Thursday, 13 August 2026

کرکٹ کی پچ سے نیزہ بازی کے میدان تک: ارشد ندیم اور رمیش تھرنگا کی کامیابی کا سائنسی تجزیہ




 کرکٹ کی پچ سے نیزہ بازی کے میدان تک: ارشد ندیم اور رمیش تھرنگا کی کامیابی کا سائنسی تجزیہ 

تحریر: شاھدالحق (ماہرِ فٹنس و کھیل صحافی)

جنوبی ایشیا میں جب کوئی بچہ فٹنس اور رفتار کا مظاہرہ کرتا ہے، تو ہماری پہلی نظر کرکٹ کی پچ پر جاتی ہے۔ ارشد ندیم اور سری لنکا کے رمیش تھرنگا بھی اسی خواب کے ساتھ جوان ہوئے اور کرکٹ کی گیند کو اپنی تیز رفتاری سے خوف کی علامت بناتے رہے۔ لیکن آج یہ دونوں نام کرکٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ جیولن تھرو کی دنیا میں 90 میٹر کی تاریخی حد عبور کرنے کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر چمک رہے ہیں۔ بطور ایک فٹنس ایکسپرٹ اور کھیل صحافی، میرے لیے یہ محض ایک خوبصورت کہانی نہیں، بلکہ خالص اسپورٹس سائنس (Sports Science) اور بائیو مکینکس کا شاہکار ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ نیزہ صرف بازو کی طاقت سے پھینکا جاتا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے، جیولن اور فاسٹ باؤلنگ دونوں کی روح ایک ہی اصول پر قائم ہے، جسے ہم "کائنیٹک چین" (Kinetic Chain) کہتے ہیں۔ طاقت کبھی بازو سے پیدا نہیں ہوتی، یہ زمین سے جنم لیتی ہے۔ جب ارشد ندیم یا رمیش تھرنگا اپنے مخصوص رن اپ کے بعد آخری قدم لیتے ہیں، تو ان کی پچھلی ٹانگ میں 'ٹریپل ایکسٹینشن' (ٹخنے، گھٹنے اور کولہے کا بیک وقت سیدھا ہونا) زمین سے ایک شدید فورس پیدا کرتا ہے۔اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ سائنسی ہے۔ دونوں کھیلوں میں "فرنٹ لیگ بریس" (Front-Leg Brace) یعنی اگلی ٹانگ کا زمین پر ایک مضبوط دیوار کی طرح جم جانا سب سے اہم ہے۔ جب تیز رفتاری سے بھاگتا ہوا کھلاڑی اچانک بریک لگاتا ہے، تو نیچے کی تمام توانائی اوپر دھڑ (Torso) کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اس لمحے کولہے پہلے گھومتے ہیں اور کندھے پیچھے رہ جاتے ہیں (Hip-Shoulder Separation)۔ جسم میں پیدا ہونے والا یہ لچکدار کھچاؤ نیزے کو وہ جادوئی رفتار دیتا ہے جو اسے پچاس یا ساٹھ میٹر کے بجائے نوے میٹر پار پھینک دیتی ہے۔ فاسٹ باؤلرز کا اعصابی نظام (Nervous System) اور مسل میموری پہلے ہی اس میکانزم کے عادی ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں یہ تکنیک سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر فاسٹ باؤلر نیزہ اٹھا کر چیمپئن بن سکتا ہے۔ جیولن تھرو میں ایک باؤلر کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچک (Mobility) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم کو پیچھے کی طرف انگریزی کے حرف "C" کی طرح موڑنا ریڑھ کی ہڈی اور کمر کے نچلے حصے پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر کھلاڑی کے پاس بہترین کور اسٹیبلٹی اور مضبوط کندھے (Rotator Cuff) نہ ہوں، تو وہ 'جیولن ایلبو' (کہنی کے لِگامنٹ کا پھٹ جانا) جیسی کیریئر ختم کرنے والی چوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ارشد ندیم کی کہنی کی سرجریز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کھیل میں انسانی جسم کتنے بڑے خطرے سے گزرتا ہے۔برصغیر کے کوچز اور اسپورٹس بورڈز کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں اپنے ان فاسٹ باؤلرز پر نظر رکھنی چاہیے جو شاید کرکٹ کی لائن اور لینتھ میں پیچھے رہ گئے ہوں لیکن ان کے پاس زبردست رن اپ اسپیڈ اور دھماکہ خیز بازو کا جھٹکا موجود ہو۔ اگر ان کی اس قدرتی صلاحیت کو باربیل جمپس، میڈیسن بال تھروز اور مناسب بائیو مکینیکل ٹریننگ کے سانچے میں ڈھالا جائے، تو ہم گلی محلوں سے مزید ارشد ندیم پیدا کر سکتے ہیں۔ کرکٹ کی پچ سے پوڈیم تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ طاقت اور رفتار کبھی ضائع نہیں ہوتیں، بس انہیں درست سمت دینے والے وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔


مصنف کے متعلق: شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ماہر فٹنس ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ بھی رہے جبکہ سپورٹس اور فزیکل ایجوکیشن سائنسز کی تدریس سے بھی منسلک رہے چکے ھیں۔

Wednesday, 12 August 2026

ویٹ لفٹنگ کی جنگ، نقصان پاکستان کو۔۔۔ دو دھڑے، دو دعوے اور بیچ میں کھلاڑی — اب فیصلہ کون کرے گا؟


ویٹ لفٹنگ کی جنگ، نقصان پاکستان کو۔۔۔

دو دھڑے، دو دعوے اور بیچ میں کھلاڑی — اب فیصلہ کون کرے گا؟

تحریر: شاہد الحق

پاکستانی کھیلوں میں بعض اوقات اصل مقابلہ میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان نہیں بلکہ دفاتر میں عہدیداروں کے درمیان ہوتا ہے۔ پاکستان ویٹ لفٹنگ کا موجودہ بحران اسی تلخ حقیقت کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ ایک طرف پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کا دھڑا ہے، دوسری طرف پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ عبوری کمیٹی، جبکہ اس پوری کشمکش کا سب سے بڑا نقصان ان کھلاڑیوں کو ہو رہا ہے جو برسوں کی محنت کے بعد عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

ویٹ لفٹنگ کا بحران صرف انتظامی اختلاف نہیں رہا۔ ڈوپنگ کے معاملات، بین الاقوامی پابندیوں اور جرمانوں کے بعد اب معاملہ کھلاڑیوں کی رجسٹریشن، انتخاب اور بین الاقوامی شرکت تک پہنچ چکا ہے۔ 5 اگست 2026 کو PWLF کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14 کھلاڑیوں اور آفیشلز کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے انہیں 2028 تک اپنی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ ان افراد نے ایک غیر مجاز مقابلے میں شرکت کی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے: جب خود ویٹ لفٹنگ کا ادارہ کئی برس سے انتظامی اور بین الاقوامی تنازع کا شکار ہے تو اس پورے نظام میں حتمی اختیار اور legitimacy کا فیصلہ کون کرے گا؟

اس سوال کا ایک اہم جواب پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ Interim Committee کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔ کمیٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق عبوری کمیٹی کا مینڈیٹ 2021 میں ہائی کورٹ کے احکامات پر مقرر کیے گئے Delegate کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا تھا۔ ان سفارشات میں کلبوں کی scrutiny اور ضلعی و صوبائی سطح پر انتخابات بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق 2022-23 میں یہ انتخابات آزاد Election Commission کے ذریعے کرائے گئے اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نمائندگان بھی اس عمل میں موجود رہے۔ ان کے مطابق عبوری کمیٹی اپنا تفویض کردہ کام مکمل کر چکی ہے۔

اگر یہ مؤقف درست ہے تو پھر سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے:

جب کلبوں کی scrutiny ہو چکی، ضلعی انتخابات ہو گئے، صوبائی انتخابات بھی ہو گئے، تو پھر پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے مرکزی انتخابات آج تک کیوں نہیں ہو سکے؟

یہ سوال اب عبوری کمیٹی سے نہیں بلکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے بنتا ہے۔

آخر کب تک انتخابات کسی نہ کسی وجہ سے مؤخر ہوتے رہیں گے؟

آخر کب تک دو متوازی دعوے پاکستان ویٹ لفٹنگ کے مستقبل کو یرغمال بنائے رکھیں گے؟

اور آخر کب تک کھلاڑی یہ سوچتا رہے گا کہ اسے مقابلے کی تیاری کرنی ہے یا اپنی فیڈریشن کے اندر دھڑا تلاش کرنا ہے؟

یہاں نوح دستگیر بٹ کا معاملہ ہمارے سامنے ایک بڑے سوال کی طرح کھڑا ہے۔ وہی نوح جس نے Commonwealth Games میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا، Games Record بنایا اور پاکستان کو عالمی سطح پر امید دی۔ لیکن آج ایک ایسا کھلاڑی جس سے مزید بین الاقوامی میڈلز کی توقع کی جا سکتی تھی، ادارہ جاتی بحران اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات سے متاثر ہوا۔

کھلاڑی کی peak performance کی عمر محدود ہوتی ہے۔ اداروں کی لڑائیاں اگر برسوں چلیں تو ضائع ہونے والا وقت واپس نہیں آتا۔

میں کسی کھلاڑی کو قانون سے بالاتر کرنے کے حق میں نہیں۔ اگر کسی نے anti-doping قوانین توڑے ہیں، ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے یا جان بوجھ کر غیر مجاز مقابلے میں شرکت کی ہے تو شفاف تحقیقات، شواہد اور اپیل کے بعد کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اصول بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے کہ کسی کھلاڑی کو اداروں کی جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جا سکتا۔

پاکستان کو اب مزید notifications، counter-notifications اور باہمی الزامات نہیں چاہئیں۔

پاکستان کو چاہیے ایک شفاف انتخابی عمل، ایک legitimate فیڈریشن، ایک governance system اور ایک قومی ٹیم۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔ اگر انتخابات کرانے ہیں تو واضح انتخابی شیڈول دیا جائے۔ اور اگر انتخابات نہیں کرائے جا سکتے تو قوم کو بتایا جائے کہ آخر رکاوٹ کہاں ہے۔

خاموشی اب قابل قبول نہیں۔

میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے کھیل، کھلاڑی، فٹنس، اسپورٹس ایڈمنسٹریشن اور اسپورٹس جرنلزم سے وابستہ ہوں۔ میں نے قومی سطح پر باسکٹ بال کھیلا، قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ کے طور پر کام کیا، بڑے قومی و بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے اور برسوں سے کھلاڑیوں کے حقوق اور کھیلوں کی governance پر آواز اٹھاتا آ رہا ہوں۔

اسی تجربے کی بنیاد پر میرا سوال کسی ایک دھڑے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے:

اگر کھلاڑی پاکستان کے لیے میڈل جیت سکتا ہے تو ادارے پاکستان کے لیے ایک صاف، شفاف اور متفقہ فیڈریشن کیوں نہیں بنا سکتے؟

نوح دستگیر بٹ اور پاکستان کے دوسرے ویٹ لفٹرز کو کسی کی کرسی نہیں چاہیے۔

انہیں میدان چاہیے، میرٹ چاہیے اور پاکستان کی نمائندگی کا حق چاہیے۔

اب وقت ہے کہ اداروں کی جنگ ختم ہو۔

ایک فیڈریشن بنائیں، شفاف انتخابات کرائیں اور کھلاڑی کو اس کا میدان واپس دیں۔

ورنہ یاد رکھیے:

باربل کھلاڑی اٹھاتا ہے، مگر اداروں کی لڑائی کا وزن بھی آخرکار کھلاڑی ہی کیوں اٹھائے؟

تحریر: شاہد الحق

Sports Philanthropist | Senior Sports Journalist | Former National-Level Basketball Player | Fitness Expert & Coach | Sports Administrator | Founder, SPOFIT & SFAP

Friday, 31 July 2026

ایک اور کھلاڑی کا قتل — جب نظام اپنے کھلاڑیوں کو نگل جاتا ہے


 

ایک اور کھلاڑی کا قتل — جب نظام اپنے ہیروز کو نگل جاتا ہے

ارشد ندیم کی تنزلی صرف ایک شکست نہیں، پاکستان کے کھیلوں کے نظام کا نوحہ ہے


تحریر: شاہد الحق

کبھی کبھی ایک مقابلہ صرف میڈل کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ پورے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیتا ہے۔

گلاسگو میں ہونے والے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل نے بھی یہی کیا۔

سری لنکا کے رمیش تھرنگا پاتھیراگے نے 89.75 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا، جبکہ ان کے ہم وطن یشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کی ذاتی بہترین تھرو کرتے ہوئے برونز میڈل جیت لیا۔

اور دوسری طرف...

پیرس اولمپکس 2024 کے گولڈ میڈلسٹ، عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ہیرو ارشد ندیم صرف 77.63 میٹر کی تھرو کر سکے، ابتدائی تین کوششوں کے بعد ٹاپ آٹھ میں بھی جگہ نہ بنا سکے اور نویں نمبر پر مقابلے سے باہر ہوگئے۔

یہ صرف ایک خراب دن نہیں تھا۔

یہ ایک ایسے سفر کا منطقی انجام محسوس ہوا جس کے آثار کئی ماہ سے نمایاں تھے۔

دنیا کے بہترین جیولن تھرور اتفاق سے چیمپئن نہیں بنتے۔ ان کے پیچھے برسوں کی سائنسی منصوبہ بندی، بائیو مکینیکل تجزیہ، عالمی معیار کی کوچنگ، منظم مقابلہ جاتی کیلنڈر اور مسلسل ٹریننگ ہوتی ہے۔

اس فائنل میں شامل پانچ ایتھلیٹس اپنے کیریئر میں 90 میٹر یا اس سے زیادہ تھرو کر چکے تھے۔ ہر ایک اپنے کوچ کے ساتھ تکنیکی تیاری کے اعلیٰ معیار کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے واحد اولمپک چیمپئن کو کیا دیا؟میرے نزدیک یہی وہ سوال ہے جس سے اب فرار ممکن نہیں۔

یہ تاثر مسلسل مضبوط ہوتا گیا کہ اولمپک گولڈ کے بعد ارشد ندیم کی ترجیحات میں کھیل سے ہٹ کر تجارتی، تشہیری اور عوامی سرگرمیوں کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اگرچہ ایک عالمی چیمپئن کے لیے اسپانسرشپ اور عوامی پذیرائی فطری امر ہے، مگر جب یہی سرگرمیاں تکنیکی تیاری اور مسلسل تربیت پر غالب آ جائیں تو اس کے اثرات میدان میں ضرور نظر آتے ہیں۔

کھیلوں کے حلقوں میں یہ سوال بھی مسلسل اٹھایا جاتا رہا کہ ارشد ندیم، یاسر اور فاطمی جیسے قومی چمپیئنز کے اصل کوچ فیاض بخاری کا کردار کیوں محدود ہوتا چلا گیا؟ یہ بھی کہا گیا کہ انتظامی معاونت کے لیے مقرر کیے گئے افراد وقت کے ساتھ کوچنگ کے فیصلوں میں بھی اثر انداز ہونے لگے۔ اگر ان تاثرات میں حقیقت کا کوئی حصہ بھی موجود ہے تو متعلقہ اداروں کو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہئیں، کیونکہ ایک اولمپک چیمپئن کی تیاری کسی تجربہ گاہ کا موضوع نہیں ہوتی۔

دوسری طرف بھارت کو دیکھیے۔

نیرج چوپڑا کے اولمپک گولڈ کے بعد بھارت نے جیولن تھرو کو قومی منصوبہ بنا دیا۔ سرکاری سرپرستی، جدید کوچنگ، بین الاقوامی کیمپس، سائنسی سپورٹ اور مسلسل مقابلوں نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔

آج بھارت صرف نیرج چوپڑا پر انحصار نہیں کرتا۔

اس کے پاس یشویر سنگھ، روہت یادو، سچن یادو، شیوم لوہاکرے، ارشدیپ سنگھ اور کئی دوسرے بین الاقوامی معیار کے جیولن تھرور موجود ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر ایک کھلاڑی ناکام بھی ہو جائے تو دوسرا پوڈیم پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

ہم نے ایک ارشد ندیم پیدا کیا، لیکن اس کے بعد دوسرا ارشد تیار کرنے کے لیے کوئی قومی پروگرام، کوئی ٹیلنٹ پائپ لائن اور کوئی مربوط کوچنگ سسٹم قائم نہ کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہمارا واحد ہیرو لڑکھڑاتا ہے تو پورا ملک خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔

میرے نزدیک اس شکست کی ذمہ داری صرف ارشد ندیم پر ڈال دینا ناانصافی ہوگی۔

اصل سوال پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، متعلقہ فیڈریشن اور ان تمام ذمہ داران سے ہے جنہیں اولمپک گولڈ کے بعد اس قومی اثاثے کی تکنیکی، جسمانی اور ذہنی تیاری کو اولین ترجیح دینی چاہیے تھی۔

اگر واقعی ایک عالمی چیمپئن کی ٹریننگ کے بجائے تشہیری سرگرمیوں، تقریبات اور تجارتی مصروفیات کو زیادہ اہمیت دی گئی تو یہ صرف ایک کھلاڑی کا نہیں بلکہ قومی مفاد کا نقصان ہے۔

یہ پہلا واقعہ بھی نہیں۔

نوح دستگیر بٹ کے ساتھ ہونے والے تنازعات، شاہ حسین شاہ کے کیریئر میں پیش آنے والی رکاوٹیں اور دیگر عالمی معیار کے پاکستانی ایتھلیٹس کے تجربات پہلے ہی اس کھیل دشمن نظام پر کئی سوالات اٹھا چکے ہیں۔

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی کبھی نہیں رہی کمی ہمیشہ نظام, منصوبہ بندی، احتساب اور پیشہ ورانہ قیادت کی رہی ہے۔

آج بھی وقت ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور متعلقہ فیڈریشنز ارشد ندیم کے اولمپک گولڈ کے بعد کے پورے تربیتی، کوچنگ اور انتظامی ڈھانچے کا آزادانہ جائزہ لیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس میں شمار ہونے والا ایک کھلاڑی اتنے مختصر عرصے میں اپنی بہترین کارکردگی سے اتنا دور کیوں چلا گیا۔

اگر ہم نے اس سوال کا دیانت داری سے جواب تلاش نہ کیا تو یقین رکھیے، کل کوئی اور ارشد ندیم بھی اسی نظام کی نذر ہو جائے گا۔

شاہد الحق

Sports Philanthropist | Senior Sports Journalist | Founder & President, Sports & Fitness Association of Pakistan (SFAP) | CEO, SPOFIT HUB | Former National Basketball Player | International Fitness Expert | Member, AIPS (Association Internationale de la Presse Sportive)

Tuesday, 7 July 2026

When Fair Play Enters the Courtroom of Politics Is the Independence of Global Sport Under Threat?فیئر پلے یا طاقت کی سیاست


اردو ترجمہ انگریزی کے بعد نیچے دیا ھوا ھے ۔


When Fair Play Enters the Courtroom of Politics

Is the Independence of Global Sport Under Threat?

