Sunday, 21 September 2025

Athletes’ Rights and the Mafia-Style Rules of Pakistani Sports Federations

Athletes’ Rights and the Mafia-Style Rules of Pakistani Sports Federations



By: Shahid Ulhaq


In every civilized sports ecosystem, athletes are considered the backbone of the system. They are the ones who bring medals, recognition, and pride to their country. Yet, in Pakistan, athletes are treated as expendable commodities, while federations operate under mafia-style rules that suppress merit and promote personal interests.


The Rights of Athletes


1. Right to Merit – Every athlete deserves selection and opportunities based on performance, not connections or favoritism.


2. Right to Proper Coaching – An athlete should have the freedom to train with their original coach who understands their strengths and weaknesses.


3. Right to Transparent Funding – Athletes must benefit directly from government or sponsorship funds allocated in their name.


4. Right to Representation – Athletes should have a voice in decision-making bodies of sports federations.


5. Right to Protection – Athletes should be safeguarded from exploitation, political pressure, and misuse of power.


Mafia-Style Rules of Federations


Unfortunately, most federations in Pakistan run not by professional administrators but by individuals who use sports as personal fiefdoms. Some of their unfair practices include:


Appointing relatives and loyalists as coaches or managers, regardless of merit.


Using funds for foreign trips under the disguise of “training camps,” while athletes remain underfunded.


Punishing athletes who speak up by excluding them from teams or denying them facilities.


Exploiting government resources for personal publicity instead of athlete development.


Treating federations like private clubs where accountability is absent.


The Way Forward


If Pakistan wants to compete at the global level, these mafia-like structures must be dismantled. Practical steps include:


1. Restructuring the Pakistan Sports Board with independent sports experts, former athletes, and professional administrators.



2. Establishing an Athlete Rights Charter to ensure their welfare, representation, and fair treatment.



3. Enforcing Accountability Mechanisms for all federations to audit their funds and decisions.



4. Integrating Sports Science and Long-Term Planning into training to prevent short-term fixes.



5. Empowering Athletes’ Voices so that they are no longer silent victims of power politics.


Athletes are not beggars of recognition—they are ambassadors of Pakistan on the world stage. Until we protect their rights and eliminate the mafia-style rules of federations, Pakistani sports will remain hostage to corruption, nepotism, and exploitation. It is time for the government and society to stand with the athletes, not with those who exploit them.


✍️ Shahid Ulhaq

Sports Philanthropist | Former National Basketball Player | Fitness Coach (National Teams) | Sports Writer & Vlogger | Event Manager (International Projects) | Development Director – Pakistan Powerlifting Federation


Email: spofit@gmail.com

Contact: +92 333 5161425

YouTube Channel: SPOFIT

فیڈریشنز کی بدمعاشی، کھلاڑیوں کے حقوق اور فوری اصلاحات


تحریر: شاہد الحق (کھیل دوست)


پاکستانی کھیلوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی میدان میں حریف سے کم اور اپنی ہی فیڈریشنز کے بدمعاش قوانین اور رویوں سے زیادہ لڑتے ہیں۔ فیڈریشنز کا بنیادی کام کھیل کو فروغ دینا، کھلاڑیوں کو سہولیات دینا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ادارے کھلاڑیوں پر دھونس جمانے اور ان سے پیسے بٹورنے کے اڈے بن چکے ہیں۔


بدمعاش قوانین: کھلاڑی غلام، فیڈریشن بادشاہ


پاکستان میں اکثر فیڈریشنز کے قوانین شفاف نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو غلام بنانے کے ہتھیار ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی معاشی بہتری یا کھیل میں نکھار کے لیے کسی اور کلب، ٹیم یا لیگ سے کھیلنے کی کوشش کرے تو فیڈریشن فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ کھلاڑی پر بغیر نوٹس، تحقیق یا مؤقف سنے پابندی لگا دی جاتی ہے۔ پھر جب کھلاڑی احتجاج کرے تو اسے کہا جاتا ہے: "کونسل کا فیصلہ آنے تک آپ نہیں کھیل سکتے"۔ یہ فیصلے کئی کئی ماہ لٹکائے جاتے ہیں اور اس دوران کھلاڑی کا پورا کیریئر خطرے میں پڑ جاتا ہے۔


