Monday, 15 September 2025

No Handshake in Cricket: How India Turned Sport into Hostility


  

No Handshake in Cricket: How India Turned Sport into Hostility


By: Sports Friend, Shahid Ulhaq


The Sanctity of Sports Undermined


Much has been said about Pakistan’s defeat against India, but the real question lies in the behavior of the Indian team. Refusing the traditional post-match handshake was not just stubbornness—it was a direct blow to the very spirit of sports. This act was nothing short of a denial of sportsmanship.


History and Importance of the Handshake


The handshake is a tradition dating back centuries. In ancient Greece and Rome, it symbolized peace—proof that no weapons were held in hand. In modern sports, it represents mutual respect, sportsmanship, and unity.

The Olympic Charter itself emphasizes that the goal of sport is not merely competition but to promote friendship and fraternity among nations. That is why players shake hands after every game: to send the message that winning and losing are secondary to respect and harmony. By breaking this tradition, India has inscribed a dark chapter in the history of sport.


Dubai Asia Cup 2025 — The “No Handshake” Controversy


On September 14, 2025, following the Asia Cup match in Dubai, controversy erupted when Indian captain Suryakumar Yadav openly admitted that his team had deliberately decided not to shake hands with Pakistan’s players.

According to Indian media, this was not a spontaneous decision but a policy dictated by the Indian government. Yadav even called the win a “perfect reply” to Pakistan.


Al Jazeera reported that the Indian captain linked this action to the four-day border clash in May that nearly pushed both nations to war. In other words, sport was misused as an extension of political conflict—turning the arena of peace into a stage for hostility.


India’s negative attitude was not confined to the field. In fact, the official account of Indian cricket was also suspended on X (Twitter) for violating platform rules. This is clear evidence that India is using cricket as a tool for propaganda and political hatred rather than for the spirit of sport.


Questions That Must Be Asked


How could the Asian Cricket Council’s chairman—who also happens to be the head of the Pakistan Cricket Board—allow this to happen?

Will the ACC and ICC remain silent?

Will our own cricket board lodge a protest with the ICC?

Or will the institutions of sport bow down to political pressure at the cost of sportsmanship?


India’s actions must be exposed. Time and again, it has boycotted games in Pakistan, denied visas to Pakistani athletes, and weaponized cricket against peace. True sport is about respect and brotherhood. A country that replaces this philosophy with hatred and political stubbornness has no place on the global sports map.


A Call for Accountability


I urge Pakistan’s decision-makers and power brokers to raise this issue at the international level. It is time to push diplomatically to exclude India from hosting or even bidding for the 2036 Olympics. A nation that brings enmity, hatred, and extremism into sports cannot be trusted with the stewardship of global events. India’s actions deserve to be labeled what they truly are: “Sports Terrorism.”


Time for Reform in Pakistan Too


Cricket must be handed back to cricketers. The system requires fundamental reform, where qualified professionals—not imported bureaucrats or politically appointed “robots”—run the game. The practice of controlling cricket through bureaucratic and political appointments must end now.


Pakistan’s defeat against India was one of the worst performances in history, a mirror held up to our administrators. The team’s display was poor enough, but for the PCB chairman, the real lesson is this: let sports be run by professionals, or Pakistan will continue to face global embarrassment.



By: Sports Friend, Shahid Ulhaq

Senior Sports Journalist & Vlogger | Former National Player & Fitness Coach | Sports Philanthropist


Email: spofit@gmail.com

Cell: +92-3335161425

YouTube: SPOFIT


کھیل، اصول اور کرکٹ کی سیاست

تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق


کھیل کا تقدس پامال

انڈیا کے خلاف شکست پر تبصرے تو بہت ہو چکے، لیکن اصل سوال بھارتی ٹیم کے اس رویے پر ہے جس نے کھیلوں کے بنیادی اصول ہی روند ڈالے۔ جیت کے بعد روایتی "ہینڈ شیک" نہ کرنا محض ایک ضد نہیں بلکہ کھیل کی اصل روح پر کاری ضرب تھی۔ یہ رویہ اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلی نفی ہے۔


کھیلوں میں ہینڈ شیک کی تاریخ اور اہمیت


ہینڈ شیک کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ قدیم یونان اور روم میں یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں، یعنی سامنے والے کے لیے امن اور اعتماد کا پیغام۔ جدید کھیلوں میں یہ روایت اسپورٹس مین اسپرٹ، باہمی احترام اور اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اولمپک چارٹر میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ کھیلوں کا مقصد صرف مقابلہ نہیں بلکہ قوموں کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کھیل کے بعد کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تاکہ یہ پیغام دنیا تک پہنچے کہ کھیل میں جیت اور ہار اپنی جگہ، لیکن احترام اور بھائی چارہ مقدم ہے۔ بھارت نے اسی بنیادی روایت کو توڑ کر کھیل کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کر دیا۔


