پاکستان ہاکی کا نوحہ: ایڈہاک ازم، حکومتی مداخلت اور تباہی کا سفر
تحریر: شاہد الحق
پاکستان ہاکی ٹیم پرو لیگ کے تمام میچز ہار گئی۔ یہ محض ایک ٹورنامنٹ کی شکست نہیں، بلکہ اس کھیل کی آخری سانسوں کا اعلان ہے جسے کبھی ہم نے دنیا بھر میں فخر کا نشان بنایا تھا۔ ہمیشہ کی طرح، اس عبرت ناک ناکامی کے بعد بھی ہمارے ہاں روایتی تماشہ شروع ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے چند مبصرین ٹیم کی فٹنس اور باہمی ہم آہنگی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں؛ ماضی کے کچھ نام نہاد 'بابے اولمپئنز' ٹیم مینجمنٹ، عمر رسیدہ کوچز اور سلیکشن کمیٹی کو سولی پر چڑھا رہے ہیں، جبکہ مخلص شائقین کا ایک گروہ اب بھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کی اپیلیں کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت ان سب سے مختلف اور کہیں زیادہ تلخ ہے۔جب پاکستان ہاکی فیڈریشن پر 'ایڈہاک' لگائی گئی تھی، تو پرانی کرپٹ مافیا کے خاتمے پر ہر طرف خوشیاں منائی گئیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ عمل ماضی میں بھی کئی وزرائے اعظم کے نوٹیفیکیشنز جیسا ہی تھا، جسے میں نے تب بھی اور اب بھی محض ایک 'حکومتی مداخلت' قرار دیا ہے۔ کرسی کی کشش یہاں اتنی اندھی ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے، وہ اپنے اصل مینڈیٹ کو بھول جاتا ہے۔ ایک دو ٹورز گزرتے ہی وہی پرانا راگ دوبارہ الاپا جانے لگتا ہے کہ "اس کو ہٹاؤ، وہ ٹھیک نہیں، یہ نہ کرو۔"بین الاقوامی کھیلوں کے مسلمہ قوانین کے مطابق، کسی بھی ملک کے وزیر اعظم، حکومتی عہدیداروں یا عسکری حکام کا کھیل کے اندرونی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ حکومت کا کام صرف مالی و انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فیڈریشنز، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے اصولوں کے تحت کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیل کی ترقی کے لیے آزادانہ کام کرتی ہیں۔ اگر اس خودمختاری میں حکومتی سطح پر مداخلت ہو، تو اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس کھلی مداخلت پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اب تک خاموش کیوں ہیں؟ ایڈہاک کمیٹی کے صدر اپنے بنیادی اختیارات سے تجاوز کر کے مستقل تعیناتیاں کیسے کر رہے ہیں؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وقت کی کمی اور ٹورنامنٹ کی فوری تیاری کے لیے کچھ ہنگامی اقدامات ضروری تھے، تو سوال یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کلب سکروٹنی، کڑے احتساب اور شفاف انتخابات کے لیے—جو ایڈہاک کا اصل اور بنیادی مینڈیٹ تھا—ایک قدم بھی آگے کیوں نہیں بڑھایا گیا؟اب جب عوامی دباؤ اور شور بڑھ رہا ہے، تو ایڈہاک صدر کو چاہیے کہ وہ اپنے اصل مینڈیٹ پر واپس آئیں۔ فیڈریشن میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور شفاف نظام رائج کریں اور جلد از جلد انتخابات کروا کر نظام حقیقی اور منتخب عہدیداروں کے سپرد کریں۔ہماری روایتی سوچ یہ ہے کہ جب بھی ٹیم ہارتی ہے، ہم کسی بیرونی کوچ، ٹرینر یا سپورٹ سٹاف کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دفعہ یہ اکھاڑ پچھاڑ کرنے یا کسی اور بگٹی، وانی، رانا یا باجوہ کو لانے کی بجائے، پاکستان ہاکی کو کسی بین الاقوامی معیار کے 'اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر' کی ضرورت ہے جو کسی سیاسی یا ذاتی دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کر سکے۔ ایک ایسا ماہر جو ہمارے فرسودہ ہاکی ڈھانچے کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق استوار کرے اور جو باقی کھیلوں کی فیڈریشنز کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ بنے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت میرٹ پر تمام کھیلوں پر یکساں توجہ دے سکے گی، سرکاری سطح پر ہونے والی بندر بانٹ کا خاتمہ ہوگا، اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے داغ سے بھی نجات ملے گی۔ جب نظام ٹھیک ہوگا، تو ٹیم میں میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس خود بخود جنم لے گی جو ایک طویل المدتی اور پائیدار مستقبل کی ضامن بنے گی۔یہ تمام انتظامی مسائل اور زوال اس وقت جنم لیتے ہیں جب متعلقہ حلقوں میں باہمی اتفاق، یکجہتی اور ایک دوسرے کا احترام ختم ہو جائے۔ یہاں ہر کوئی خود کو دوسرے سے برتر سمجھتا ہے اور مخالف کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے سے کتراتا ہے۔ لہذا، اب وقت آ گیا ہے کہ کسی گورے کوچ یا عارضی عملے پر پیسہ بہانے کے بجائے، ایک بااختیار، غیر جانبدار اور طاقتور بین الاقوامی ایڈمنسٹریٹر لایا جائے جو بغیر کسی سفارش اور دباؤ کے فیصلے کرے۔ یہی پاکستان ہاکی کو بچانے کا واحد اور آخری حل ہے۔
مصنف کے بارے میں:شاہدا لحق کھیلوں کے معاملات، خاص طور پر قومی کھیل ہاکی کے انتظامی ڈھانچے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آپ کھیلوں کی فیڈریشنز میں شفافیت، خود مختاری اور گڈ گورننس کے علمبردار ہیں اور ان موضوعات پر مسلسل آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment