ایک اور کھلاڑی کا قتل — جب نظام اپنے ہیروز کو نگل جاتا ہے
ارشد ندیم کی تنزلی صرف ایک شکست نہیں، پاکستان کے کھیلوں کے نظام کا نوحہ ہے
تحریر: شاہد الحق
کبھی کبھی ایک مقابلہ صرف میڈل کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ پورے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیتا ہے۔
گلاسگو میں ہونے والے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل نے بھی یہی کیا۔
سری لنکا کے رمیش تھرنگا پاتھیراگے نے 89.75 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا، جبکہ ان کے ہم وطن یشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کی ذاتی بہترین تھرو کرتے ہوئے برونز میڈل جیت لیا۔
اور دوسری طرف...
پیرس اولمپکس 2024 کے گولڈ میڈلسٹ، عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ہیرو ارشد ندیم صرف 77.63 میٹر کی تھرو کر سکے، ابتدائی تین کوششوں کے بعد ٹاپ آٹھ میں بھی جگہ نہ بنا سکے اور نویں نمبر پر مقابلے سے باہر ہوگئے۔
یہ صرف ایک خراب دن نہیں تھا۔
یہ ایک ایسے سفر کا منطقی انجام محسوس ہوا جس کے آثار کئی ماہ سے نمایاں تھے۔
دنیا کے بہترین جیولن تھرور اتفاق سے چیمپئن نہیں بنتے۔ ان کے پیچھے برسوں کی سائنسی منصوبہ بندی، بائیو مکینیکل تجزیہ، عالمی معیار کی کوچنگ، منظم مقابلہ جاتی کیلنڈر اور مسلسل ٹریننگ ہوتی ہے۔
اس فائنل میں شامل پانچ ایتھلیٹس اپنے کیریئر میں 90 میٹر یا اس سے زیادہ تھرو کر چکے تھے۔ ہر ایک اپنے کوچ کے ساتھ تکنیکی تیاری کے اعلیٰ معیار کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے واحد اولمپک چیمپئن کو کیا دیا؟میرے نزدیک یہی وہ سوال ہے جس سے اب فرار ممکن نہیں۔
یہ تاثر مسلسل مضبوط ہوتا گیا کہ اولمپک گولڈ کے بعد ارشد ندیم کی ترجیحات میں کھیل سے ہٹ کر تجارتی، تشہیری اور عوامی سرگرمیوں کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اگرچہ ایک عالمی چیمپئن کے لیے اسپانسرشپ اور عوامی پذیرائی فطری امر ہے، مگر جب یہی سرگرمیاں تکنیکی تیاری اور مسلسل تربیت پر غالب آ جائیں تو اس کے اثرات میدان میں ضرور نظر آتے ہیں۔
کھیلوں کے حلقوں میں یہ سوال بھی مسلسل اٹھایا جاتا رہا کہ ارشد ندیم، یاسر اور فاطمی جیسے قومی چمپیئنز کے اصل کوچ فیاض بخاری کا کردار کیوں محدود ہوتا چلا گیا؟ یہ بھی کہا گیا کہ انتظامی معاونت کے لیے مقرر کیے گئے افراد وقت کے ساتھ کوچنگ کے فیصلوں میں بھی اثر انداز ہونے لگے۔ اگر ان تاثرات میں حقیقت کا کوئی حصہ بھی موجود ہے تو متعلقہ اداروں کو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہئیں، کیونکہ ایک اولمپک چیمپئن کی تیاری کسی تجربہ گاہ کا موضوع نہیں ہوتی۔
دوسری طرف بھارت کو دیکھیے۔
نیرج چوپڑا کے اولمپک گولڈ کے بعد بھارت نے جیولن تھرو کو قومی منصوبہ بنا دیا۔ سرکاری سرپرستی، جدید کوچنگ، بین الاقوامی کیمپس، سائنسی سپورٹ اور مسلسل مقابلوں نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔
آج بھارت صرف نیرج چوپڑا پر انحصار نہیں کرتا۔
اس کے پاس یشویر سنگھ، روہت یادو، سچن یادو، شیوم لوہاکرے، ارشدیپ سنگھ اور کئی دوسرے بین الاقوامی معیار کے جیولن تھرور موجود ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر ایک کھلاڑی ناکام بھی ہو جائے تو دوسرا پوڈیم پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ہم نے ایک ارشد ندیم پیدا کیا، لیکن اس کے بعد دوسرا ارشد تیار کرنے کے لیے کوئی قومی پروگرام، کوئی ٹیلنٹ پائپ لائن اور کوئی مربوط کوچنگ سسٹم قائم نہ کر سکے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہمارا واحد ہیرو لڑکھڑاتا ہے تو پورا ملک خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔
میرے نزدیک اس شکست کی ذمہ داری صرف ارشد ندیم پر ڈال دینا ناانصافی ہوگی۔
اصل سوال پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، متعلقہ فیڈریشن اور ان تمام ذمہ داران سے ہے جنہیں اولمپک گولڈ کے بعد اس قومی اثاثے کی تکنیکی، جسمانی اور ذہنی تیاری کو اولین ترجیح دینی چاہیے تھی۔
اگر واقعی ایک عالمی چیمپئن کی ٹریننگ کے بجائے تشہیری سرگرمیوں، تقریبات اور تجارتی مصروفیات کو زیادہ اہمیت دی گئی تو یہ صرف ایک کھلاڑی کا نہیں بلکہ قومی مفاد کا نقصان ہے۔
یہ پہلا واقعہ بھی نہیں۔
نوح دستگیر بٹ کے ساتھ ہونے والے تنازعات، شاہ حسین شاہ کے کیریئر میں پیش آنے والی رکاوٹیں اور دیگر عالمی معیار کے پاکستانی ایتھلیٹس کے تجربات پہلے ہی اس کھیل دشمن نظام پر کئی سوالات اٹھا چکے ہیں۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی کبھی نہیں رہی کمی ہمیشہ نظام, منصوبہ بندی، احتساب اور پیشہ ورانہ قیادت کی رہی ہے۔
آج بھی وقت ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور متعلقہ فیڈریشنز ارشد ندیم کے اولمپک گولڈ کے بعد کے پورے تربیتی، کوچنگ اور انتظامی ڈھانچے کا آزادانہ جائزہ لیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس میں شمار ہونے والا ایک کھلاڑی اتنے مختصر عرصے میں اپنی بہترین کارکردگی سے اتنا دور کیوں چلا گیا۔
اگر ہم نے اس سوال کا دیانت داری سے جواب تلاش نہ کیا تو یقین رکھیے، کل کوئی اور ارشد ندیم بھی اسی نظام کی نذر ہو جائے گا۔
شاہد الحق
Sports Philanthropist | Senior Sports Journalist | Founder & President, Sports & Fitness Association of Pakistan (SFAP) | CEO, SPOFIT HUB | Former National Basketball Player | International Fitness Expert | Member, AIPS (Association Internationale de la Presse Sportive)

No comments:
Post a Comment