دبئی ایشیا کپ 2025 — نو ہینڈ شیک تنازعہ


14 ستمبر 2025 کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے میچ کے بعد یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارتی کپتان سوریہ کمار یادیو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی ٹیم نے پاکستان کے کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اور پالیسی کے تحت کیا۔

یہ فیصلہ صرف کھیل کے خلاف نہیں بلکہ کھیل کو سیاست کا ہتھیار بنانے کی کھلی مثال ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ قدم بھارتی حکومت کی پالیسی کے تحت اٹھایا گیا، اور یادیو نے اس جیت کو پاکستان کے خلاف "پرفیکٹ جواب" قرار دیا۔


الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کپتان نے اس اقدام کو مئی میں ہونے والے چار روزہ سرحدی تنازعے کا تسلسل قرار دیا، جس نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ گویا کھیل کو سفارتی اور جنگی ماحول کی عکاسی کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کھیل کو امن اور بھائی چارے کے بجائے سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا دیا گیا۔


بھارتی کرکٹ کا منفی رویہ صرف میدان تک محدود نہیں رہا۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ کا آفیشل ٹویٹر/ایکس اکاؤنٹ بھی پلیٹ فارم کے قوانین کی خلاف ورزی پر منقطع کر دیا گیا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی کرکٹ کو کھیل کے بجائے سیاسی نفرت اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔


یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کا سربراہ، جو بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی سربراہ ہے، اس پروگرام پر آمادہ کیسے ہو گیا؟ کیا ایشیئن کرکٹ کونسل اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس معاملے پر خاموش رہے گی؟ کیا ہمارا  کرکٹ بورڈ اس پر آئی سی سی سے احتجاج کرواۓ گا؟ کیا کھیلوں کے ادارے کھیل کے وقار کے بجائے سیاسی مفاد کے سامنے جھک جائیں گے؟


بھارت کو بے نقاب کرنا ضروری کیونکہ کھیلوں میں کئی بار پاکستان کے خلاف کبھی پاکستان میں نہ کھیل کر اور کبھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ دے کر کھیلوں میں دہشت گردی پھیلانے کی سازش کر چکا ھے۔  کھیلوں کا اصل حسن امن، بھائی چارہ اور احترام ہے۔ جو ملک اس فلسفے کو ماننے کے بجائے نفرت اور ضد کو کھیل میں لے آئے، اسے دنیا کے کھیلوں کے نقشے سے الگ کر دینا ہی بہتر ہے


میں پاکستان کے فیصلہ سازوں اور طاقتور حلقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بھارت کے اس رویے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ وقت آگیا ہے کہ ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کو 2036اولمپک کی دوڑ سے باہر کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ جو ملک کھیل میں دشمنی، نفرت اور سیاسی انتہا پسندی لاتا ہے، وہ کسی بھی عالمی ایونٹ کا میزبان یا امیدوار نہیں ہو سکتا۔ بھارت کے اس رویے کو "اسپورٹس ٹیررازم" یعنی کھیلوں میں دہشت گردی و بد معاشی کے مترادف قرار دینا چاہیئے ہے۔


اب بھی وقت ھے کرکٹ کو کرکٹ والوں کے حوالے کریں۔ کھیلوں میں اس بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے کہ متعلقہ اور قابل لوگوں کو کھیلوں کی ذمہ داری دی جاۓ جو خصوصی طور پر کھیل کی ترقی کا باعث بنیں۔ کرکٹ کو صرف کرکٹ کے پیشہ ور افراد کے حوالے کیا جائے۔ یہ "درآمد شدہ روبوٹس" جو محض سفارشی بنیادوں پر تعینات ہیں، پاکستان کرکٹ کو بدنام کر رہے ہیں۔ کھیلوں کو بیوروکریٹک یا سیاسی تقرریوں کے ذریعے چلانے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔


پاکستان کی بھارت سے شکست بد ترین کارکردگی ھے جو  ایک آئینہ ھے۔ زمینداروں کے لئے۔ ٹیم کی کارکردگی ناقص تھی، جس پر عوام اور ماہرین پہلے ہی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ لیکن چیئرمین کرکٹ بورڈ کے لیے یہی سبق کافی ہے کہ کھیل کو کھیل کے طور پر چلنے دیا جائے۔ بصورت دیگر پاکستان مزید عالمی سبکی کا شکار ہوتا رہے گا۔


تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق

سینئر سپورٹس جرنلسٹ و ویلاگر | سابق نیشل پلیئر و  فٹنس کوچ | اسپورٹس فلانتھاپسٹ

Email: spofit@gmail.com 

Cell: +92-3335161425

YouTube: SPOFIT 

۔


No comments:

Post a Comment