اسلامی یکجہتی گیمز: گولڈ اور سلور کی چمک کے پیچھے چھپا سچ — پاکستان اتھلیٹکس یکجہتی کے بجائے انتشار کا شکار ۔
ٹاپ جیولن کوچ فیاض بخاری کو دوبارہ نظرانداز کرنے کا فیصلہ کس کا تھا؟
ریاض میں ہونے والی اسلامی یکجہتی گیمز 2025 نے پاکستان کے لیے دو قیمتی تمغے ضرور دے دیے، مگر ان تمغوں کی چمک کے پیچھے ایک ایسی کہانی بھی ہے جسے بیان کیے بغیر یہ کامیابی ادھوری رہتی ہے۔ ارشد ندیم نے 83.05 میٹر کے ساتھ گولڈ اور یاسر سلطان نے 76.04 میٹر کی تھرو سے سلور لیا، اور قوم نے اِن دونوں کو سراہا بھی۔ مگر اصل سوال وہ ہے جو پس منظر میں اہلِ کھیل، فیڈریشن کے لوگ اور کوچنگ سرکٹس کئی ماہ سے مسلسل اٹھا رہے ہیں—یہ کامیابی کس کی تربیت کا ثمر ہے، اور اصل کوچ کہاں ہے؟
پاکستان میں ہر سنجیدہ شخص جانتا ہے کہ ارشد ندیم اور یاسر سلطان کو عالمی معیار تک لانے والا استاد صرف ایک ہی شخص ہے: سید فیاض بخاری۔ آٹھ برس کی محنت، مسلسل نگرانی، تکنیکی تعمیر، ذہنی مضبوطی، اور کھلاڑیوں کے مشکل ترین دور میں سہارا بننے والا یہی کوچ تھا۔ یہاں تک کہ کووِڈ کے زمانے میں بھی جب سسٹم کھلاڑیوں کو تنہا چھوڑ چکا تھا، بخاری ہی ارشد کا سہارا بنا رہا۔ مگر آج، جب اسلامی گیمز میں پاکستان کے جیوولن تھرو نے سب سے بڑی کامیابی دی، اسی استاد کا نام کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ محض اتفاق نہیں—یہ ایک فیصلہ تسلیم شدہ، منظم اور بدقسمت کہانی ہے۔
باوثوق ذرائع کی تصدیق ہے کہ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے اسلامی گیمز کے لیے بخاری ہی کو کوچ نامزد کیا تھا۔ مگر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے فیڈریشن کی رائے کے برخلاف ایک ایسا نام آگے بڑھا دیا جو دنیا کے کسی ریکارڈ میں جیوولن کوچ کے طور پر موجود ہی نہیں—سلمان بٹ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی سلمان بٹ فیڈریشن کی جنرل کونسل کے فیصلے کے مطابق لائف ٹائم بین ہیں۔ فیڈریشن کے ذمہ داران بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ کبھی بھی جیولن کوچ رہے ہی نہیں بلکہ صرف ایک معاون کے طور پر شامل کیے گئے تھے۔ لیکن سفارش، اثرورسوخ اور پسِ پردہ سیاسی قوتیں پہلوانی کھاڑے کی طرح فیصلہ کر چکی تھیں، اور پاکستان سپورٹس بورڈ بھی اسی دباؤ کے سامنے جھک گیا۔
یہ ایک خطرناک رجحان ہے کہ جس شعبے میں عالمی قوانین سب سے زیادہ سخت ہوں، وہاں بھی ادارے اپنی حدود پھلانگ جائیں۔ فیڈریشن کے اختیارات میں ایسی مداخلت عالمی اولمپک چارٹر اور ورلڈ ایتھلیٹکس کے اصولوں کے خلاف ہے۔ مگر یہاں اثرورسوخ نے اصولوں کو ایک طرف رکھ کر صرف ایک کھلاڑی کی قربت اور ذاتی معاملات کو ترجیح دی۔
یہ کہنا پڑے گا کہ ارشد ندیم نے بھی اس فیصلے میں ایک کردار ادا کیا۔ کئی حلقے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ خود سلمان بٹ کے حق میں سفارش کرتے رہے—شاید اس لیے کہ بٹ ان کی اسپانسرشپ اور ذاتی معاملات میں زیادہ قریب تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک کھلاڑی کو اپنا کوچ خود نامزد کرنے کا حق ہونا چاہیے؟ دنیا کی کوئی پیشہ ورانہ اسپورٹس سسٹم اس بات کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ یہ کارکردگی، نظم اور انصاف کو براہِ راست تباہ کرتا ہے۔
