تمغوں کی ہوس یا موت کا سودا؟ نتالیہ خان اور ’آپریشن جیسمین‘ کے ہولناک حقائق
تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق
پاکستان کی اسپورٹس ہسٹری میں 17 اپریل 2026 کا دن ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب ایک ابھرتی ہوئی اسٹار، سائیکلنگ اور رؤنگ کی چیمپئن نتالیہ خان، گردوں کے فیل ہونے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئیں۔ بظاہر یہ ایک طبعی موت نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ڈوپنگ، جاہل کوچز اور "آپریشن جیسمین" کے وہ لرزہ خیز حقائق پوشیدہ ہیں جو ہمارے کھیلوں کے ڈھانچے پر ایک زوردار طمانچہ ہیں۔
نتالیہ خان محض ایک کھلاڑی نہیں تھیں؛ وہ ایک سرٹیفائیڈ فزیوتھراپسٹ تھیں، جو انسانی جسم کی ساخت اور اس پر ادویات کے مہلک اثرات کو بخوبی سمجھتی تھیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر ہونے کے باوجود وہ ان زہریلے اسٹیرائڈز کے چنگل میں کیسے پھنسیں؟ اس کا جواب لاہور کے ان تربیتی مراکز میں چھپا ہے جہاں وہ اپنی ٹریننگ کر رہی تھیں۔ لاہور، جو پاکستان کے کھیلوں کا گڑھ ہے، آج کل ایسے روایتی "استادوں" کی آماجگاہ بن چکا ہے جو خود تو جاہل ہیں، لیکن وہ کھلاڑیوں کی تقدیر کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ یہ کوچز نوجوانوں کو یہ پٹی پڑھاتے ہیں کہ "بغیر دوائی کے جیت ممکن نہیں"۔ نتالیہ جیسی ہونہار بیٹی کو بھی اسی نظام کے دباؤ اور "شارٹ کٹ" کامیابی کی ضمانت دے کر زہر کی راہ پر ڈالا گیا۔
اسی دوران "آپریشن جیسمین" نے اس گندے دھندے کے وہ کچے چٹھے کھولے جس نے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی۔ انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ITA) اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) نے جب پاکستان ویٹ لفٹنگ کے خلاف تحقیقات کیں، تو ہوش ربا انکشافات ہوئے۔ کئی کھلاڑیوں اور کوچز کے علاوہ فیڈریشن کے صدر حافظ عمران بٹ اور ان کے بیٹے پر ممنوعہ ادویات کے استعمال میں معاونت کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد ویٹ لفٹرز پر پابندی لگی، فیڈریشن بین ہوئی اور پاکستان کے نام پر ایسا دھبہ لگا جو مٹائے نہیں مٹتا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے بین الاقوامی اسکینڈل اور تاحیات پابندیوں کے باوجود پاکستان اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ وزارت نے کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لیا۔ اصولی طور پر تو اس وقت ملک میں "کھیلوں کی ایمرجنسی" نافذ ہونی چاہیے تھی، مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ پنجاب اسپورٹس بورڈ آج بھی اپنی حدود میں موجود جمز (Gyms) میں انہی متنازع لوگوں کی معاونت سے ویٹ لفٹنگ اور باڈی بلڈنگ کے فنکشن کروا رہا ہے جن پر دنیا بھر میں پابندی ہے۔
جبکہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن حافظ عمران پر پابندی کے باوجود اہم عہدے پر فائز کیا ھوا ھے۔
نتالیہ خان کا ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنا اور پھر ان کے گردوں کا جواب دے جانا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے جو ہمارے حکومتی ایوانوں میں طاری ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی واضح پالیسی نہ دی اور ان "موت کے سوداگروں" کو لگام نہ ڈالی، تو وہ دن دور نہیں جب بین الاقوامی ادارے پاکستان کے کھیلوں پر مکمل پابندی لگا دیں گے۔
نتالیہ خان کی موت ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ اس امید کا قتل ہے کہ پاکستان کے میدان منشیات سے پاک ہوں گے۔ ہم کب تک اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا کر ان جاہل کوچز اور بے حس عہدیداروں کو تمغے سجاتے دیکھیں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ تماشائی بننے کے بجائے اس نظام کی جراہی کی جائے۔
شاہد الحق (کھیل دوست)
شاہد الحق ایک تجربہ کار اسپورٹس جرنلسٹ اور کھیلوں کے تجزیہ کار ہیں، جو طویل عرصے سے پاکستان میں کھیلوں کے ڈھانچے، کھلاڑیوں کے حقوق اور ڈوپنگ جیسے سنگین مسائل پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ ان کی تحریریں کھیلوں کی دنیا میں اصلاحات اور شفافیت کے لیے ایک مؤثر آواز تصور کی جاتی ہیں۔

No comments:
Post a Comment