انہیں فخر کے ساتھ، اپنے خاندانوں کے ساتھ، اور اس علم کے ساتھ رہنا چاہیے کہ ان کا ملک ان کی قربانیوں کی قدر کرتا ہے۔

یہ وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی اور صوبائی وزراء برائے کھیل، جی ایم واپڈا اسپورٹس، اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ ہے۔ ان لوگوں کی حمایت کرنا کوئی خیرات کا معاملہ نہیں ہے - یہ انصاف کا معاملہ ہے، قومی ذمہ داری کے احترام کا ہے۔


ایسے کھلاڑیوں کی مدد کے لیے فنڈز پہلے سے ہی وفاقی اور صوبائی دونوں بجٹ میں موجود ہیں۔ جو چیز غائب ہے وہ ایک موثر، شفاف اور انسانی عمل ہے۔ میں ایک ایمرجنسی اسپورٹس رسپانس یونٹ بنانے کی سختی سے سفارش کرتا ہوں - ایک ایسا طریقہ کار جو ریٹائرڈ یا بیمار کھلاڑیوں کو بغیر سرخ فیتے کے فوری طور پر مالی اور طبی امداد فراہم کر سکے۔ مزید برآں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک قومی پالیسی تیار کی جانی چاہیے کہ تمام اولمپینز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کھیلوں کے شراکت داروں کو تاحیات صحت کی دیکھ بھال، ہسپتال میں داخلہ، ادویات اور بحالی کی خدمات مفت حاصل ہوں۔


آج بابر علی اور علی اکبر شاہ قادری کا خیال رکھنا صرف دو افراد کی مدد کرنا نہیں ہے۔ یہ ایک مثال قائم کرنے کے بارے میں ہے کہ پاکستان ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ نوجوان کھلاڑیوں کو دکھانے کے بارے میں ہے کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

اب انہیں نظر انداز کرنا محض غفلت نہیں بلکہ قومی ناکامی ہے۔ تاہم، عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی قوم کے طور پر ہمارے احترام کا دوبارہ دعویٰ کیا جائے جو اپنے لیجنڈز کا احترام کرتی ہے۔


تحریر: شاہد الحق

کھیلوں کے انسان دوست | فٹنس ماہر | بانی اور چیئرمین، سپورٹس اینڈ فٹنس ایسوسی ایشن آف پاکستان

میزبان، SPOFIT YouTube چینل www.youtube.com/@Spofit

ای میل: spofit@gmail.com