ارشد ندیم کی کارکردگی خود بھی اس پورے معاملے پر روشنی ڈالتی ہے۔ پیرس اولمپکس کے بعد 92.97 میٹر کے مقام سے اب 83.05 میٹر تک آ جانا محض اتفاق نہیں۔ کسی بھی ہائی پرفارمنس سائنس کے ماہر کو معلوم ہے کہ جب کھلاڑی عروج پر ہوتا ہے، اسے بہترین کوچنگ، سائنسی نگرانی اور عالمی معیار کی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’خود ساختہ کوچ‘‘—جو کاروباری ڈیلز تو سمجھا سکے مگر جیوولن کی تکنیک نہیں—وہاں تباہی ہی آتی ہے۔ مسلسل انجریز، غیر منصوبہ بند ٹریننگ اور کارکردگی کا تنزّل اسی بات کا ثبوت ہیں۔
اخلاقی پہلو اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ آٹھ سال کی محنت، مسلسل تربیت، اور ایک کھلاڑی کو عالمی سطح پر پہنچانے کا حق بجائے اس کے کہ کوچ کے نام کو دیا جاتا، اس کے سامنے دروازہ بند کر دیا گیا۔ انٹرنیشنل اسپورٹس میں یہ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک خطرناک بگاڑ کی علامت بھی۔ یہ پاکستان کے کھیلوں کے نظام میں ’’غیر اخلاقی گراوٹ‘‘ کی واضح مثال ہے—جہاں محنت کرنے والے کے حصے میں اپنوں کا دھکا، اور اثرورسوخ والوں کے حصے میں تمغوں کی چمک آ جاتی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ فیڈریشن کے سابق صدر و سیکریٹری، جو سلمان بٹ کو پنجاب کی صدارت اور ایشیائی سطح کے عہدے تک لے گئے تھے، بعد میں اسی بٹ کے خلاف ہو گئے۔ وجہ وہی روایتی کہانی—جب شاگرد طاقتور ہو جائے تو استاد کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ پنجابی محاورہ یاد آتا ہے:
"کھسرے دے گھر کاکا جما تے چم چم کے مار دیتا"
یعنی جہاں حق دار کا کوئی تعلق نہ ہو، وہاں طاقت کا جنم پورے گھرانے کو تباہ کر دیتا ہے۔یہی پاکستان اتھلیٹکس اور پاکستانی کھیلوں سے ھو رہا ھے۔
پاکستانی کھیلوں میں یہ معاملہ کوئی نئی کہانی نہیں، مگر اس بار اس کا نقصان کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہاں صرف ایک کوچ یا ایک کھلاڑی متاثر نہیں—بلکہ پوری جیوولن کمیونٹی، پاکستان کی اخلاقی بنیاد، اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے کھیلوں کی ساکھ خطرے میں پڑ گئی ہے۔
جہاں ھم اس کامیابی سے جیولن کا بہترین پرفارمینس سینٹر بنا کر نہ صرف اپنے اصل معمار کو خراج تحسین پیش کر سکتے تھے وہاں انتشاری ٹولہ جیت گیا۔
اس مسئلے کا حل واضح ہے: کوچز کو متحد ہو کر اپنی تنظیم قائم کرنی چاہیے، فیڈریشن کے اختیارات میں مداخلت ختم ہونی چاہیے، اور قومی سطح پر ’’کھلاڑی–کوچ‘‘ تعلق کا باقاعدہ اصول مقرر ہونا چاہیے کہ سفارش نہیں، کارکردگی فیصلہ کرے۔ بخاری جیسے محنتی کوچز کی عزت بحال کرنا صرف ایک شخص کا نہیں—پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔
تحریر: شاہد الحق
سپورٹس فلانتھروپسٹ، اسپورٹس جرنلسٹ، قومی سطح کے سابق باسکٹ بال پلیئر، فٹنس ماہر، بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کے آرگنائزر اور SPOFIT یوٹیوب چینل کے سی ای او۔

No comments:
Post a Comment