Thursday, 13 August 2026

کرکٹ کی پچ سے نیزہ بازی کے میدان تک: ارشد ندیم اور رمیش تھرنگا کی کامیابی کا سائنسی تجزیہ




 کرکٹ کی پچ سے نیزہ بازی کے میدان تک: ارشد ندیم اور رمیش تھرنگا کی کامیابی کا سائنسی تجزیہ 

تحریر: شاھدالحق (ماہرِ فٹنس و کھیل صحافی)

جنوبی ایشیا میں جب کوئی بچہ فٹنس اور رفتار کا مظاہرہ کرتا ہے، تو ہماری پہلی نظر کرکٹ کی پچ پر جاتی ہے۔ ارشد ندیم اور سری لنکا کے رمیش تھرنگا بھی اسی خواب کے ساتھ جوان ہوئے اور کرکٹ کی گیند کو اپنی تیز رفتاری سے خوف کی علامت بناتے رہے۔ لیکن آج یہ دونوں نام کرکٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ جیولن تھرو کی دنیا میں 90 میٹر کی تاریخی حد عبور کرنے کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر چمک رہے ہیں۔ بطور ایک فٹنس ایکسپرٹ اور کھیل صحافی، میرے لیے یہ محض ایک خوبصورت کہانی نہیں، بلکہ خالص اسپورٹس سائنس (Sports Science) اور بائیو مکینکس کا شاہکار ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ نیزہ صرف بازو کی طاقت سے پھینکا جاتا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے، جیولن اور فاسٹ باؤلنگ دونوں کی روح ایک ہی اصول پر قائم ہے، جسے ہم "کائنیٹک چین" (Kinetic Chain) کہتے ہیں۔ طاقت کبھی بازو سے پیدا نہیں ہوتی، یہ زمین سے جنم لیتی ہے۔ جب ارشد ندیم یا رمیش تھرنگا اپنے مخصوص رن اپ کے بعد آخری قدم لیتے ہیں، تو ان کی پچھلی ٹانگ میں 'ٹریپل ایکسٹینشن' (ٹخنے، گھٹنے اور کولہے کا بیک وقت سیدھا ہونا) زمین سے ایک شدید فورس پیدا کرتا ہے۔اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ سائنسی ہے۔ دونوں کھیلوں میں "فرنٹ لیگ بریس" (Front-Leg Brace) یعنی اگلی ٹانگ کا زمین پر ایک مضبوط دیوار کی طرح جم جانا سب سے اہم ہے۔ جب تیز رفتاری سے بھاگتا ہوا کھلاڑی اچانک بریک لگاتا ہے، تو نیچے کی تمام توانائی اوپر دھڑ (Torso) کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اس لمحے کولہے پہلے گھومتے ہیں اور کندھے پیچھے رہ جاتے ہیں (Hip-Shoulder Separation)۔ جسم میں پیدا ہونے والا یہ لچکدار کھچاؤ نیزے کو وہ جادوئی رفتار دیتا ہے جو اسے پچاس یا ساٹھ میٹر کے بجائے نوے میٹر پار پھینک دیتی ہے۔ فاسٹ باؤلرز کا اعصابی نظام (Nervous System) اور مسل میموری پہلے ہی اس میکانزم کے عادی ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں یہ تکنیک سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر فاسٹ باؤلر نیزہ اٹھا کر چیمپئن بن سکتا ہے۔ جیولن تھرو میں ایک باؤلر کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچک (Mobility) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم کو پیچھے کی طرف انگریزی کے حرف "C" کی طرح موڑنا ریڑھ کی ہڈی اور کمر کے نچلے حصے پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر کھلاڑی کے پاس بہترین کور اسٹیبلٹی اور مضبوط کندھے (Rotator Cuff) نہ ہوں، تو وہ 'جیولن ایلبو' (کہنی کے لِگامنٹ کا پھٹ جانا) جیسی کیریئر ختم کرنے والی چوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ارشد ندیم کی کہنی کی سرجریز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کھیل میں انسانی جسم کتنے بڑے خطرے سے گزرتا ہے۔برصغیر کے کوچز اور اسپورٹس بورڈز کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں اپنے ان فاسٹ باؤلرز پر نظر رکھنی چاہیے جو شاید کرکٹ کی لائن اور لینتھ میں پیچھے رہ گئے ہوں لیکن ان کے پاس زبردست رن اپ اسپیڈ اور دھماکہ خیز بازو کا جھٹکا موجود ہو۔ اگر ان کی اس قدرتی صلاحیت کو باربیل جمپس، میڈیسن بال تھروز اور مناسب بائیو مکینیکل ٹریننگ کے سانچے میں ڈھالا جائے، تو ہم گلی محلوں سے مزید ارشد ندیم پیدا کر سکتے ہیں۔ کرکٹ کی پچ سے پوڈیم تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ طاقت اور رفتار کبھی ضائع نہیں ہوتیں، بس انہیں درست سمت دینے والے وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔


مصنف کے متعلق: شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ماہر فٹنس ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ بھی رہے جبکہ سپورٹس اور فزیکل ایجوکیشن سائنسز کی تدریس سے بھی منسلک رہے چکے ھیں۔

Wednesday, 12 August 2026

ویٹ لفٹنگ کی جنگ، نقصان پاکستان کو۔۔۔ دو دھڑے، دو دعوے اور بیچ میں کھلاڑی — اب فیصلہ کون کرے گا؟


ویٹ لفٹنگ کی جنگ، نقصان پاکستان کو۔۔۔

دو دھڑے، دو دعوے اور بیچ میں کھلاڑی — اب فیصلہ کون کرے گا؟

تحریر: شاہد الحق

پاکستانی کھیلوں میں بعض اوقات اصل مقابلہ میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان نہیں بلکہ دفاتر میں عہدیداروں کے درمیان ہوتا ہے۔ پاکستان ویٹ لفٹنگ کا موجودہ بحران اسی تلخ حقیقت کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ ایک طرف پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کا دھڑا ہے، دوسری طرف پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ عبوری کمیٹی، جبکہ اس پوری کشمکش کا سب سے بڑا نقصان ان کھلاڑیوں کو ہو رہا ہے جو برسوں کی محنت کے بعد عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

ویٹ لفٹنگ کا بحران صرف انتظامی اختلاف نہیں رہا۔ ڈوپنگ کے معاملات، بین الاقوامی پابندیوں اور جرمانوں کے بعد اب معاملہ کھلاڑیوں کی رجسٹریشن، انتخاب اور بین الاقوامی شرکت تک پہنچ چکا ہے۔ 5 اگست 2026 کو PWLF کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14 کھلاڑیوں اور آفیشلز کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے انہیں 2028 تک اپنی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ ان افراد نے ایک غیر مجاز مقابلے میں شرکت کی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے: جب خود ویٹ لفٹنگ کا ادارہ کئی برس سے انتظامی اور بین الاقوامی تنازع کا شکار ہے تو اس پورے نظام میں حتمی اختیار اور legitimacy کا فیصلہ کون کرے گا؟

اس سوال کا ایک اہم جواب پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ Interim Committee کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔ کمیٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق عبوری کمیٹی کا مینڈیٹ 2021 میں ہائی کورٹ کے احکامات پر مقرر کیے گئے Delegate کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا تھا۔ ان سفارشات میں کلبوں کی scrutiny اور ضلعی و صوبائی سطح پر انتخابات بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق 2022-23 میں یہ انتخابات آزاد Election Commission کے ذریعے کرائے گئے اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نمائندگان بھی اس عمل میں موجود رہے۔ ان کے مطابق عبوری کمیٹی اپنا تفویض کردہ کام مکمل کر چکی ہے۔

اگر یہ مؤقف درست ہے تو پھر سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے:

جب کلبوں کی scrutiny ہو چکی، ضلعی انتخابات ہو گئے، صوبائی انتخابات بھی ہو گئے، تو پھر پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے مرکزی انتخابات آج تک کیوں نہیں ہو سکے؟

یہ سوال اب عبوری کمیٹی سے نہیں بلکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے بنتا ہے۔

آخر کب تک انتخابات کسی نہ کسی وجہ سے مؤخر ہوتے رہیں گے؟

آخر کب تک دو متوازی دعوے پاکستان ویٹ لفٹنگ کے مستقبل کو یرغمال بنائے رکھیں گے؟

اور آخر کب تک کھلاڑی یہ سوچتا رہے گا کہ اسے مقابلے کی تیاری کرنی ہے یا اپنی فیڈریشن کے اندر دھڑا تلاش کرنا ہے؟

یہاں نوح دستگیر بٹ کا معاملہ ہمارے سامنے ایک بڑے سوال کی طرح کھڑا ہے۔ وہی نوح جس نے Commonwealth Games میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا، Games Record بنایا اور پاکستان کو عالمی سطح پر امید دی۔ لیکن آج ایک ایسا کھلاڑی جس سے مزید بین الاقوامی میڈلز کی توقع کی جا سکتی تھی، ادارہ جاتی بحران اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات سے متاثر ہوا۔

کھلاڑی کی peak performance کی عمر محدود ہوتی ہے۔ اداروں کی لڑائیاں اگر برسوں چلیں تو ضائع ہونے والا وقت واپس نہیں آتا۔

میں کسی کھلاڑی کو قانون سے بالاتر کرنے کے حق میں نہیں۔ اگر کسی نے anti-doping قوانین توڑے ہیں، ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے یا جان بوجھ کر غیر مجاز مقابلے میں شرکت کی ہے تو شفاف تحقیقات، شواہد اور اپیل کے بعد کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اصول بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے کہ کسی کھلاڑی کو اداروں کی جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جا سکتا۔

پاکستان کو اب مزید notifications، counter-notifications اور باہمی الزامات نہیں چاہئیں۔

پاکستان کو چاہیے ایک شفاف انتخابی عمل، ایک legitimate فیڈریشن، ایک governance system اور ایک قومی ٹیم۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔ اگر انتخابات کرانے ہیں تو واضح انتخابی شیڈول دیا جائے۔ اور اگر انتخابات نہیں کرائے جا سکتے تو قوم کو بتایا جائے کہ آخر رکاوٹ کہاں ہے۔

خاموشی اب قابل قبول نہیں۔

میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے کھیل، کھلاڑی، فٹنس، اسپورٹس ایڈمنسٹریشن اور اسپورٹس جرنلزم سے وابستہ ہوں۔ میں نے قومی سطح پر باسکٹ بال کھیلا، قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ کے طور پر کام کیا، بڑے قومی و بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے اور برسوں سے کھلاڑیوں کے حقوق اور کھیلوں کی governance پر آواز اٹھاتا آ رہا ہوں۔

اسی تجربے کی بنیاد پر میرا سوال کسی ایک دھڑے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے:

اگر کھلاڑی پاکستان کے لیے میڈل جیت سکتا ہے تو ادارے پاکستان کے لیے ایک صاف، شفاف اور متفقہ فیڈریشن کیوں نہیں بنا سکتے؟

نوح دستگیر بٹ اور پاکستان کے دوسرے ویٹ لفٹرز کو کسی کی کرسی نہیں چاہیے۔

انہیں میدان چاہیے، میرٹ چاہیے اور پاکستان کی نمائندگی کا حق چاہیے۔

اب وقت ہے کہ اداروں کی جنگ ختم ہو۔

ایک فیڈریشن بنائیں، شفاف انتخابات کرائیں اور کھلاڑی کو اس کا میدان واپس دیں۔

ورنہ یاد رکھیے:

باربل کھلاڑی اٹھاتا ہے، مگر اداروں کی لڑائی کا وزن بھی آخرکار کھلاڑی ہی کیوں اٹھائے؟

تحریر: شاہد الحق

Sports Philanthropist | Senior Sports Journalist | Former National-Level Basketball Player | Fitness Expert & Coach | Sports Administrator | Founder, SPOFIT & SFAP