By Shahid Ulhaq

Sport has long been celebrated as humanity's common language—a universal platform that transcends politics, race, religion, ideology and national boundaries. The Olympic Movement and FIFA have built their global reputations on values such as fairness, equality, integrity and the rule of law. These principles are not merely slogans; they are the very foundation of international sport.

When these principles are called into question, the damage extends far beyond a single match or tournament. It strikes at the credibility of the entire global sports governance system.

The controversy surrounding FIFA's decision to suspend the enforcement of the one-match ban imposed on United States forward Folarin Balogun during the 2026 FIFA World Cup has ignited widespread debate. The issue is no longer about one player being eligible to compete. It is about a far more fundamental question: Are the rules of international sport applied equally to everyone?

Media reports suggesting that United States President Donald Trump contacted FIFA President Gianni Infantino, followed by President Trump's public praise of FIFA's decision, have further intensified public scrutiny. While no verified evidence has established that political pressure directly influenced FIFA's ruling, or that any improper agreement existed, the perception of possible political influence is itself deeply troubling.

In international sport, justice must not only be done—it must also be seen to be done.

Whenever governing bodies issue extraordinary decisions without providing complete legal transparency and clear procedural justification, uncertainty replaces confidence. Public trust begins to erode, and even legitimate sporting achievements become vulnerable to suspicion.

It would be irresponsible and unsupported by evidence to claim that the World Cup has been predetermined or that any nation is guaranteed victory. No credible evidence currently supports such allegations. However, FIFA must also recognise that controversial decisions lacking transparent explanations inevitably create speculation, conspiracy theories and questions about institutional independence.

History reminds us that sport has never been entirely immune from political influence. From the 1936 Berlin Olympic Games and Cold War-era Olympic boycotts to state-sponsored doping programmes and diplomatic conflicts surrounding international competitions, political interests have repeatedly challenged the autonomy of sport.

This is precisely why today's international sports institutions carry an even greater responsibility.

FIFA should seriously consider establishing an independent Global Sports Integrity Commission, composed of internationally respected judges, sports law experts, former elite athletes and governance specialists. Such a body should automatically review extraordinary disciplinary decisions that have the potential to affect the credibility of major international competitions.

Transparency must become the rule rather than the exception. Whenever disciplinary sanctions are altered under exceptional circumstances, FIFA should publicly disclose the complete legal reasoning, procedural framework and governance process behind those decisions.

The International Olympic Committee should also recognise that this issue extends beyond football. If the perception develops that political influence can shape sporting decisions in one international federation, confidence in the governance of all Olympic and international sports may gradually weaken.

Member associations of FIFA, National Olympic Committees and international sports organisations should not remain passive observers. Where legitimate legal or ethical concerns exist, they should utilise FIFA's constitutional mechanisms, independent ethics structures and, where appropriate, the Court of Arbitration for Sport (CAS) to seek legal clarification. Institutional accountability—not political confrontation—must remain the preferred path.

This episode also offers an important lesson for developing sporting nations, including Pakistan. We frequently demand transparency and fairness from international organisations while often struggling to uphold those same standards within our own national federations. Calls for reform abroad will carry greater moral authority only when they are matched by stronger governance at home.

Ultimately, FIFA, the International Olympic Committee and every international sports federation must remember a simple truth:

The greatest asset in sport is not broadcasting revenue, commercial sponsorship or political support.

It is public trust.

Billions of people watch international sport because they believe victories are earned through talent, discipline, preparation and fair competition—not through influence, power or political privilege.

If that belief begins to disappear, the greatest loss will not be a trophy or a championship.

It will be the very spirit of sport itself.

By Shahid Ulhaq

Senior Sports Journalist | Sports Philanthropist | Former National Basketball Player | Founder, SPOFIT – Sports & Fitness | President, Sports & Fitness Association of Pakistan (SFAP)


فیئر پلے یا طاقت کی سیاست؟

فیفا کے متنازع فیصلے نے عالمی فٹبال کے اعتماد کو کس موڑ پر لا کھڑا کیا؟

کھیل ہمیشہ سے صرف مقابلے کا نام نہیں رہے بلکہ انصاف، مساوات، غیر جانبداری اور قانون کی حکمرانی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ اقدار ہیں جن کی بنیاد پر فیفا، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) اور دیگر عالمی کھیلوں کے اداروں نے اپنی ساکھ قائم کی۔ اگر یہی اصول کمزور پڑ جائیں تو صرف ایک میچ یا ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پورا عالمی کھیلوں کا نظام سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ریڈ کارڈ معطلی کو غیر معمولی انداز میں مؤخر کرنے کے فیصلے نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد فٹبال حلقوں اور بعض اداروں نے اس فیصلے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم اور میڈیا میں سامنے آنے والی وہ اطلاعات، جن میں فیفا صدر سے رابطے کا ذکر کیا گیا، اس بحث کو مزید حساس بنا گئیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ بالوگن کھیلے یا نہ کھیلے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی کھیلوں کے قوانین ہر کھلاڑی اور ہر ملک پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں؟ اگر کسی فیصلے سے یہ تاثر پیدا ہو کہ طاقتور ممالک یا بااثر شخصیات کھیلوں کے ضابطوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں تو نقصان صرف ایک ٹیم کا نہیں بلکہ فیئر پلے کے اس نظریے کا ہوتا ہے جس پر عالمی کھیلوں کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ تاحال کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اس فیصلے کے پیچھے سیاسی دباؤ یا کسی قسم کی ملی بھگت موجود تھی، یا یہ کہ ٹورنامنٹ کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہیں۔ تاہم کھیلوں میں صرف انصاف ہونا کافی نہیں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جب فیصلے غیر معمولی دکھائی دیں اور ان کی قانونی بنیاد پوری طرح واضح نہ کی جائے تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اور یہی صورت حال کھیلوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ مختلف ادوار میں اولمپکس کے بائیکاٹ، ریاستی ڈوپنگ اسکینڈلز، بین الاقوامی پابندیوں اور کھیلوں کی سفارت کاری نے بارہا یہ ثابت کیا کہ سیاسی طاقتیں کھیلوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کھیلوں کے اداروں پر یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ ہر فیصلے میں مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور جوابدہی کا مظاہرہ کریں۔

فیفا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نوعیت کے غیر معمولی فیصلوں کی مکمل قانونی تشریح عوام، میڈیا اور اپنی رکن فیڈریشنز کے سامنے پیش کرے۔ صرف ایک مختصر اعلامیہ یا انتظامی وضاحت اعتماد بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ جب فیصلے قواعد سے ہٹ کر محسوس ہوں تو ان کی آزادانہ قانونی جانچ اور عوامی وضاحت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

اسی طرح بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور عالمی کھیلوں کی دیگر تنظیموں کو بھی کھیلوں کی خودمختاری کے اصول پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ اگر مستقبل میں کسی بھی حکومت، سیاسی شخصیت یا ریاستی دباؤ کے بارے میں شکوک پیدا ہوں تو اس کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی اسپورٹس گورننس پینل قائم کیا جانا چاہیے، جو کسی بھی اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔

فیفا کی رکن ایسوسی ایشنز بھی خاموش تماشائی نہیں رہ سکتیں۔ اگر کسی فیصلے پر قانونی یا اخلاقی اعتراض موجود ہو تو انہیں فیفا کے اندر موجود آئینی فورمز، کانگریس، انضباطی کمیٹیوں اور ضرورت پڑنے پر کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (CAS) سے رجوع کرنا چاہیے۔ عالمی کھیلوں میں قانون کی بالادستی صرف اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب رکن ممالک ادارہ جاتی طریقہ اختیار کریں، نہ کہ میڈیا ٹرائل یا سیاسی دباؤ۔

یہ معاملہ صرف امریکہ، فیفا یا ایک کھلاڑی تک محدود نہیں۔ کل یہی مثال کسی اور طاقتور ملک، کسی اور عالمی ایونٹ یا کسی اور کھیل میں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔ اگر آج شفافیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا تو کل کسی بھی عالمی مقابلے کے نتائج پر عوامی اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔

ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا فٹبال ایونٹ ہے۔ اس کی اصل طاقت صرف بہترین کھلاڑی یا شاندار اسٹیڈیم نہیں بلکہ اربوں شائقین کا وہ اعتماد ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ میدان میں کامیابی صرف صلاحیت، محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ طاقت، سیاست یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر۔

فیفا اور آئی او سی کو یاد رکھنا چاہیے کہ کھیلوں کی سب سے بڑی دولت ٹرافیاں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہے۔ اگر یہی اعتماد کمزور پڑ گیا تو کوئی بھی ادارہ اپنی تاریخی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

تحریر: شاہدالحق

سینئر سپورٹس جرنلسٹ | اسپورٹس فلانتھروپسٹ | سابق قومی باسکٹ بال کھلاڑی | فاؤنڈر SPOFIT – Sports & Fitness | صدر، Sports & Fitness Association of Pakistan (SFAP)

Monday, 6 July 2026

پاکستان ہاکی: ورلڈ کپ میں بقا اور مستقبل کی خود کفالت ۔


 English version is after Urdu 

پاکستان ہاکی: ورلڈ کپ میں بقا اور مستقبل کی خود کفالت کا روڈ میپ

تحریر: شاہد الحق (سینیئر اسپورٹس ایکسپرٹ)

