Thursday, 15 January 2026

 


 پاکستان ہاکی: الزام تراشی یا اصلاح؟

شفافیت، اتحاد اور بقا کا فیصلہ کن مرحل

تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق 

پاکستان کا قومی کھیل ہاکی آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اصل خطرہ صرف عالمی رینکنگ میں تنزلی یا میڈلز کی کمی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی تصادم، باہمی عدم اعتماد اور ذاتی مفادات کی سیاست ہے۔ بدقسمتی سے ہاکی کی موجودہ صورتِ حال میں اصل کھیل پس منظر میں جا چکا ہے جبکہ بیانیے، الزامات اور جوابی بیانات مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

ایک طرف یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) نے کبھی بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو اسکرونٹی یا انتخابی عمل روکنے کی ہدایت نہیں دی، اور کچھ مخصوص عناصر نے دانستہ طور پر کھلاڑیوں، کلب آرگنائزرز اور کوچز کو گمراہ کر کے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن سے روکے رکھا۔ اس بیانیے کے مطابق جو افراد مقررہ وقت پر فیڈریشن کے پورٹل پر رجسٹر ہوئے اور مکمل ڈیٹا فراہم کیا، وہ نظام کا حصہ بنے، جبکہ انتشار پھیلانے والے عناصر درحقیقت ہاکی کے دشمن ہیں۔

دوسری جانب، اسلام آباد سے آنے والی اطلاعات اور دستاویزی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 16 دسمبر 2025 کو پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا، جس میں آن لائن کلب رجسٹریشن، دو رکنی الیکشن کمیشن، اور آئینی و قانونی جواز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اسی خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آئی پی سی وزارت کی پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کے تحت آئندہ انتخابات پاکستان اسپورٹس بورڈ کی نگرانی میں ہوں گے، کیونکہ اس وقت دو متنازع گروپس — طارق حسین بگٹی اور شہلہ رضا — ہاکی کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا قومی کھیل ہاکی مزید تجربات، ضد اور انا کی سیاست کا متحمل ہو سکتا ہے؟

حالیہ حالات میں فیڈریشن کی جانب سے آن لائن پورٹل کے ذریعے کلب رجسٹریشن اور چیف آف آرمی اسٹاف انٹر کلب ایونٹس میں شرکت کو اسی رجسٹریشن سے مشروط کرنا، شفافیت کے بجائے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، خصوصاً جب ملک بھر کے کئی فعال گراس روٹ کلبز نے پاکستان اسپورٹس بورڈ پر اعتماد کرتے ہوئے اس عمل سے خود کو الگ رکھا۔ ان کلبز کا مطالبہ سادہ اور قابلِ فہم ہے:

کلب ڈیٹا کلیکشن اور اسکرونٹی ایک غیر جانبدار ریاستی ادارہ کرے تاکہ کسی بھی قسم کی جانبداری یا ڈمی کلبز کی گنجائش باقی نہ رہے۔

اسی تناظر میں یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ آن لائن پورٹل پر من پسند اور غیر فعال یا ڈمی کلبز کو رجسٹر کیا گیا، جس سے نہ صرف انتخابی عمل بلکہ قومی ایونٹس کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اگر ان الزامات میں صداقت کا شائبہ بھی موجود ہے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے، کیونکہ شفافیت کے بغیر نہ ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور نہ کھیل۔

یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش، ذاتی قربتیں، اور مبینہ مفادات نے اصلاحاتی عمل کو کمزور کیا۔ ہاکی جیسے قومی کھیل میں کسی فرد، گروہ یا عہدے کو مرکزِ نگاہ بنانا، کھیل کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اب ضرورت کس بات کی ہے؟

اب وقت الزام تراشی، یوٹرنز اور جوابی بیانیوں سے آگے بڑھنے کا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ:

پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ مل بیٹھ کر تمام کلب ڈیٹا کی آزاد، مشترکہ اور شفاف جانچ ہو

ایک غیر جانبدار، تین رکنی الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابی عمل مکمل کیا جائے گراس روٹ ہاکی، کھلاڑی، کوچ اور کلب آرگنائزر کو اصل اسٹیک ہولڈر تسلیم کیا جائے

اور سب سے بڑھ کر، ہاکی سے غیر متعلقہ، وقتی فائدہ اٹھانے والے عناصر کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جائے۔

قومی کھیل کسی کی ضد، انا یا عہدے کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ ہاکی پاکستان کی پہچان رہی ہے، اور اگر اسے دوبارہ اس کا کھویا ہوا مقام دلانا ہے تو شفافیت، ایمانداری، گڈ گورننس، اور اتحاد کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

یہ جنگ کسی گروپ کی جیت یا ہار کی نہیں، یہ جنگ پاکستان ہاکی کی بقا کی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف ایک سوال کے ساتھ یاد رکھیں گی: کیا ہم نے ہاکی کو بچانے کی کوشش کی… یا صرف ایک دوسرے کو الزام دینے میں وقت ضائع کیا

No comments:

Post a Comment