مزید ظلم یہ ہے کہ پابندی ہٹانے کے لیے کھلاڑی سے ہزاروں روپے جرمانہ لیا جاتا ہے، وہ بھی بغیر رسید۔ سوال یہ ہے کہ جب فیڈریشنز کھلاڑی کو کوئی مالی فائدہ دیتی ہی نہیں تو ایک غریب کھلاڑی اتنا بھاری جرمانہ کہاں سے بھرے؟


یہ فیڈریشنز خود تو شاذونادر ہی ٹورنامنٹ منعقد کرتی ہیں، لیکن دوسروں کو بھی اجازت نہیں دیتیں۔ اگر کوئی کلب اپنی مدد آپ کے تحت ایونٹ کرا لے تو اس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو فوراً بین کر دیا جاتا ہے۔


اصل کھیل یہ ہے کہ:


ٹورنامنٹ کرانے کی فیس بٹورنا


کھلاڑیوں پر جرمانے لگانا


فنڈز کا غیر شفاف استعمال


خانہ پوری کے لیے ’’چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ‘‘ کا بہانہ


نتیجہ یہ کہ فیڈریشنز کھیل نہیں بلکہ بزنس سینٹرز بن گئی ہیں۔


کھلاڑیوں پر ذہنی ٹارچر اور جاسوسی


کچھ عہدیدار اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کی جاسوسی تک کرتے ہیں۔ واٹس ایپ یا ای میل پر کھلاڑیوں کے سوالات اور شکایات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس رویے کے باعث کھلاڑی کھیل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے مستقل دباؤ اور ذہنی ٹینشن میں رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں یا ہمیشہ کے لیے کھیل کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔


یہ رویہ نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں کے لیے تباہ کن ہے بلکہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتا ہے۔


بین الاقوامی مثالیں: ہمیں سیکھنے کی ضرورت


کرکٹ: انٹرنیشنل کرکٹ میں کھلاڑی فری لانسر کی طرح مختلف لیگز کھیل سکتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے بورڈ کو اطلاع دینی ہوتی ہے، اجازت نہیں مانگنی پڑتی۔ پاکستان کو بھی یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔


فٹبال (FIFA): کھلاڑیوں کی منتقلی (Transfers) اور حقوق کے واضح قوانین موجود ہیں، جس سے کھلاڑیوں کی معاشی و پیشہ ورانہ آزادی یقینی بنتی ہے۔


NBA اور یورپین باسکٹ بال: کھلاڑی کلب اور لیگز بدل سکتے ہیں، ان کے کنٹریکٹس اور ٹرانسفر فی سسٹم واضح اور شفاف ہیں۔


اولمپک چارٹر: کھیل کو بنیادی انسانی حق قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2014 کی قرارداد بھی اس حق کی ضمانت دیتی ہے۔ پاکستان نے بھی اس پر دستخط کر رکھے ہیں، لیکن عمل نہیں ہو رہا۔


اصلاحات اور تجاویز: راستہ یہی ہے


1. رسائی اور شکایات کا نظام

کھلاڑیوں کو براہِ راست فیڈریشن عہدیداروں تک رسائی دی جائے۔ ایک خودکار اور شفاف شکایتی نظام بنایا جائے جس پر فوری ایکشن ہو۔


2. فیصلے صرف مؤقف سننے کے بعد

کسی بھی کھلاڑی پر پابندی یا جرمانہ لگانے سے پہلے اس کا مؤقف سننا اور ثبوت فراہم کرنا لازمی قرار دیا جائے۔


3. شفاف قوانین اور آگاہی

تمام قوانین فیڈریشن کی ویب سائٹ اور کلب کی سطح پر تحریری شکل میں دستیاب ہوں تاکہ کھلاڑیوں کو پہلے سے آگاہی ہو۔


4. جرمانے کے بجائے حقیقت پسندانہ سزائیں


ہزاروں روپے کے جرمانے ختم کیے جائیں


کرکٹ کی طرز پر سزا دی جائے: میچ فیس یا وظیفے کا کچھ حصہ جرمانے کے طور پر کاٹا جائے، یا ایک میچ/ٹورنامنٹ پر پابندی لگائی جائے

اس سے کھلاڑی کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگا اور وہ کھیل چھوڑنے پر مجبور بھی نہیں ہوگا۔


5. احتساب اور فنڈز کی شفافیت

فیڈریشنز کے تمام مالی معاملات اور آڈٹ رپورٹس عوامی سطح پر شائع کی جائیں۔ کھلاڑی اور عوام جان سکیں کہ ان سے بٹوری گئی رقوم کہاں خرچ ہو رہی ہیں۔