حقیقت سے نظریں چرانے کا اب کوئی فائدہ نہیں؛ پاکستان ہاکی اس وقت مکمل تنزلی کا شکار ہے۔ حالیہ ایف آئی ایچ (FIH) پرو لیگ میں آخری نمبر پر آنا، 22 گولز کے مقابلے میں 79 گولز کھانا کوئی معمولی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام کی تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت کے خلاف ۱-۷ اور انگلینڈ کے خلاف ۰-۷ کی عبرتناک شکستوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہمارے کھلاڑی آج کے دور کی تیز ترین ہاکی کا مقابلہ پرانے طریقوں سے کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پاکستان کے پاس لامحدود وسائل ہوتے تو شاید ہمیں ہرمن کروئس سے بھی بہتر اور زیادہ ہائی پروفائل ایڈوائزر مل سکتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پی ایچ ایف نے اپنی بساط اور مالی حیثیت کے مطابق جدید ہاکی کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے جس غیر ملکی اسٹاف کا انتخاب کیا ہے، وہ موجودہ بحران میں ایک بہترین اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔ کیونکہ ہرمن پہلے ہی انڈیاکے ھاکی نظام کو نئے سرے سے جدید بنانے میں تجربہ رکھتا ھے۔ 

15 اگست 2026 سے ایمسٹلوین میں شروع ہونے والے مینز ہاکی ورلڈ کپ میں اب بہت ہی کم وقت بچا ہے۔ کوچ یا فٹنس ایکسپرٹ کوئی بھی ہو، سچی بات یہ ہے کہ اتنے مختصر عرصے میں ٹیم کی برسوں پرانی اور گہری خامیوں پر مکمل قابو پانا انتہائی مشکل اور ایک معجزے کے مترادف ہے۔ لیکن اگر ہم بڑے دعووں کے بجائے چند انتہائی اہم اور فوری اقدامات پر پوری توجہ مرکوز (Focus) کر لیں، تو ورلڈ کپ کے مقاصد اور عزت برقرار رکھنے میں کافی آسانی ہو سکتی ہے:


1۔ فوری چیلنج: انگلینڈ کا جارحانہ کھیل اور 'ڈی' کا نظم و ضبط۔

15  اگست کو عالمی نمبر 4 انگلینڈ کی ٹیم شروع س ہی ہم پر شدید دباؤ (High Press) ڈالنے کی کوشش کرے گی۔


* حکمتِ عملی: ہمیں بیک لائن سے سست اور روایتی انداز میں گیند آگے بڑھانے کا طریقہ اب چھوڑنا ہوگا۔ مڈفیلڈ کو بائی پاس کرنے کے لیے لمبی اور تیز ڈائیگنل گیندوں (Overhead Balls) کا سہارا لینا ہوگا، تاکہ حنان شاہد اور رانا وحید کی تیز رفتاری کا فائدہ اٹھا کر ان کے دفاعی حصار میں جگہ بنائی جا سکے۔

* ڈی (D) میں ڈسپلن اور فاؤنڈیشن: ہمارے ڈیفینڈرز کو اپنے شوٹنگ سرکل کے اندر جلد بازی اور فاؤل کرنے سے بچنا ہوگا تاکہ حریف ٹیم کو آسان پنالٹی کارنرز نہ ملیں، کیونکہ پچھلے میچز میں ہماری سب سے بڑی ناکامی سیکنڈ ہاف میں تھکن کی وجہ سے دفاع کا مکمل بیٹھ جانا تھا۔


2۔ شارٹ ٹرم دباؤ کا توڑ: ذہنی مضبوطی

ہمارے کھلاڑیوں پر ماضی کی شکستوں کا شدید ذہنی دباؤ ہے۔ جب حریف ٹیم پہلا گول کرتی ہے، تو ہماری ٹیم پینک ہو کر بکھر جاتی ہے۔ اس قلیل وقت میں تکنیک سے زیادہ کھلاڑیوں کے اندر وہ ذہنی مضبوطی پیدا کرنی ہوگی کہ وہ میچ میں پیچھے رہ جانے کے بعد گھبرانے کے بجائے دوبارہ لڑنے کا جذبہ پیدا کریں۔

3۔ لانگ ٹرم پلان: غیر ملکی کوچز پر انحصار کا خاتمہ

ہمارا اصل ہدف ورلڈ کپ کے فوراً بعد شروع ہونا چاہیے۔ غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کو لانے کا اصل مقصد صرف وقتی میچز جیتنا نہیں، بلکہ ان کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھا کر پاکستان ہاکی کے مستقل ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے:


* مقامی کوچز اور ٹرینرز کی تربیت: غیر ملکی اسٹاف کی موجودگی میں ہمارے مقامی کوچز اور ٹرینرز کو جدید ترین یورپی کوچنگ سکھائی جائے اور ان کی بھرپور فیلڈ ٹریننگ کی جائے۔

* ینگ ٹیلنٹ کی تیاری: نئے اور نوجوان کھلاڑیوں (Young Talent) کو زیادہ سے زیادہ جدید طرز کی بین الاقوامی ٹریننگ دی جائے تاکہ نچلی سطح سے ہی کھلاڑی جدید ہاکی کے سانچے میں ڈھل کر اوپر آئیں۔

* جب ہمارے اپنے کوچز اور کھلاڑی جدید ترین ہاکی سسٹم سیکھ جائیں گے، تو مستقبل میں پاکستان کا مہنگے غیر ملکی کوچز اور اسٹاف پر سے انحصار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اور ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں گے۔


4۔ پاکستانی ٹیلنٹ کو ساتھ ملانا

جدید اور مقامی نظام کے اسی ملاپ کے لیے پی ایچ ایف کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے چند بہترین اور تجربہ کار ذہنوں کو فوری طور پر اسٹرکچر کا حصہ بنائے:


* عدنان ذاکر: انہیں جونیئر نیشنل ٹیلنٹ کی مکمل ذمہ داری دی جائے تاکہ وہ نوجوانوں کو جدید یورپی ہاکی کے مطابق تیار کریں۔

* سہیل عباس: ہاکی کی دنیا کے اس عظیم ترین پنالٹی کارنر لیجنڈ کو فوری طور پر ہمارے ڈریگ فلکرز کی تربیت پر مامور کیا جائے، تاکہ وہ ہماری سست ڈریگ فلکنگ کو دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار بنا سکیں۔

* سلمان اکبر: بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ کئی سالہ کوچنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے اس مایہ ناز گول کیپر کو مستقل طور پر گول کیپنگ ایریا کے لیے شامل کیا جائے، تاکہ وہ ہمارے گول کیپرز کی خامیوں کو دور کر سکیں۔


غیر ملکی اسٹاف اور طاہر زمان کی ہائی پرفارمنس ڈائریکشن کا یہ جوڑی دار نظام اس مشکل ترین وقت میں پاکستان ہاکی کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ اگر پی ایچ ایف نے انہیں کھل کر کام کرنے کی آزادی دی، فوری خامیوں پر فوکس کیا اور ہمارے مقامی لیجنڈز کو اس نظام کا حصہ بنایا، تو یہ ورلڈ کپ کسی نئی تباہی کا سبب نہیں بلکہ پاکستان ہاکی کی دوبارہ زندگی کی طرف پہلا اور مضبوط قدم ثابت ہوگا۔


مصنف کے بارے میں: شاہد الحق ایک سینیئر اسپورٹس ایکسپرٹ، انویسٹی گیٹو تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ وہ طویل عرصے سے پاکستان کے تمام کھیلوں کے اداروں میں صاف، شفاف اور بہترین گورننس (Good Governance) کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور بے باک آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔



The Pakistan Hockey Crisis: A Roadmap for World Cup Survival and Future Self-Reliance

By Shahid Ulhaq, Senior Sports Expert

Let us not mince words. Pakistani hockey is in a state of absolute institutional collapse. Finishing dead last in the recent FIH Pro League—conceding a humiliating 79 goals while scoring a mere 22—was not just a bad run of form; it was a systemic failure. The 1-7 and 0-7 obliterations at the hands of India and England proved that our boys are playing yesterday’s hockey in tomorrow’s world.

There is no doubt that if Pakistan possessed unlimited financial resources, we could have pursued an even higher-profile advisor than Herman Kruis. However, we must remain realistic. Given the current circumstances and financial constraints, the Pakistan Hockey Federation's (PHF) decision to bring in this specific foreign coaching staff to learn and adapt to modern hockey is both practical and commendable.

With the Men’s FIH Hockey World Cup starting on August 15, 2026, in Amstelveen, time is incredibly short. No matter who the coach or fitness expert is, let's be honest: completely fixing deep-rooted, years-old flaws in such a compressed timeframe is an almost miraculous task. However, instead of chasing grand, unrealistic promises, if we focus entirely on a few critical, immediate adjustments, achieving our World Cup objectives and safeguarding our national pride becomes entirely possible:


1. The Immediate Challenge: Neutralizing England's High Press and Restoring Circle Discipline

On August 15, World No. 4 England will look to smother us early with an aggressive, suffocating high press.


* The Tactic: We must abandon slow, traditional build-ups from the back line. We must utilize quick, diagonal overhead balls to bypass England's midfield press entirely, using the raw speed of Hanan Shahid and Rana Waheed to exploit open space behind their defensive line.

* Discipline in the 'D': Our defenders must avoid reckless tackles inside our own shooting circle to prevent giving away soft penalty corners. In past matches, our fatal flaw was the complete collapse of our defense in the second half due to physical exhaustion.


