Thursday, 18 December 2025



 اربوں کے بجٹ اور چند حقیقی کوچز پاکستانی کھیلوں کے اصل ہیروز

تحریر: کھیل دوست،  شاھدالحق 

پاکستان میں کھیلوں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے دعوے ایک طرف، اور دوسری طرف چند ایسے کوچز ہیں جو کسی فیڈریشن، کسی اسپورٹس بورڈ یا کسی حکومتی وزارت کی مدد کے بغیر، اپنے ذاتی وسائل، خلوص اور لگن کے ساتھ پاکستان کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی کئی میڈلز جیت چکے ہیں۔ آج اگر ہم فیاض بخاری (جیولن تھرو)، دستگیر بٹ  (ویٹ لفٹنگ)، روما الطاف (اتھلیٹکس) اور قمر زمان و طاہر خان (سکواش)، ڈاکٹر عیسیٰ کاکڑ (تائیکوانڈو)جیسے کوچز کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو اصل سوال صرف کامیابی کا نہیں، بلکہ پورے اسپورٹس سسٹم کی سمت درست کرنے کا ہے۔

ان تمام کوچز کی سب سے بڑی مشترکہ خوبی یہ ہے کہ یہ خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے بے مثال محنت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زیرو سے کھلاڑی بنائے، کلب کھڑے کیے، اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا—وہ بھی اس نظام کے بغیر، جو دعویٰ تو بہت کرتا ہے مگر عملی طور پر نااہلی اور ناانصافی کی مثال بنا ہوا ہے۔

ڈاکٹر عیسیٰ کاکڑ بلوچستان کے ان عظیم سپوتوں میں سے ہیں جو اپنی نجی مصروفیات کے باوجود پاکستان تائیکوانڈو کو شاہ زیب خان جیسے باصلاحیت کھلاڑی دے چکے ہیں، جو آج پاکستان تائیکوانڈو ٹیم کے کپتان بھی ہیں۔ کوئٹہ میں کئی کلب ان کی نگرانی میں پروان چڑھ رہے ہیں، مگر افسوس کہ سرکاری سطح پر نہ ان کی خدمات کا اعتراف ہے اور نہ ہی سہولیات کی فراہمی۔

قمر زمان نہ صرف خود عالمی چمپیئن رہے بلکہ اپنی اس ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے بچوں اور پوتوں تک کی  نسل در نسل تربیت پر خود تمام تر وسائل کے ساتھ تربیت کرتے ھیں اور میدان میں موجود رہتے ھیں۔ جبکہ پاکستان سکواش میں انکے چیمپیئنز کا کوئی ثانی نہیں

اسی طرح کراچی میں اسپیڈ اسٹارز کلب کی روحِ رواں، روما الطاف، نہ صرف ایک کلب کی مالک ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کوچ بھی ہیں، جو خود کوچنگ اور ٹریننگ کے میدان میں عملی طور پر موجود رہتی ہیں۔ ایک خاتون ہونے کے باوجود وہ ہر چیلنج کا سامنا کرتی ہیں اور اپنی جیب سے بچوں اور بچیوں کی ٹریننگ کر رہی ہیں۔ ان ہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ معید بلوچ جیسے سپیڈ اسٹار پاکستان کے لیے متعدد بین الاقوامی اعزازات جیت چکے ہیں، اور نیشنل گیمز میں اسپیڈ اسٹارز کلب کی واضح برتری اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل کام کہاں ہو رہا ہے۔

دستگیر بٹ ایک عظیم میڈلسٹ بھی رہے اور ایک مثالی کوچ بھی ہیں۔ اپنے اوپر لگنے والے بین کا جواب انہوں نے شکوؤں سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے دیا۔ نوح دستگیر بٹ اور حنظلہ بٹ جیسے عالمی معیار کے ویٹ لفٹر تیار کیے، جنہوں نے کامن ویلتھ گیمز، سیف گیمز، ایشین گیمز اور دیگر عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اتنی بڑی کامیابیوں کے باوجود، دستگیر بٹ اور نوح بٹ کو ایک سال تک فیڈریشن کی جانب سے بین کا سامنا کرنا پڑا اور کئی اعزازات سے محروم رکھا گیا۔

فیاض بخاری پاکستان کے ان چند کوچز میں شامل ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ارشد ندیم جیسے سپر اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور ایشین سلور میڈلسٹ یاسر سلطان کے علاوہ خواتین چیمپئن فاطمہ جیسے کھلاڑی ان ہی کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ وہ خاموشی سے، مکمل لگن کے ساتھ، اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ جڑے رہتے ہیں—بغیر کسی لالچ، بغیر کسی شکایت کے۔

ان تمام کوچز کا المیہ ایک جیسا ہے۔ نہ فیڈریشن ان پر توجہ دیتی ہے، نہ کسی اسپورٹس بورڈ کو ان کے حقوق کی فکر ہے۔ نہ مالی مدد، نہ جدید سہولیات، نہ کوچنگ کورسز، اور نہ ہی کوئی ادارہ جو ان کی آواز بن سکے۔ اس کے برعکس، جعلی اور نااہل افراد کو بین الاقوامی ایونٹس میں کھلاڑیوں کے کوچ بنا کر بھیج دیا جاتا ہے—ایسے لوگ جو کھیل کی الف ب سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ اور جب کھلاڑی میڈل جیت کر آتے ہیں تو انعامات، اعزازات اور شہرت انہی نام نہاد کوچز کے حصے میں آتی ہے۔

فیڈریشنز انہی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فنڈز حاصل کرتی ہیں، افسران بیرونِ ملک دورے کرتے ہیں، میڈیا میں تشہیر ہوتی ہے، مگر اصل بنیاد—کلبز اور کوچز—ہمیشہ نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ 2025 میں بھی وہ لوگ، جو بغیر کسی لالچ کے اپنے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتے رہے، اداروں اور ذمہ داروں کی بے رخی کا شکار ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ یہ خاموشی ٹوٹے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بھر کے کوچز متحد ہو کر پاکستان کوچز کونسل کی بنیاد رکھیں—تاکہ اپنے حقوق کے تحفظ، مشترکہ مفادات کے دفاع، اور ادارہ جاتی بے حسی کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط، منظم اور باوقار آواز بلند کی جا سکے۔

کالم نگار شاہد الحق ایک اسپورٹس فلاحی کارکن، سابق نیشنل لیولکا باسکٹ بال کھلاڑی، مختلف قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ، اسپورٹس رائٹر، اینالسٹ اور  یوٹیوب چینل سپو فٹ  کے سی ای او اور ہوسٹ ہیں۔ انہیں اسپورٹس ایڈمنسٹریشن، بین الاقوامی ایونٹ مینجمنٹ، ایتھلیٹ ڈویلپمنٹ اور گراس روٹس اسپورٹس ریفارمز کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ پاکستان کے اسپورٹس سسٹم میں شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے لیے مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں اور کھلاڑیوں، کوچز اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment