Sunday, 16 November 2025

الدخان کا پیغام — آج کی نسل اور پوری انسانیت کے لیے ایک طرفہ نصیحت

 سورۃ الدخان کا پیغام — آج کی نسل اور پوری انسانیت کے لیے ایک طرفہ نصیحت

تحریر: شاہد الحق


انسان جس تیزی سے بدلتی دنیا میں کھو جاتا ہے، قرآن اسی سرعت سے اسے حقیقت کی طرف واپس بلاتا ہے۔ سورۃ الدخان کا پیغام محض ماضی کے ایک واقعے کی یاد نہیں بلکہ آج کے انسان کے لیے ایک جگانے والی صدا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اللہ کی نشانیاں زمین و آسمان میں ظاہر ہوتی ہیں، تو دانا وہی ہے جو رک کر سوچتا ہے، جانچتا ہے اور اپنے دل کے دروازے رب کی طرف کھول دیتا ہے۔


اس سورۃ میں بدکاروں کے انجام کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جو انسان کی روح تک لرزا دیتا ہے—کھولتا ہوا پانی، گھیرتی ہوئی آگ، اور نافرمانی کی وہ سزا جس سے انسان کا ہر غرور ختم ہو جاتا ہے۔ یہ منظر دنیا والوں کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ گناہ کی روش خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہو، انجام ہمیشہ رسوائی اور عذاب ہی ہے۔ زندگی کی بے راہ روی، ظلم، ناانصافی، بے حیائی، فریب، اور دنیا میں ڈوب کر آخرت کو بھول جانا… یہ سب انسان کو اس انجام کے قریب لے جاتے ہیں جس سے سورۃ الدخان آگاہ کرتی ہے۔


اس کے مقابلے میں ایمان لانے والوں کے لیے سکون، رحمت، عزت اور دائمی خوشی کا وعدہ ہے۔ وہ مقام جہاں نہ دکھ ہے نہ خوف، نہ حسرت ہے نہ تھکن۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، سچ پر قائم رہتے ہیں، رشتوں کا احترام کرتے ہیں، حلال کماتے ہیں، اور اپنے کردار کو اللہ کے حکم کے ساتھ جوڑ کر زندہ رہتے ہیں۔ یہ پیغام صرف نوجوانوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر شخص کے لیے ہے—والدین، اساتذہ، رہنما، اور عام انسان—ہر وہ دل جو راہِ ہدایت کا خواہاں ہے یا بھٹک کر واپس لوٹنا چاہتا ہے۔


آج کا انسان خواہ کسی بھی عمر کا ہو، اسے دنیا کی چکاچوند میں کھو جانے سے پہلے رک کر یہ سوچنا ہوگا کہ کیا اس کا راستہ آخرت کے امن کی طرف جاتا ہے یا عذاب کی طرف؟ سورۃ الدخان ہمیں دوستوں، ماحول، سوشل میڈیا، طاقت اور خواہشات کے اس دھوکے سے نکال کر اصل صداقت کی طرف بلاتی ہے—وہ راستہ جو انسان کو گناہ سے نفرت اور نیکی سے محبت عطا کرتا ہے۔


ہماری آنے والی نسلیں اسی وقت محفوظ ہوں گی جب ہم خود قرآن کی روشنی میں زندگی گزاریں گے۔ اپنے گھروں میں، اپنے بچوں کی تربیت میں، اپنے فیصلوں میں، اپنے رویوں میں—اگر ہم اللہ کے حکم کے مطابق چلیں تو دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے۔ یہی سورۃ الدخان کی اصل نصیحت ہے: گناہ چھوڑو، اللہ کی طرف لوٹو، اور یاد رکھو کہ انجام پر اللہ کا انصاف غالب ہوگا۔


آخر میں میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر ہم نے ابھی بھی خود کو نہ بدلا، تو صرف نوجوان نہیں پوری قوم گمراہی کی طرف چلی جائے گی۔ اللہ ہمیں وہ بینائی دے جو حق دکھائے، وہ ہمت دے جو برائی سے بچائے، اور وہ محبت دے جو ہمیں قرآن کے ساتھ جڑ کر رکھے۔ یہی راستہ فلاح کا ہے، اسی میں ہماری عزت ہے، اور اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی۔


No comments:

Post a Comment