 2. Combating Short-Term Pressure: Mental Resilience

Our players are carrying the heavy psychological scars of past defeats. The moment an opponent scores first, the team panics and falls apart. In this short time, structural training matters less than building emotional resilience; our boys must be taught to react to a deficit not with anxiety, but with an aggressive desire to fight back.


3. The Long-Term Plan: Ending Reliance on Foreign Coaches

Our true strategic roadmap must begin the day after the World Cup concludes. The ultimate objective of bringing in international staff is not just to win immediate matches, but to use their vast expertise to completely overhaul Pakistan's domestic structure:


* Training Local Coaches and Trainers: Under the shadow of the foreign staff, our homegrown coaches and trainers must be thoroughly taught modern European coaching philosophies through aggressive field training.

* Nurturing Young Talent: Our rising youth must be exposed to maximum international-standard training camps so that they develop modern hockey instincts from the grassroots level up.

* Self-Reliance: Once our own local coaches and players fully master this modern ecosystem, Pakistan's reliance on expensive foreign coaching staff will be permanently dismantled, allowing us to stand proudly on our own feet.


 4. Integrating Elite Pakistani Brains

To seamlessly blend this foreign expertise with local execution, the PHF must immediately integrate our most experienced local legends into the pipeline:


* Adnan Zakir: Should be given absolute authority over the junior national pathways to groom young talent.

* Sohail Abbas: The ultimate penalty corner king must be brought in to personally mentor our drag-flickers, turning our sluggish penalty corner conversions into a world-class weapon.

* Salman Akbar: Possessing years of elite international coaching experience with global clubs, this master goalkeeper must be installed as the permanent national goalkeeping specialist to eliminate errors in our defensive net.


The dual system of foreign staff paired with Tahir Zaman’s high-performance direction is a crucial turning point for Pakistan hockey. If the PHF grants them complete operational autonomy, focuses heavily on immediate flaws, and anchors our local legends into the system, this World Cup will not be another disaster—it will be the hard, painful first step toward our national revival.


About the Author: Shahid Ulhaq is a senior sports expert, investigative analyst, and columnist. He is a prominent national voice dedicated to advocating for clean, transparent, and good governance across all sports federations in Pakistan.



Wednesday, 1 July 2026

پاکستان ہاکی کا نوحہ: ایڈہاک ازم، حکومتی مداخلت اور تباہی کا سفر

 


پاکستان ہاکی کا نوحہ: ایڈہاک ازم، حکومتی مداخلت اور تباہی کا سفر

تحریر: شاہد الحق 

پاکستان ہاکی ٹیم پرو لیگ کے تمام میچز ہار گئی۔ یہ محض ایک ٹورنامنٹ کی شکست نہیں، بلکہ اس کھیل کی آخری سانسوں کا اعلان ہے جسے کبھی ہم نے دنیا بھر میں فخر کا نشان بنایا تھا۔ ہمیشہ کی طرح، اس عبرت ناک ناکامی کے بعد بھی ہمارے ہاں روایتی تماشہ شروع ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے چند مبصرین ٹیم کی فٹنس اور باہمی ہم آہنگی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں؛ ماضی کے کچھ نام نہاد 'بابے اولمپئنز' ٹیم مینجمنٹ، عمر رسیدہ کوچز اور سلیکشن کمیٹی کو سولی پر چڑھا رہے ہیں، جبکہ مخلص شائقین کا ایک گروہ اب بھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کی اپیلیں کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت ان سب سے مختلف اور کہیں زیادہ تلخ ہے۔جب پاکستان ہاکی فیڈریشن پر 'ایڈہاک' لگائی گئی تھی، تو پرانی کرپٹ مافیا کے خاتمے پر ہر طرف خوشیاں منائی گئیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ عمل ماضی میں بھی کئی وزرائے اعظم کے نوٹیفیکیشنز جیسا ہی تھا، جسے میں نے تب بھی اور اب بھی محض ایک 'حکومتی مداخلت' قرار دیا ہے۔ کرسی کی کشش یہاں اتنی اندھی ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے، وہ اپنے اصل مینڈیٹ کو بھول جاتا ہے۔ ایک دو ٹورز گزرتے ہی وہی پرانا راگ دوبارہ الاپا جانے لگتا ہے کہ "اس کو ہٹاؤ، وہ ٹھیک نہیں، یہ نہ کرو۔"بین الاقوامی کھیلوں کے مسلمہ قوانین کے مطابق، کسی بھی ملک کے وزیر اعظم، حکومتی عہدیداروں یا عسکری حکام کا کھیل کے اندرونی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ حکومت کا کام صرف مالی و انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فیڈریشنز، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے اصولوں کے تحت کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیل کی ترقی کے لیے آزادانہ کام کرتی ہیں۔ اگر اس خودمختاری میں حکومتی سطح پر مداخلت ہو، تو اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس کھلی مداخلت پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اب تک خاموش کیوں ہیں؟ ایڈہاک کمیٹی کے صدر اپنے بنیادی اختیارات سے تجاوز کر کے مستقل تعیناتیاں کیسے کر رہے ہیں؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وقت کی کمی اور ٹورنامنٹ کی فوری تیاری کے لیے کچھ ہنگامی اقدامات ضروری تھے، تو سوال یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کلب سکروٹنی، کڑے احتساب اور شفاف انتخابات کے لیے—جو ایڈہاک کا اصل اور بنیادی مینڈیٹ تھا—ایک قدم بھی آگے کیوں نہیں بڑھایا گیا؟اب جب عوامی دباؤ اور شور بڑھ رہا ہے، تو ایڈہاک صدر کو چاہیے کہ وہ اپنے اصل مینڈیٹ پر واپس آئیں۔ فیڈریشن میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور شفاف نظام رائج کریں اور جلد از جلد انتخابات کروا کر نظام حقیقی اور منتخب عہدیداروں کے سپرد کریں۔ہماری روایتی سوچ یہ ہے کہ جب بھی ٹیم ہارتی ہے، ہم کسی بیرونی کوچ، ٹرینر یا سپورٹ سٹاف کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دفعہ یہ اکھاڑ پچھاڑ کرنے یا کسی اور بگٹی، وانی، رانا یا باجوہ کو لانے کی بجائے، پاکستان ہاکی کو کسی بین الاقوامی معیار کے 'اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر' کی ضرورت ہے جو کسی سیاسی یا ذاتی دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کر سکے۔ ایک ایسا ماہر جو ہمارے فرسودہ ہاکی ڈھانچے کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق استوار کرے اور جو باقی کھیلوں کی فیڈریشنز کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ بنے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت میرٹ پر تمام کھیلوں پر یکساں توجہ دے سکے گی، سرکاری سطح پر ہونے والی بندر بانٹ کا خاتمہ ہوگا، اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے داغ سے بھی نجات ملے گی۔ جب نظام ٹھیک ہوگا، تو ٹیم میں میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس خود بخود جنم لے گی جو ایک طویل المدتی اور پائیدار مستقبل کی ضامن بنے گی۔یہ تمام انتظامی مسائل اور زوال اس وقت جنم لیتے ہیں جب متعلقہ حلقوں میں باہمی اتفاق، یکجہتی اور ایک دوسرے کا احترام ختم ہو جائے۔ یہاں ہر کوئی خود کو دوسرے سے برتر سمجھتا ہے اور مخالف کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے سے کتراتا ہے۔ لہذا، اب وقت آ گیا ہے کہ کسی گورے کوچ یا عارضی عملے پر پیسہ بہانے کے بجائے، ایک بااختیار، غیر جانبدار اور طاقتور بین الاقوامی ایڈمنسٹریٹر لایا جائے جو بغیر کسی سفارش اور دباؤ کے فیصلے کرے۔ یہی پاکستان ہاکی کو بچانے کا واحد اور آخری حل ہے۔

مصنف کے بارے میں:شاہدا لحق کھیلوں کے معاملات، خاص طور پر قومی کھیل ہاکی کے انتظامی ڈھانچے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آپ کھیلوں کی فیڈریشنز میں شفافیت، خود مختاری اور گڈ گورننس کے علمبردار ہیں اور ان موضوعات پر مسلسل آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔

Saturday, 27 June 2026

پاکستان ویٹ لفٹنگ میں سسٹم کا ناسور: سزا یافتہ مافیا کی الزام تراشی اور شفاف کھلاڑیوں کا حق. The Malice in Pakistan Weightlifting: Retaliation from a Convicted Mafia and the Rights of Clean Athletes