6. کھلاڑیوں کی آزادی

عام کلب اور علاقائی کھلاڑیوں کو ڈیپارٹمنٹل کھلاڑیوں کی طرح پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے آزادی دی جائے۔ وہ اپنے کوچ کو اطلاع دے کر کسی بھی لیگ یا ایونٹ میں کھیل سکیں، جیسا کہ کرکٹ کے کلب سسٹم میں ہوتا ہے۔


یہ ملک کھلاڑیوں کا ہے، فیڈریشنز کا نہیں۔ کھلاڑیوں کو غلام بنانے والے قوانین پاکستان کے کھیلوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں تو کھیلوں میں بغاوت بڑھے گی اور باصلاحیت نوجوان ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔


وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، وزارتِ کھیل اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور فیڈریشنز کو کٹہرے میں لائیں۔ یاد رکھیں، کھلاڑی کے بغیر کھیل نہیں اور کھیل کے بغیر قوم نہیں۔

شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ویلاگر ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ اور باسکٹ بال کھلاڑی رہے ۔ کھیلوں کوچ کھلاڑی کے حقوق کے علمبردار اور کھیلوں کی طاقت سے ترقی و امن کے پیرو کار ھیں۔


Email: spofit@gmail.com

 Cell: +92 333 5161425

YouTube: SPOFIT


 فیڈریشنز کی بدمعاشی، کھلاڑیوں کے حقوق اور فوری

 اصلاحات


تحریر: شاہد الحق (کھیل دوست)


پاکستانی کھیلوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی میدان میں حریف سے کم اور اپنی ہی فیڈریشنز کے بدمعاش قوانین اور رویوں سے زیادہ لڑتے ہیں۔ فیڈریشنز کا بنیادی کام کھیل کو فروغ دینا، کھلاڑیوں کو سہولیات دینا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ادارے کھلاڑیوں پر دھونس جمانے اور ان سے پیسے بٹورنے کے اڈے بن چکے ہیں۔


بدمعاش قوانین: کھلاڑی غلام، فیڈریشن بادشاہ


پاکستان میں اکثر فیڈریشنز کے قوانین شفاف نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو غلام بنانے کے ہتھیار ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی معاشی بہتری یا کھیل میں نکھار کے لیے کسی اور کلب، ٹیم یا لیگ سے کھیلنے کی کوشش کرے تو فیڈریشن فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ کھلاڑی پر بغیر نوٹس، تحقیق یا مؤقف سنے پابندی لگا دی جاتی ہے۔ پھر جب کھلاڑی احتجاج کرے تو اسے کہا جاتا ہے: "کونسل کا فیصلہ آنے تک آپ نہیں کھیل سکتے"۔ یہ فیصلے کئی کئی ماہ لٹکائے جاتے ہیں اور اس دوران کھلاڑی کا پورا کیریئر خطرے میں پڑ جاتا ہے۔


مزید ظلم یہ ہے کہ پابندی ہٹانے کے لیے کھلاڑی سے ہزاروں روپے جرمانہ لیا جاتا ہے، وہ بھی بغیر رسید۔ سوال یہ ہے کہ جب فیڈریشنز کھلاڑی کو کوئی مالی فائدہ دیتی ہی نہیں تو ایک غریب کھلاڑی اتنا بھاری جرمانہ کہاں سے بھرے؟


یہ فیڈریشنز خود تو شاذونادر ہی ٹورنامنٹ منعقد کرتی ہیں، لیکن دوسروں کو بھی اجازت نہیں دیتیں۔ اگر کوئی کلب اپنی مدد آپ کے تحت ایونٹ کرا لے تو اس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو فوراً بین کر دیا جاتا ہے۔


اصل کھیل یہ ہے کہ:


ٹورنامنٹ کرانے کی فیس بٹورنا


کھلاڑیوں پر جرمانے لگانا


فنڈز کا غیر شفاف استعمال


خانہ پوری کے لیے ’’چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ‘‘ کا بہانہ


نتیجہ یہ کہ فیڈریشنز کھیل نہیں بلکہ بزنس سینٹرز بن گئی ہیں۔


کھلاڑیوں پر ذہنی ٹارچر اور جاسوسی


کچھ عہدیدار اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کی جاسوسی تک کرتے ہیں۔ واٹس ایپ یا ای میل پر کھلاڑیوں کے سوالات اور شکایات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس رویے کے باعث کھلاڑی کھیل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے مستقل دباؤ اور ذہنی ٹینشن میں رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں یا ہمیشہ کے لیے کھیل کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔


یہ رویہ نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں کے لیے تباہ کن ہے بلکہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتا ہے۔


بین الاقوامی مثالیں: ہمیں سیکھنے کی ضرورت


کرکٹ: انٹرنیشنل کرکٹ میں کھلاڑی فری لانسر کی طرح مختلف لیگز کھیل سکتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے بورڈ کو اطلاع دینی ہوتی ہے، اجازت نہیں مانگنی پڑتی۔ پاکستان کو بھی یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔


فٹبال (FIFA): کھلاڑیوں کی منتقلی (Transfers) اور حقوق کے واضح قوانین موجود ہیں، جس سے کھلاڑیوں کی معاشی و پیشہ ورانہ آزادی یقینی بنتی ہے۔


NBA اور یورپین باسکٹ بال: کھلاڑی کلب اور لیگز بدل سکتے ہیں، ان کے کنٹریکٹس اور ٹرانسفر فی سسٹم واضح اور شفاف ہیں۔


اولمپک چارٹر: کھیل کو بنیادی انسانی حق قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2014 کی قرارداد بھی اس حق کی ضمانت دیتی ہے۔ پاکستان نے بھی اس پر دستخط کر رکھے ہیں، لیکن عمل نہیں ہو رہا۔


اصلاحات اور تجاویز: راستہ یہی ہے


1. رسائی اور شکایات کا نظام

کھلاڑیوں کو براہِ راست فیڈریشن عہدیداروں تک رسائی دی جائے۔ ایک خودکار اور شفاف شکایتی نظام بنایا جائے جس پر فوری ایکشن ہو۔


2. فیصلے صرف مؤقف سننے کے بعد

کسی بھی کھلاڑی پر پابندی یا جرمانہ لگانے سے پہلے اس کا مؤقف سننا اور ثبوت فراہم کرنا لازمی قرار دیا جائے۔


3. شفاف قوانین اور آگاہی

تمام قوانین فیڈریشن کی ویب سائٹ اور کلب کی سطح پر تحریری شکل میں دستیاب ہوں تاکہ کھلاڑیوں کو پہلے سے آگاہی ہو۔


4. جرمانے کے بجائے حقیقت پسندانہ سزائیں


ہزاروں روپے کے جرمانے ختم کیے جائیں


کرکٹ کی طرز پر سزا دی جائے: میچ فیس یا وظیفے کا کچھ حصہ جرمانے کے طور پر کاٹا جائے، یا ایک میچ/ٹورنامنٹ پر پابندی لگائی جائے

اس سے کھلاڑی کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگا اور وہ کھیل چھوڑنے پر مجبور بھی نہیں ہوگا۔


5. احتساب اور فنڈز کی شفافیت

فیڈریشنز کے تمام مالی معاملات اور آڈٹ رپورٹس عوامی سطح پر شائع کی جائیں۔ کھلاڑی اور عوام جان سکیں کہ ان سے بٹوری گئی رقوم کہاں خرچ ہو رہی ہیں۔


6. کھلاڑیوں کی آزادی

عام کلب اور علاقائی کھلاڑیوں کو ڈیپارٹمنٹل کھلاڑیوں کی طرح پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے آزادی دی جائے۔ وہ اپنے کوچ کو اطلاع دے کر کسی بھی لیگ یا ایونٹ میں کھیل سکیں، جیسا کہ کرکٹ کے کلب سسٹم میں ہوتا ہے۔


یہ ملک کھلاڑیوں کا ہے، فیڈریشنز کا نہیں۔ کھلاڑیوں کو غلام بنانے والے قوانین پاکستان کے کھیلوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں تو کھیلوں میں بغاوت بڑھے گی اور باصلاحیت نوجوان ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔


وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، وزارتِ کھیل اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور فیڈریشنز کو کٹہرے میں لائیں۔ یاد رکھیں، کھلاڑی کے بغیر کھیل نہیں اور کھیل کے بغیر قوم نہیں۔

شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ویلاگر ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ اور باسکٹ بال کھلاڑی رہے ۔ کھیلوں کوچ کھلاڑی کے حقوق کے علمبردار اور کھیلوں کی طاقت سے ترقی و امن کے پیرو کار ھیں۔


Email: spofit@gmail.com

 Cell: +92 333 5161425

YouTube: SPOFIT

No comments:

Post a Comment