Wednesday, 17 December 2025

پاکستان ہاکی: میدان، مینجمنٹ اور میرٹ—ہر محاذ پر شکست



 پاکستان ہاکی: میدان، مینجمنٹ اور میرٹ—ہر محاذ پر شکست

تحریر: کھیل دوست ، شاھدالحق 

پاکستان ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ پرو لیگ میں بدترین ناکامی محض چار ہارے ہوئے میچوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی مکمل ناکامی ہے جو برسوں سے بدانتظامی، گروپ بندی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ارجنٹائن اور نیدرلینڈز کے خلاف شکست نے صرف کھلاڑیوں کی کمزوری کو نہیں بلکہ اس پورے انتظامی ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا ہے جو خود قومی کھیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ٹورنامنٹ کے دوران چیف کوچ طاہر زمان کا اچانک ٹیم چھوڑ کر واپس آ جانا ایک غیر معمولی اور سنگین واقعہ ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایک اعلیٰ کوالیفائیڈ اور تجربہ کار کوچ ہونے کے باوجود طاہر زمان کو فیڈریشن کے اندر موجود سفارش، گروپ بندی اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کا سامنا رہا۔ بارہا نشاندہی اور انتباہ کے باوجود نہ تو ان کی تجاویز کو اہمیت دی گئی اور نہ ہی ٹیم کے زہریلے ماحول کو بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی، جس کے بعد حالات اس نہج تک پہنچے کہ کوچ کا واپس آنا ناگزیر ہو گیا۔

ٹیم کے اندر نظم و ضبط کی کمزوری کا ثبوت تیسرے میچ کے دوران اسسٹنٹ کوچ شیخ عثمان اور کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات سے بھی ملتا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ٹیم تکنیکی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور انتظامی بحران کا بھی شکار رہی۔

انتظامی نااہلی کی انتہا اس وقت سامنے آئی جب تیسرے میچ میں ٹیم لسٹ کے برعکس کھلاڑی میدان میں اتارے گئے، جس پر ٹورنامنٹ انتظامیہ نے پاکستان ٹیم سے باضابطہ وضاحت طلب کی۔ مزید برآں، ٹیم مینجر انجم سعید کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویے اور میچ کے بعد نشے میں ہونے کی اطلاعات نے قومی ٹیم کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔ سوال یہ ھے کہ کیا کہ ایک ایسے شخص کو ٹیم مینجر مقرر کیوں کیا گیا جسے بین الاقوامی ٹورنامنٹ مینجمنٹ سسٹم  کی بنیادی سمجھ تک حاصل نہیں تھی

اسی طرح نام نہاد ویڈیو اینالسٹ کا کردار بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے، جو تقریباً  ہر دورے میں ٹیم کے ساتھ نتھی ھوتا ھے جس کا اصل مقصد کھیل کی تکنیکی ویڈیوز، حریف ٹیموں کے اینالیسس اور کوچنگ اسٹاف کے لیے ویڈیو ریویو سیشنز تیار کرنے کے بجائے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک پر ذاتی تشہیر  اور چاپلوسی میں مصروف رہا۔ اس کے ساتھ ہر دورے میں مالشیے ارسلان کو نتھی کرنا—جو نہ صرف ناتجربہ کار ہے بلکہ ٹیم کے لیے غیر ضروری بھی—اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح قومی ٹیم کے وسائل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جہاں ٹیم کو ایک مستند ڈاکٹر اور فزیوتھراپسٹ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، وہاں ایسے غیر متعلقہ اور نااہل افراد کو غیر ملکی دوروں میں شامل رکھا جاتا ہے۔

یہ بدانتظامی صرف بین الاقوامی ایونٹس تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح پر منعقد ہونے والے ہاکی مقابلوں میں بھی یہی بدنما چہرہ نظر آتا ہے۔ قومی کھیلوں کے دوران سندھ ہاکی ایسوسی ایشن اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے درمیان کھینچا تانی کھل کر سامنے آئی، جس کے نتیجے میں شدید گروپ بندی دیکھنے کو ملی۔ متعدد تجربہ کار اور قابل انتظامی آفیشلز کو محض اس بنیاد پر خدمات سے محروم رکھا گیا کہ وہ فیڈریشن کی پسندیدہ فہرست میں شامل نہیں تھے۔

اس دوران اسٹیڈیم میں فیڈریشن کے خلاف نعرے بازی، میچوں میں غیر معیاری اور متنازع ریفری ججمنٹس، اور نااہل آفیشلز کی تعیناتی نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ نتیجتاً کئی مواقع پر کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان تقرار بازی، بدکلامی اور تلخی نے کھیل کے ماحول کو آلودہ کر دیا، جو کسی بھی قومی ایونٹ کے لیے شرمناک امر ہے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ قومی سطح پر کراچی اور سندھ کے کھلاڑیوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے، جو پاکستان ہاکی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ کراچی، گوجرا، سرگودھا، لاہور اور بنوں کی طرح ہاکی کا ایک بڑا حب ہے، جہاں آج بھی کئی ایسے باصلاحیت اور بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی موجود ہیں جو محض علاقائی تعصب اور گروپ بندی کی نذر ہو رہے ہیں۔ میرٹ کا یہ قتل نہ صرف کھلاڑیوں کا مستقبل تباہ کر رہا ہے بلکہ قومی ٹیم کی بنیادیں بھی کمزور کر رہا ہے۔

اب جبکہ کلبوں کی اسکرونٹی کا عمل شروع ہو چکا ہے، یہ ایک نادر موقع ہے کہ شفافیت، ایمانداری اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ اگر اس عمل میں واقعی غیر جانبداری برتی گئی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا تو آئندہ انتخابات میں فیڈریشن سے اس گند کو صاف کیا جا سکتا ہے جو برسوں سے پاکستان ہاکی کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ 

حقیقت واضح ہے: جب تک پاکستان ہاکی فیڈریشن میں مخلص قیادت نہیں آئے گی، جب تک سلیکشن، کوچنگ اور مینجمنٹ میں میرٹ کو ترجیح نہیں دی جائے گی، اور جب تک سیاسی، عسکری اور ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مکمل بین الاقوامی پروفیشنل معیار اختیار نہیں کیا جائے گا، پاکستان ہاکی کبھی اپنے کھوئے ہوئے مقام پر واپس نہیں آ سکے گی۔ لالچی، لفنگے اور گھٹیا کرداروں سے نجات ہی واحد حل ہے—ورنہ قومی کھیل صرف ماضی کی یاد بن کر رہ جائے گا۔

شاہد الحق

سپورٹس فِلانتھروپسٹ، سابق نیشنل باسکٹ بال پلیئر، متعدد قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ، اسپورٹس رائٹر، جرنلسٹ اور CEO/Host — SPOFIT YouTube Channel۔

بین الاقوامی سپورٹس ایونٹس کے آرگنائزر اور پاکستان میں اسپورٹس ریفارمز کے مستقل وکیل

۔



No comments:

Post a Comment