پاکستان ویٹ لفٹنگ میں سسٹم کا ناسور: سزا یافتہ مافیا کی الزام تراشی اور شفاف کھلاڑیوں کا حق
تحریر: شاہد الحق
پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ویٹ لفٹنگ کا ڈوپنگ اسکینڈل محض چند کھلاڑیوں کی انفرادی غلطی نہیں، بلکہ ایک منظم سسٹم کی تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ممنوعہ ادویات کے ذریعے ملکی وقار کا سودا کرنے والے عناصر اب اپنی اصلاح کرنے اور شرمندگی کا احساس کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور حکومتی اداروں کے خلاف من گھڑت مہم چلا رہے ہیں۔ یہ صریحاً "چور مچائے شور" کی بدترین مثال ہے۔
انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ITA) اور کورٹ آف آربٹریشن فار اسپورٹ (CAS) کے فیصلوں نے اس پورے مافیا کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام کرداروں کو نام لے کر بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی معطلی اور تباہی میں مجرمانہ حصہ ڈالا:
  • مرکزی سرغنہ اور تاحیات پابندی: فیڈریشن کے سابق صدر حافظ عمران بٹ اور سابق نیشنل کوچ عرفان بٹ اس پورے اسکینڈل کے ماسٹر مائنڈ ثابت ہو چکے ہیں۔ ان دونوں پر انٹرنیشنل لیول پر تاحیات (Lifetime) پابندی عائد کی جا چکی ہے کیونکہ یہ کم عمر (Minors) اور دیگر ایتھلیٹس کو خود ممنوعہ ادویات (اسٹیرائڈز) فراہم کرنے کے جرم میں ملوث پائے گئے۔
  • معاونین اور داغدار کھلاڑی: پاکستان اسپورٹس بورڈ کی آفیشل لسٹ کے مطابق کوچ وقاص اکبر سمیت ڈوپنگ اور ٹیسٹ سے بھاگنے والے کھلاڑیوں جن میں شرجیل بٹ، عبدالرحمٰن، غلام مصطفیٰ اور فرحان مجید شامل ہیں، پر سخت پابندیاں لگی ہیں۔ اسی طرح طلحہ طالب (3 سال پابندی اور 3000 ڈالر جرمانہ) اور ابوبکر غنی (ٹیسٹنگ میں ہیرا پھیری پر 4 سال کی پابندی) جیسے نام اس جرم کی فہرست کا حصہ ہیں۔
اس سنگین مافیا نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کرنے والے کلین وِٹ لِفٹرز کا مستقبل داؤ پر لگایا، بلکہ ان کے نام پر عائد ہزاروں ڈالرز کے جرمانے اب پاکستانی اسپورٹس پر ایک بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ جب تک یہ جرمانے ادا نہیں ہوں گے، پاکستان کی انٹرنیشنل بحالی ناممکن ہے۔
ریاستی اداروں اور حکومتِ پاکستان کو اب نرمی کا مظاہرہ چھوڑ کر درج ذیل سخت قانونی اقدامات فوری طور پر نافذ کرنے ہوں گے:
  1. انعامات اور کیش کی واپسی: حافظ عمران، عرفان بٹ اور ان کے زیرِ سایہ ڈوپنگ کرنے والے کھلاڑیوں نے ماضی میں جتنے بھی تمغے، نقد انعامات اور سرکاری مراعات حاصل کیں، وہ سب قانون کے ذریعے فی الفور واپس لی جائیں۔
  2. سرکاری نوکریوں سے برطرفی: چیٹنگ کے ذریعے ملک کو عالمی سطح پر رسوا کرنے والے ان تمام افراد کو مختلف محکموں اور سرکاری اداروں میں حاصل نوکریوں سے فوری طور پر فارغ (Terminate) کیا جائے۔
  3. قدار کھلاڑیوں کی دادرسی: ان دھوکے بازوں سے برآمد کی گئی رقم اور مراعات ان سچے, محنتی اور شفاف (Clean) کھلاڑیوں کو دی جائیں جن کا حق اس مافیا نے سالہا سال تک مارا ہے۔
کھیلوں کے میدانوں کو ان ڈرگ مافیا کے اثر و رسوخ سے پاک کرنا اب محض ایک مطالبہ نہیں، بلکہ پاکستان کے اسپورٹس کلچر کو زندہ رکھنے کی آخری امید ہے۔ عدالتی اور بین الاقوامی فیصلوں کی روشنی میں ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
(مصنف کے بارے میں):
شاہد الحق ایک سینئر اسپورٹس صحافی اور کھیلوں کے نامور ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے کھیلوں کے میدانوں میں شفافیت، بلاامتیاز احتساب، گڈ گورننس اور کھلاڑیوں کے حقوق کے پرجوش علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا یہ کالم کھیلوں میں میرٹ کی بالادستی اور پاکستان کے حقیقی ٹیلنٹ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد اور پختہ عزم کی 
عکاسی کرتا ہے۔



The Malice in Pakistan Weightlifting: Retaliation from a Convicted Mafia and the Rights of Clean Athletes
Written by: Shahid Ulhaq
The doping scandal in Pakistan’s weightlifting history is not merely an individual mistake by a few lifters; it is evidence of a systematically compromised structure. Elements that damaged national prestige through the use of banned substances, instead of seeking reform, are reportedly engaged in campaigns against sports boards and government institutions. This appears to be a case of those responsible attempting to shift the narrative.
The verdicts from international testing bodies and sports arbitration courts have addressed these issues. The time has come to highlight the roles played in the suspension and challenges faced by the national weightlifting federation:
  • Central Leadership and Lifetime Bans: Former high-ranking federation officials and coaching staff have faced lifetime bans from international sports due to their proven involvement in providing prohibited substances to athletes, including minors.
  • Sanctioned Personnel and Lifters: According to official sports board lists, strict sanctions have been imposed on specific coaches and various lifters who either tested positive for banned substances or evaded the testing process. This includes several prominent names who have received multi-year bans and significant financial penalties for tampering or doping violations.
This situation did not just jeopardize the future of clean weightlifters; the substantial outstanding fines have become a significant financial burden on the nation's sports infrastructure. Until these international obligations are met, full international restoration remains a challenge.
The relevant authorities and the government are encouraged to consider the following measures:
  1. Recovery of Awards: Medals, cash prizes, and perks obtained through compromised means should be reviewed for recovery under applicable regulations.
  2. Employment Review: Those found to have violated international anti-doping standards should face administrative review regarding their positions in public sector institutions.
  3. Support for Clean Athletes: Resources recovered should be redirected to support honest, hardworking, and clean athletes who maintain the integrity of the sport.
Purging sports of the influence of prohibited substances is essential to keep the sports culture alive. Prompt action in light of international rulings is necessary for the supremacy of merit.
(About the Author):
Shahid Alhaq is a senior sports journalist and analyst recognized for advocating transparency, accountability, and athletes' rights. This column reflects a commitment to the protection of genuine talent and the integrity of sports


Olympic Principles Under Siege: Pakistan's Challenge to Autonomy, Integrity and Fair Play

By Shahid Ulhaq

The President of the International Olympic Committee (IOC), Kirsty Coventry, recently emphasized during the General Assembly of the European Olympic Committees in Budapest that the autonomy of sport, the universality of the Olympic Movement, and solidarity among its stakeholders are fundamental principles that keep sport a neutral, united, and safe platform for athletes and officials. She further stressed that athletes must remain at the heart of all decision-making processes.

However, when these noble Olympic values are viewed through the lens of Pakistan's sports landscape, a deeply troubling picture emerges. A serious question arises: Are the principles of autonomy, universality, and solidarity genuinely being upheld, or have they been reduced to mere slogans?

Concerns have repeatedly been raised that the Pakistan Olympic Association (POA) not only interferes in the affairs of national sports federations but has also been accused of facilitating parallel structures and positioning preferred individuals in influential roles, allegedly using them as voting blocs. If such practices exist, they stand in direct contradiction to the spirit of the Olympic Charter, which advocates institutional independence, democratic governance, and respect for the autonomy of sport.

Even more disturbing are the allegations related to doping and integrity in sports governance. The use of prohibited substances is not merely a violation of sporting regulations; it is an attack on the very essence of fair play. Questions have been raised about individuals previously implicated in doping-related cases or subjected to sanctions being allowed to occupy significant positions and even being publicly accorded prominence at official sporting functions. Such actions can only undermine the morale and rights of clean athletes who dedicate their lives to sport through discipline, sacrifice, and integrity.

Equally concerning is the treatment of athletes who raise their voices in favor of transparency and fair play. In environments where dissent is discouraged and athletes feel marginalized from governance processes, the Olympic commitment to athlete-centered decision-making loses its meaning. This reality raises serious concerns about sports governance and accountability in developing countries.

The case of Pakistan's leading weightlifter, Nooh Dastgir Butt, and questions surrounding the distribution of Olympic Solidarity resources have further intensified calls for transparency and equitable allocation of opportunities and support for deserving athletes.

President Kirsty Coventry's remarks offer hope to athletes, coaches, and sports stakeholders around the world. If the International Olympic Committee wishes to preserve the universality and credibility of the Olympic Movement, it must pay closer attention to the voices emerging from developing nations. Athletes in countries such as Pakistan deserve the same protection, representation, and fair opportunities guaranteed by the Olympic Charter.

This is the moment for the IOC and its Integrity mechanisms to engage more proactively with issues of governance, athlete rights, and fair play in developing sporting nations. The true strength of the Olympic Movement does not lie solely in medals and ceremonies but in its unwavering commitment to autonomy, universality, solidarity, transparency, and respect for athletes. Until these principles are applied consistently and without exception, sport cannot genuinely serve as a neutral, united, and safe platform for all.

About the Author:
Shahid Ulhaq is a Sports Philanthropist, Senior Sports Journalist, former national-level basketball player, fitness coach, and sports administrator with more than three decades of experience in sports governance, athlete advocacy, and international sports development initiatives.

