کرکٹ کی پچ سے نیزہ بازی کے میدان تک: ارشد ندیم اور رمیش تھرنگا کی کامیابی کا سائنسی تجزیہ
تحریر: شاھدالحق (ماہرِ فٹنس و کھیل صحافی)
جنوبی ایشیا میں جب کوئی بچہ فٹنس اور رفتار کا مظاہرہ کرتا ہے، تو ہماری پہلی نظر کرکٹ کی پچ پر جاتی ہے۔ ارشد ندیم اور سری لنکا کے رمیش تھرنگا بھی اسی خواب کے ساتھ جوان ہوئے اور کرکٹ کی گیند کو اپنی تیز رفتاری سے خوف کی علامت بناتے رہے۔ لیکن آج یہ دونوں نام کرکٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ جیولن تھرو کی دنیا میں 90 میٹر کی تاریخی حد عبور کرنے کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر چمک رہے ہیں۔ بطور ایک فٹنس ایکسپرٹ اور کھیل صحافی، میرے لیے یہ محض ایک خوبصورت کہانی نہیں، بلکہ خالص اسپورٹس سائنس (Sports Science) اور بائیو مکینکس کا شاہکار ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ نیزہ صرف بازو کی طاقت سے پھینکا جاتا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے، جیولن اور فاسٹ باؤلنگ دونوں کی روح ایک ہی اصول پر قائم ہے، جسے ہم "کائنیٹک چین" (Kinetic Chain) کہتے ہیں۔ طاقت کبھی بازو سے پیدا نہیں ہوتی، یہ زمین سے جنم لیتی ہے۔ جب ارشد ندیم یا رمیش تھرنگا اپنے مخصوص رن اپ کے بعد آخری قدم لیتے ہیں، تو ان کی پچھلی ٹانگ میں 'ٹریپل ایکسٹینشن' (ٹخنے، گھٹنے اور کولہے کا بیک وقت سیدھا ہونا) زمین سے ایک شدید فورس پیدا کرتا ہے۔اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ سائنسی ہے۔ دونوں کھیلوں میں "فرنٹ لیگ بریس" (Front-Leg Brace) یعنی اگلی ٹانگ کا زمین پر ایک مضبوط دیوار کی طرح جم جانا سب سے اہم ہے۔ جب تیز رفتاری سے بھاگتا ہوا کھلاڑی اچانک بریک لگاتا ہے، تو نیچے کی تمام توانائی اوپر دھڑ (Torso) کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اس لمحے کولہے پہلے گھومتے ہیں اور کندھے پیچھے رہ جاتے ہیں (Hip-Shoulder Separation)۔ جسم میں پیدا ہونے والا یہ لچکدار کھچاؤ نیزے کو وہ جادوئی رفتار دیتا ہے جو اسے پچاس یا ساٹھ میٹر کے بجائے نوے میٹر پار پھینک دیتی ہے۔ فاسٹ باؤلرز کا اعصابی نظام (Nervous System) اور مسل میموری پہلے ہی اس میکانزم کے عادی ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں یہ تکنیک سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر فاسٹ باؤلر نیزہ اٹھا کر چیمپئن بن سکتا ہے۔ جیولن تھرو میں ایک باؤلر کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچک (Mobility) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم کو پیچھے کی طرف انگریزی کے حرف "C" کی طرح موڑنا ریڑھ کی ہڈی اور کمر کے نچلے حصے پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔ اگر کھلاڑی کے پاس بہترین کور اسٹیبلٹی اور مضبوط کندھے (Rotator Cuff) نہ ہوں، تو وہ 'جیولن ایلبو' (کہنی کے لِگامنٹ کا پھٹ جانا) جیسی کیریئر ختم کرنے والی چوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ارشد ندیم کی کہنی کی سرجریز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کھیل میں انسانی جسم کتنے بڑے خطرے سے گزرتا ہے۔برصغیر کے کوچز اور اسپورٹس بورڈز کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں اپنے ان فاسٹ باؤلرز پر نظر رکھنی چاہیے جو شاید کرکٹ کی لائن اور لینتھ میں پیچھے رہ گئے ہوں لیکن ان کے پاس زبردست رن اپ اسپیڈ اور دھماکہ خیز بازو کا جھٹکا موجود ہو۔ اگر ان کی اس قدرتی صلاحیت کو باربیل جمپس، میڈیسن بال تھروز اور مناسب بائیو مکینیکل ٹریننگ کے سانچے میں ڈھالا جائے، تو ہم گلی محلوں سے مزید ارشد ندیم پیدا کر سکتے ہیں۔ کرکٹ کی پچ سے پوڈیم تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ طاقت اور رفتار کبھی ضائع نہیں ہوتیں، بس انہیں درست سمت دینے والے وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔
مصنف کے متعلق: شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ماہر فٹنس ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ بھی رہے جبکہ سپورٹس اور فزیکل ایجوکیشن سائنسز کی تدریس سے بھی منسلک رہے چکے ھیں۔


No comments:
Post a Comment