Saturday, 15 November 2025

AL QURAN,CHAPTER ZUKHRUF, AND PAKISTAN TODAY


 سورۃ الزخرف کی روشنی میں آج کا پاکستان: مادیت، طاقت، اور زمینی خداؤں کا فتنہ


تحریر: شاہد الحق


دنیا ہمیشہ سے ایک بنیادی کشمکش کا شکار رہی ہے—طاقت اور حق کی کشمکش۔ سورۃ الزخرف کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب اپنی چمک دمک، دولت، رتبے اور نسب پر فخر کرتا ہے، جب وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ بڑائی اس کے ہاتھ میں ہے، تو حقیقت میں وہ اپنے ہی انجام کا راستہ ہموار کر رہا ہوتا ہے۔


سورۃ الزخرف ان قوموں کی داستان بیان کرتی ہے جو اللہ کے واضح نشانات دیکھ کر بھی حق کو تکبر اور نمائشی شان کی وجہ سے مسترد کرتی رہیں۔ چاہے وہ قومِ فرعون ہو، قومِ عاد ہو، ثمود ہو یا وہ سردارانِ قریش جنہوں نے کہا کہ "پیغمبر کسی امیر یا سردار کو کیوں نہ بنایا گیا؟"—ان سب کا انجام ایک ہی تھا: زوال۔


آج کا انسان بھی اسی امتحان میں ہے۔ ہماری سوسائٹی نمائش، برانڈز، دولت، کنکشنز اور بڑے ناموں کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ قوتِ رزق، عزت اور ذلت کا فیصلہ انسان نہیں کرتا—اللہ کرتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کے گھر سونے کے بنے ہوتے، کوئی غریب نہ ہوتا اور کوئی کمزور نہ رہتا۔ مگر اللہ نے انسانوں کو آزمائش کے لیے مختلف حالات میں پیدا کیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کون حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور کون طاقت کے پیچھے۔


قدیم فرعونیت سے جدید سیاسی فرعونیت تک


سورۃ الزخرف میں فرعون کا رویہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک نظامِ سوچ کی تصویر ہے۔


فرعون نے بھی کہا تھا:

"کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں؟ کیا یہ نہریں میرے حکم پر نہیں بہتی؟"

لیکن چند لمحوں میں وہ طاقت اتنی بے بس ہو گئی کہ سمندر نے اس کی حقیقت نمایاں کر دی۔


آج کے دور کے موروثی سیاست دان—چاہے وہ بلاول ہوں یا مریم، یا ملک بھر کے چھوٹے بڑے وڈیرے—ان سب کی سوچ بھی اسی پرانی فرعونیت سے مختلف نہیں لگتی۔

دولت، طاقت، اور وراثتی سیاست نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ خود کو قانون اور عوام دونوں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔


یہاں کوئی شخص، کوئی خاندان، کوئی ادارہ ’’فرعون‘‘ نہیں، لیکن فرعونیت کا رویہ موجود ہے—ظاہری چمک، طاقت کا غرور، اور عوام کی بے بسی کو نظر انداز کرنے کا رویہ۔

یہی رویہ قوموں کو مٹاتا ہے، اور یہی رویہ اللہ کے قانونِ قدرت میں ہمیشہ زمین بوس ہوا ہے۔


یاد رکھیں: اللہ نے ہمیشہ غرور کو پاش پاش کیا

قریش نے اسی طرح اعتراض کیا تھا کہ "محمد ﷺ کو ہی نبی کیوں بنایا گیا؟ کوئی بڑا سردار کیوں نہیں؟" یہ وہی ذہنیت تھی جو فرعون نے اختیار کی، اور یہی ذہنیت ہر دور کے مستکبرین میں دیکھی جاتی ہے۔ آج بھی بہت سے لیڈر سمجھتے ہیں کہ اقتدار ان کی جاگیر ہے۔ اپنی نسلوں، محفلوں اور محلات کے سائے میں انہیں لگتا ہے کہ ان کی طاقت ہمیشہ قائم رہے گی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے کسی فرعون کو کبھی دوام نہیں دیا۔


اسلامی اصولوں کی بات کرنے والے آج کہاں کھڑے ہیں؟


عمران خان پیغمبر نہیں ہیں، نہ ہی کوئی مقدس شخصیت۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ عدل، ایک قانون سب کے لیے، اور اسلامی اصولوں پر مبنی حکمرانی کی بات کرتے آئے ہیں—ایسی باتیں جو کسی بھی مسلمان معاشرے کی بنیاد ہونی چاہییں۔ یہی وہ پیغام ہے جو 

قرآن بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے۔

اس کے برعکس آج طاقتور طبقات—چاہے وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی—اپنے مفاد اور غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر ملکی فیصلے کرتے نظر آتے ہیں۔

26ویں اور 27ویں ترامیم، بنیادی حقوق کی کمزوری، معیشت کا تنزل، مہنگائی، لوٹ مار—یہ سب اسی غلط سمت کا نتیجہ ہے جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے ہوش نہ کیا تو وہی انجام ہمارا بھی ہو سکتا ہے جو فرعون اور اس جیسے غرور کرنے والوں کا ہوا تھا۔


سورۃ الزخرف کا آج کے پاکستان کے لیے پیغام:


1. حق کے ساتھ کھڑے ہونا فرض ہے، آپشن نہیں۔


2. مادیت پرستی تباہی کا دروازہ ہے۔


3. ظالم کے سامنے خاموش رہنا ظلم میں شریک ہونا ہے۔


4. دولت، عہدہ، طاقت—کسی کو سزا سے نہیں بچا سکتے۔


5. قومیں اسی وقت بدلتی ہیں جب عوام متحد ہو کر کھڑے ہوں۔


6. زمینی خدا ٹوٹتے دیر نہیں لگتی، اللہ کا عدل ہمیشہ غالب آتا ہے۔


پاکستان میں صرف چند طاقتور خاندان اور گروہ ملک کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ قوم اگر بیدار نہ ہوئی، اگر انصاف کی آواز کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی، تو حالات بدلنے والے نہیں۔قوم اگر چاہے تو فرعونیت آج بھی شکست کھا سکتی ہے


سورۃ الزخرف ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے ’’خدا‘‘ ہمیشہ گرائے جاتے ہیں—چاہے وہ فرعون ہوں، سردارِ قریش ہوں، یا آج کے زمانے کے طاقت ور گروہ ہوں۔

اگر ہم متحد ہو جائیں، حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں، اور اللہ کی تعلیمات کو اپنا معیار بنائیں، تو پاکستان میں امن، عدل، اور برابری کا نظام قائم ہو سکتا ہے۔

بس قوم کو فیصلہ کرنا ہے—

کیا وہ چند خاندانوں کی غلامی قبول کرے گی؟

یا اللہ کے بتائے ہوئے نظامِ عدل کے ساتھ کھڑی ہوگی؟


مصنف کا تعارف .

شاہد الحق ایک اسپورٹس فیلنتھراپسٹ، فٹنس کوچ، قومی ٹیموں کے ٹرینر، اسپورٹس رائٹر، سماجی مبصر اور متعدد قومی و بین الاقوامی پروجیکٹس کے آرگنائزر ہیں۔ آپ کا کام ہمیشہ انسانیت، انصاف، اور صالح معاشرے کے فروغ پر مبنی رہا ہے۔ شاہد الحق کے نزدیک پاکستان کی اصل طاقت اس کی عوام ہے، اور یہی عوام اگر متحد ہو جائے تو ہر طرح کی فرعونیت کو شکست دے سکتی ہے۔

رابطہ: spofit@gmail.com

No comments:

Post a Comment