کیا اولمپک اصول پاکستان کی سرزمین پر دم توڑ رہے ہیں؟

خودمختاری، یکجہتی اور فئیر پلے کے دعوے بمقابلہ پاکستانی کھیلوں کی تلخ حقیقت

تحریر: شاہد الحق

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) کی صدر کرسٹی کووینٹری نے حال ہی میں ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں یورپی اولمپک کمیٹیوں کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کی خودمختاری (Autonomy)، عالمگیریت (Universality) اور یکجہتی (Solidarity) ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن کی بدولت کھیل کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ایک غیر جانبدار، متحد اور محفوظ پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کھلاڑیوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں رکھنا ان اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

اگر ان اعلیٰ اولمپک اصولوں کو پاکستان کے کھیلوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال نہایت تشویش ناک دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کھیلوں کی خودمختاری، عالمگیریت اور یکجہتی واقعی موجود ہیں یا یہ صرف دستاویزی اصطلاحات بن کر رہ گئی ہیں؟

الزامات یہ ہیں کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نہ صرف بعض کھیلوں کی قومی فیڈریشنوں کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے بلکہ متوازی تنظیموں کے قیام، پسندیدہ افراد کو اہم عہدوں پر فائز کرنے اور انہیں ووٹنگ بلاک کے طور پر استعمال کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے فیڈریشنوں کی خودمختاری کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ اولمپک چارٹر کی روح سے متصادم ہیں، جو کھیلوں کی تنظیموں کی آزادی اور جمہوری طرز حکمرانی کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔

مزید سنگین پہلو ڈوپنگ کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات ہیں۔ کھیلوں میں ممنوعہ ادویات کا استعمال صرف قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ صاف اور منصفانہ کھیل (Fair Play) کے تصور پر براہِ راست حملہ ہے۔ خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ بعض ایسے افراد، جو ماضی میں ڈوپنگ معاملات میں ملوث رہے یا جن پر پابندیاں عائد ہوئیں، انہیں نہ صرف اہم عہدوں پر برقرار رکھا گیا بلکہ بعض مواقع پر سرکاری تقریبات میں نمایاں مقام بھی دیا گیا۔ ایسے افراد کی موجودگی صاف ستھرے اور دیانت دار کھلاڑیوں کے استحقاق اور حوصلے کو متاثر کرتی ہے۔

مزید برآں، اگر کسی ملک میں کھلاڑیوں کو فئیر پلے اور شفافیت کے حق میں آواز اٹھانے پر حاشیے پر دھکیل دیا جائے، انہیں مواقع سے محروم کر دیا جائے یا ان کی نمائندگی کمزور کر دی جائے تو پھر کھلاڑیوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں رکھنے کے اولمپک دعوے کس حد تک قابلِ عمل رہ جاتے ہیں؟ یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک میں کھیلوں کی گورننس اور احتساب کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔

پاکستان کے ممتاز ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ کے اولمپک سالیڈیریٹی پروگرام اور دیگر وسائل کی تقسیم سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایسے معاملات اس امر کے متقاضی ہیں کہ وسائل کی تقسیم، کھلاڑیوں کی معاونت اور کھیلوں کی گورننس کے نظام میں زیادہ شفافیت، احتساب اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے۔

کرسٹی کووینٹری کے حالیہ بیانات دنیا بھر کے کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں کے کارکنوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہیں۔ اگر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی واقعی اپنی عالمگیریت اور ساکھ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے ترقی پذیر ممالک کے کھلاڑیوں اور کھیلوں کی برادری کی آواز کو زیادہ توجہ سے سننا ہوگا۔ صرف بڑے اور بااثر ممالک ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے کھلاڑیوں کو بھی وہی حقوق، تحفظ اور منصفانہ مواقع ملنے چاہئیں جن کی ضمانت اولمپک چارٹر دیتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور اس کے انٹیگریٹی یونٹس دنیا کے ان حصوں میں کھیلوں کی گورننس، کھلاڑیوں کے حقوق اور فئیر پلے کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ اولمپک تحریک کی اصل طاقت صرف تمغوں میں نہیں بلکہ ان اقدار میں پوشیدہ ہے جو خودمختاری، عالمگیریت، یکجہتی، شفافیت اور کھلاڑی کے احترام کو یقینی بناتی ہیں۔ جب تک یہ اصول ہر سطح پر نافذ نہیں ہوتے، کھیل حقیقی معنوں میں ایک غیر جانبدار، متحد اور محفوظ پلیٹ فارم نہیں بن سکتا۔


مصنف کا تعارف:

شاہد الحق پاکستان کے معروف اسپورٹس فلاحی کارکن، سینئر اسپورٹس جرنلسٹ، سابق قومی سطح کے باسکٹ بال کھلاڑی، اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن اسپیشلسٹ، فٹنس کوچ، اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر اور بین الاقوامی ایونٹ آرگنائزر ہیں۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان میں کھیلوں کی ترقی، کھلاڑیوں کے حقوق، اسپورٹس گورننس، فٹنس اور نوجوانوں کی سماجی ترقی کے لیے سرگرم ہیں اور متعدد قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے کھیلوں کی نمائندگی اور وکالت کرتے رہے ہیں۔ 

Tuesday, 2 June 2026

Beautiful Villages or Instant Wealth? Why Kirsty Coventry’s Olympic Vision Deserves a Deeper Look.


Beautiful Villages or Instant Wealth? Why Kirsty Coventry’s Olympic Vision Deserves a Deeper Look

The sporting world is currently embroiled in a fierce ideological war. At the center of the storm is International Olympic Committee (IOC) official Kirsty Coventry, who ignited global outrage by stating her opposition to direct prize money for Olympic competitors. Critics immediately weaponized her comments, launching a relentless campaign under the slogan “glory doesn’t pay bills” and demanding her resignation. However, viewing this debate solely through the lens of Western elite athletes ignores a darker, systemic reality in developing nations. When we examine how massive, unregulated financial windfalls actually play out in countries like Pakistan, Coventry’s warning against direct cash payouts begins to look less like institutional greed and more like structural foresight.

The Illusion of the Windfall: The Arshad Nadeem Case Study

To understand the merit of Coventry's caution, one only needs to look at the aftermath of Pakistan’s historic javelin gold at the Paris Olympics. Arshad Nadeem’s monumental triumph was greeted not with structured institutional reform, but with an absolute frenzy of political chest-thumping and uncontrolled financial payouts totaling hundreds of millions of rupees.

Fast forward to the present, and the tragic cycle of South Asian sports administration has repeated itself. The historic win has largely evaporated from the active sporting landscape. Instead of leveraging his status to anchor a new era for Pakistani track and field, Nadeem has largely vanished from high-level international competition and the public eye. The promised state-of-the-art High-Performance Centers championed by sports boards remain nothing more than empty bureaucratic blueprints.

Worse still is the blatant squandering of public funds under the guise of rewards. Millions from the national exchequer were not only handed over without any financial management structure for the athlete, but a massive share was also gifted to a controversial coach whose credentials and actual contribution to elite javelin coaching remain highly questionable. Once the political photo-ops concluded and politicians milked the optics for their own agendas, the systemic development of athletics was entirely forgotten.

A Tragic Pattern: From Meharullah Lassi to Street Corridors

This is not an isolated incident; it is a systemic pattern of destruction through sudden wealth. During General Pervez Musharraf’s regime, boxing champion Meharullah Lassi was thrust into the same volatile spotlight. In a bid to polish his political image, the military ruler visited Lassi’s home, publicly declared him "his son," and showered him with a staggering reward of 50 million rupees.

Without an institutional framework, sports psychology, or post-career financial counseling, that massive fortune became a curse. Today, the infrastructure of Pakistani boxing is in ruins, and Meharullah Lassi—once a national icon—is reportedly battling severe addiction on the streets of Karachi, completely abandoned by the system that used him for political clout. These cases prove a harsh reality: in developing nations, throwing unstructured millions at individual athletes destroys lives and kills the sport, while building absolutely nothing for the next generation.

A Balanced Alternative: Capping Payouts and Guarding Development

From this perspective, Kirsty Coventry’s core philosophy is fundamentally correct. The Olympic movement must prioritize sustainable infrastructure over fleeting individual lottery wins. However, a middle ground is entirely achievable.

A balanced modern framework could allow for a standardized, capped Olympic cash prize—such as up to $100,000 for a gold medal—to ensure athletes can secure their immediate livelihood and cover training debts. But the remaining billions generated by the Olympic machinery must be fiercely locked into global development funds.

The real battlefront should not be forcing the IOC to hand out prize money; it should be enforcing strict, uncompromising anti-corruption monitoring over the funds sent to developing nations. If the IOC rigorously audits national Olympic committee, monitors performance targets, and bypasses corrupt local NOC officials to build actual facilities, the true essence of the Olympic Movement will thrive.

Start the strong accountability of IOC Fund for Top weightlifter Nooh Dastgir Butt, returning and discrimination by NOC PAKISTAN.

Echoes of Progress: Supporting Africa’s First Olympic Venture

The hyper-aggressive campaign demanding Coventry’s resignation is not just short-sighted—it borders on political sabotage. Those operating under the delusion that stripping the IOC of its development budget will magically fix athlete poverty are living in a fool's paradise.

In attacking Coventry, the sporting fraternity risks derailing one of the most progressive chapters in modern Olympic history. As a pioneering African leader, Coventry is currently anchoring the historic implementation of the first-ever Olympic event on African soil—the upcoming Youth Olympic Games in Senegal. Her focus remains squarely on expanding the global footprint of sports to underrepresented regions, rather than just enriching an elite pocket of already-sponsored athletes.

Conclusion: Structural Legacy Over Political Pageantry

The outrage against Kirsty Coventry relies on an emotional narrative, but sports journalism demands structural truth. While elite athletes in developed nations view sports through the lens of commercial entertainment contracts, the developing world desperately needs sports to be viewed through the lens of institutional development.

Unstructured cash awards do not build stadiums, they do not train grassroots coaches, and history shows they rarely protect the long-term well-being of the athletes themselves. It is time to move past the political pageantry of cash rewards, shield the Olympic movement's first female African leader from bad-faith propaganda, and demand what truly matters: structural accountability and lasting sporting infrastructure.

------------------------------

About the Author:

Shahid-ul-Haq is an independent sports journalist, columnist, and analytical commentator specializing in South Asian sports governance, athletic development, and structural reforms in global sports management.


 مکمل اردو ترجمہ (Complete Urdu) Translation)

 خوبصورت دیہات یا فوری دولت؟ کرسٹی کوونٹری کا اولمپک وژن گہرے جائزے کا مستحق کیوں ہے؟

کھیلوں کی دنیا اس وقت ایک شدید نظریاتی جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس طوفان کے مرکز میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کی عہدیدار کرسٹی کوونٹری ہیں، جنہوں نے اولمپک کھلاڑیوں کو براہِ راست انعامی رقم دینے کی مخالفت کر کے عالمی سطح پر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ ناقدین نے فوراً ان کے تبصروں کو ہتھیار بنا لیا اور "شہرت سے بل ادا نہیں ہوتے" کے نعرے کے تحت ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک جارحانہ مہم شروع کر دی۔ تاہم، اس بحث کو صرف مغربی اشرافیہ کے کھلاڑیوں کے نقطہ نظر سے دیکھنا ترقی پذیر ممالک کی ایک تاریک اور نظامی حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں بغیر کسی ضابطے اور منصوبہ بندی کے ملنے والی بھاری دولت کے کیا نتائج نکلتے ہیں، تو کوونٹری کی براہِ راست نقد ادائیگیوں کے خلاف وارننگ ادارہ جاتی لالچ نہیں بلکہ ایک تعمیری اور دور اندیشانہ وژن معلوم ہوتی ہے۔

 اچانک ملنے والی دولت کا سراب: ارشد ندیم کا کیس اسٹڈی

کوونٹری کی اس احتیاط کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے صرف پیرس اولمپکس میں پاکستان کے تاریخی جیولن گولڈ میڈل کے بعد کے حالات کو دیکھنا ہی کافی ہے۔ ارشد ندیم کی اس عظیم الشان فتح کا استقبال کسی منظم ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ نہیں کیا گیا، بلکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور کروڑوں روپے کے بے لگام نقد انعامات کی بوچھاڑ کے ذریعے کیا گیا۔

آج کے حالات پر نظر ڈالیں تو جنوبی ایشیا کی کھیلوں کی انتظامیہ کا وہی پرانا المیہ دوبارہ دہرایا جا چکا ہے۔ وہ تاریخی جیت اب کھیلوں کے منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔ ارشد ندیم نے اس تاریخی کامیابی کو پاکستان میں ٹریک اینڈ فیلڈ کے ایک نئے دور کے آغاز کے لیے استعمال کرنے کے بجائے، خود کو بین الاقوامی مقابلوں اور عوام کی نظروں سے دور کر لیا ہے۔ اسپورٹس بورڈز کی جانب سے جن جدید ہائی پرفارمنس سینٹرز کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب بھی صرف سرکاری فائلوں کی حد تک محدود ہیں۔

اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ انعامات کے نام پر قومی خزانے کے کروڑوں روپے ضائع کیے گئے۔ یہ خطیر رقم کھلاڑی کے لیے کسی مالیاتی انتظام یا رہنمائی کے بغیر تو دی ہی گئی، لیکن اس کا ایک بڑا حصہ ایک ایسے دو نمبر کوچ کی جیب میں بھی ڈال دیا گیا جس کا اس کھیل کی اعلیٰ سطح کی کوچنگ سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ جیسے ہی سیاسی تقریبات ختم ہوئیں اور سیاستدانوں نے اپنی تشہیر کے لیے تصاویر بنوا لیں، تو ایتھلیٹکس کی بنیادی اور نظامی ترقی کو سب بھول بھال گئے۔

مہر اللہ لاسی سے کراچی کی سڑکوں تک: ایک المناک تسلسل

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اچانک ملنے والی غیر منظم دولت کے ذریعے کھلاڑیوں کی زندگی تباہ کرنے کا ایک پرانا اور منظم پیٹرن ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں باکسنگ چیمپیئن مہر اللہ لاسی کو بھی اسی طرح سستی شہرت کے طوفان میں دھکیلا گیا تھا۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے، فوجی آمر نے مہر اللہ کے گھر جا کر اسے اپنا "بیٹا" قرار دیا اور اس پر پانچ کروڑ روپے کی خطیر رقم نچھاور کر دی۔

کسی ادارہ جاتی فریم ورک، اسپورٹس سائیکالوجی، یا مستقبل کے مالیاتی تحفظ کی کونسلنگ کے بغیر، وہ بڑی رقم مہر اللہ کے لیے ایک سزا بن گئی۔ آج پاکستان میں باکسنگ کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، اور مہر اللہ لاسی—جو کبھی قومی ہیرو تھا—کراچی کی سڑکوں پر نشے کی حالت میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے، اور اس کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ اس نظام نے اسے صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور پھر بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ یہ واقعات ایک تلخ حقیقت ثابت کرتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں انفرادی کھلاڑیوں پر کروڑوں روپے ضائع کرنا نہ صرف ان کی زندگیوں کو برباد کرتا ہے بلکہ کھیل کو بھی مار دیتا ہے، جبکہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

 ایک متوازن متبادل: انعامات کی حد اور ترقی کا تحفظ

اس تناظر میں، کرسٹی کوونٹری کا بنیادی فلسفہ بالکل درست ہے۔ اولمپک موومنٹ کو عارضی انفرادی لاٹریوں کے بجائے پائیدار اور مستقل انفراسٹرکچر کو ترجیح دینی چاہیے۔ تاہم، ایک درمیانی اور متوازن راستہ تلاش کرنا ممکن ہے۔

ایک جدید اور متوازن فریم ورک کے تحت اولمپک گولڈ میڈل کے لیے نقد انعام کی ایک حد مقرر کی جا سکتی ہے—مثال کے طور پر ایک لاکھ ڈالر تک—تاکہ کھلاڑی اپنے فوری اخراجات اور ٹریننگ کے دوران واجب الادا قرضے ادا کر سکیں۔ لیکن اولمپک مشینری سے حاصل ہونے والے باقی اربوں ڈالر کو سختی کے ساتھ عالمی ترقیاتی فنڈز (Global Development Funds) کے لیے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

اصل لڑائی آئی او سی کو انعامی رقم دینے پر مجبور کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو دیے جانے والے فنڈز میں کرپشن کو روکنے کے لیے سخت مانیٹرنگ اور آڈٹ کا نظام قائم کیا جائے۔ اگر آئی او سی قومی اولمپک ایسوسی ایشن کا کڑا احتساب کرے، اہداف کی نگرانی کرے، اور مقامی کرپٹ بیوروکریسی کو بائی پاس کر کے خود گراؤنڈ لیول پر سہولیات تعمیر کرے، تو اولمپک  موومنٹ کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی ٹاپ ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ کے اولمپک فنڈ کو واپس کئے جانے کا شفاف احتساب ھونا چاہیئے ۔

 افریقہ کے پہلے اولمپک ایڈونچر کی حمایت

کوونٹری سے استعفے کا مطالبہ کرنے والی یہ شدید اور جارحانہ مہم نہ صرف کم نظری پر مبنی ہے بلکہ یہ ایک خاص پروپیگنڈا اور سیاسی سبوتاژ ہے۔ جو لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ آئی او سی کے ترقیاتی بجٹ کو ختم کر کے کھلاڑیوں کی غربت دور ہو جائے گی، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

کوونٹری پر حملہ کر کے کھیلوں کی برادری جدید اولمپک تاریخ کے ایک انتہائی ترقی پسند باب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک پہلی خاتون افریقن اولمپک لیڈر کے طور پر، کوونٹری اس وقت افریقہ کی دھرتی پر تاریخ کے پہلے اولمپک ایونٹ—سینیگال میں ہونے والے یوتھ اولمپک گیمز—کے انعقاد کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ ان کی توجہ صرف چند پہلے سے اسپانسر شدہ اشرافیہ کھلاڑیوں کو مزید امیر بنانے پر نہیں، بلکہ کھیلوں کے دائرہ کار کو افریقہ جیسے پسماندہ خطوں تک پھیلانے پر مرکوز ہے۔

 حاصل کلام: سیاسی نمائش پر ادارہ جاتی وراثت کی برتری

کرسٹی کوونٹری کے خلاف غصہ ایک جذباتی بیانیے پر مبنی ہے، لیکن صحافتی اصول ساختی اور گہری سچائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جہاں امیر اور ترقی یافتہ ممالک کے کھلاڑی کھیلوں کو صرف ایک تجارتی اور کاروباری معاہدے کے طور پر دیکھتے ہیں، وہیں ترقی پذیر دنیا کو کھیلوں کو ایک طویل مدتی ادارہ جاتی ترقی کے چشمے سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

غیر منظم نقد انعامات نہ تو اسٹیڈیم بناتے ہیں، نہ گراس روٹ لیول کے کوچز تیار کرتے ہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ خود کھلاڑیوں کے مستقبل کو بھی محفوظ نہیں رکھ پاتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نقد انعامات کی اس سیاسی نمائش سے آگے بڑھا جائے، اولمپک موومنٹ کی اس پہلی خاتون افریقن صدر کا بھرپور ساتھ دیا جائے، اور ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اصل مقصد یعنی ادارہ جاتی احتساب اور مستقل اسپورٹس انفراسٹرکچر کا مطالبہ کیا جائے۔

------------------------------

مصنف کے بارے میں:

شاھدالحق ایک آزاد اسپورٹس جرنلسٹ، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا میں کھیلوں کی گورننس، ایتھلیٹس کی ترقی اور عالمی اسپورٹس مینجمنٹ میں ساختی و ادارہ 

جاتی اصلاحات کے موضوعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